شادی اور نکاح ۔۔۔ ایک اختلافی نوٹ


099میں مفتی عبدالقوی صاحب کے شادی اور نکاح والے موقف پر سعد عثمان صاحب کی تحریر کے حوالے سے بات کرنا چاہتا ہوں۔

حیرت ہے کہ ’ہم سب‘ آزادی اظہار کا مان رکھنے کے لئے ایسے مضامین بھی شائع کرنا ضروری سمجھتا ہے جو مذہبی معاملات کو سلجھانے اور واضح نقطہ نظر سامنے لانے کی بجائے نئے متنازع امور کو زیر بحث لاکر عام مسلمانوں کو مزید کنفیوژ کرتے ہیں۔ پاکستان کے مسلمان تعلیم کی کمی، متعدد سماجی تعصبات اور جذباتی لحاظ سے اپنے عقیدہ سے لگاؤ کے سبب نہیں جانتے کہ دین کے نام پر جو سبق انہیں یاد کروایا جارہا ہے، اس کا اصل مقصد کیا ہے۔ اور ایک خاص موقع پر غیر ضروری مباحث شروع کرنے کا کیا فائدہ یا نقصان ہو سکتا ہے۔ مسلمان عام طور سے فکری پسماندگی کے باعث مذہب کے نام پرنام نہاد مذہبی رہنماؤں اور ماہرین کے جبر اور تسلط کا شکار ہیں۔ اب انہیں بیوی اور نکاح کے گمراہ کن تصور سے بچانے کے لئے زیر نظر مضمون میں جن مباحث کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے، وہ اس سے بھی زیادہ گمراہ کن اور آؤٹ ڈیٹد Out Dated  ہیں۔

صاحب مضمون نے سارا زور اس بات پر صرف کیا ہے کہ مرد کی شہوانی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے اسلام نے کتنی فکر مندی کا اظہار کیا ہے۔ لیکن وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں (جو فی زمانہ فطری اور اہم سوال بھی ہے اور اسے صرف مذہب کا نام لے کر مسترد کرنے سے عقیدہ کو ہی نقصان پہنچے گا) کہ قرآن اور شریعت عورت کی جنسی ضرورت اور خواہش کے حوالے سے کیا حکم جاری کرتا ہے۔ جو عالم دین یا مذہب کی تفہیم رکھنے والا شخص اس اہم پہلو کو نظر انداز کرتا ہے یا یہ قرار دیتا ہے کہ عورت کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا تو وہ خود اس اصول کی نفی کرتا ہے کہ اسلام انصاف عام کرتا ہے اور تمام لوگوں کو مساوی حقوق عطا کرتا ہے۔ میں کوئی عالم دین نہیں ہوں اور نہ گنجلک اور غیر ضروری مذہبی مباحث کا حصہ بننا چاہتا ہوں لیکن آج جب عورت کے مساوی سماجی، سیاسی اور اقتصادی حقوق کی جدوجہد کے حوالے سے اصولی طور پر ہر عالمی فورم پر اس ضرورت اور اہمیت کو تسلیم کرلیا گیا ہے تو اسلام کے حوالے سے باندیوں کا ذکر، ایک بیوی کے ہوتے مرد کی شہوانی ضرورت پر پریشانی کا اظہار اور اسے پوری کرنے کے لئے شرعی طریقوں کی تلاش، حق کی بالا دستی نہیں بلکہ ایک سچے مذہب کو بدنام کرنے کی کوشش کے مترادف ہے۔

آج کا جو عالم دین یہ مؤقف اختیار کرنے سے قاصر ہے کہ عورت اور مرد برابر ہیں اور دونوں کی ضرورتیں اہم ہیں۔ اور کسی فریق کو ایک ساتھی کے ہوتے زیادہ ساتھیوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اسے چاہئے کہ علم کے یہ دبستان وہ حفاظت سے اپنی لذت پوری کرنے کے لئے محفوظ رکھے، ان سے مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح اگر تبدیل ہوتے ہوئے انسانی سماج میں نئے ضرورتوں کے تحت اصل ماخذ سے دلیل تلاش کرنے کا کام ممکن نہیں ہے اور ہر معاملہ میں چار آئمہ کی فقہ ہی حرف آخر رہے گی، تو یہ گھوڑے کو گاڑی کے پیچھے باندھنے والا رویہ ہے۔ اب اس حوصلہ اور علمی استعداد کی ضرورت ہے کہ کوئی یہ ثابت کرسکے کہ قرآن ہمارے آج کے مسائل اور چیلنجز کا مستک جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہزار بارہ سو برس پیچھے لے جانے کا کا م تو بہت لوگ کررہے ہیں۔ ’ہم سب‘ اور وجاہت مسعود کیوں اس کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔

(محترم سید مجاہد علی ہم سب کی مجلس مصنفین کے بانی رکن ہیں۔ انہوں نے مذہب کے شائستہ تصور کے اندر رہتے ہوئے مضبوط دلائل سے اپنےاختلاف کا اظہار کیا ہے۔ تاہم یہ وضاحت ضروری ہے کہ “ہم سب” نے ابتدائی طور پر مفتی عبدالقوی صاحب کا موقف شائع نہیں کیا تھا کیونکہ ہم کسی سنسنی خیزی کا حصہ نہیں بننا چاہ رہے تھے۔ تاہم سوشل میڈیا پر یہ بحث شروع ہونے کے بعد عثمان سعد صاحب کا موقف موصول ہوا۔ عثمان سعد صاحب نے کوئی اشتعال انگیزی نہیں کی بلکہ اپنی رائے مذہب کی روشنی میں معتدل انداز میں دی جس میں وہ پہلو موجود ہیں جن کی طرف مجاہد علی نے اشارہ کیا ہے۔ “ہم سب” ادارتی موقف کے مطابق عورت اور مرد کی قانونی، معاشی اور سیاسی مساوات کا حامی ہے۔ تاہم “ہم سب” کی پالیسی اظہار رائے کی ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ ہر نوع کا نقطہ نظر سامنے آئے تا کہ پڑھنے والا خود سے اچھے برے کا فیصلہ کر سکے۔ مدیر)


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 418 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “شادی اور نکاح ۔۔۔ ایک اختلافی نوٹ

  • 11-03-2016 at 12:43 pm
    Permalink

    حیرت ہے کہ ’ہم سب‘ آزادی اظہار کا مان رکھنے کے لئے ایسے مضامین بھی شائع کرنا ضروری سمجھتا ہے جو مذہبی معاملات کو سلجھانے اور واضح نقطہ نظر سامنے لانے کی بجائے نئے متنازع امور کو زیر بحث لاکر عام مسلمانوں کو مزید کنفیوژ کرتے ہیں. I agree with my namesake

Comments are closed.