پروفیسر ریدق کی بیٹی، فل برائیٹ سکالرشپ اور شادی


پروفیسر ریدق نہایت اعلی پائے کے بااصول شخص ہیں۔ کچھ باتیں آپ کے گوش گزار کرتا ہوں تو آپ بھی میری طرح ان کے مرید ہو جائیں گے۔

پروفیسر ریدق ایک ایسے مشکل مضمون کے ماہر استاد تھے جو طلبا اور طالبات میں مشکل سمجھا جاتا ہے۔ یہ مضمون پڑہنے والے اکثر سٹوڈنٹس کو ایکسٹرا ٹیوشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے اس مضمون کے عام استاد ٹیوشن کی مد میں لاکھوں روپے ماہانہ کماتے ہیں۔ لیکن پروفیسر ریدق نے اصول بنا لیا تھا کہ ٹیوشن کبھی نہیں پڑہانی۔ ان کا اعلان تھا کہ جو سٹوڈنٹس کلاس کے علاوہ پڑہائی میں مدد چاہتے ہیں وہ کسی وقت بھی میرے پاس آ سکتے ہیں۔ کالج اور گھر دونوں کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں۔ پڑہائی میں جتنی بھی مدد چاہیں لیں مگر یہ ملے گی مفت۔ پوری زندگی تمام سٹوڈنٹس کی مفت مدد کی اور ٹیوشن کی مد میں کبھی ایک پیسہ بھی نہیں کمایا۔ کتنے ہی طلبا اکثر پڑہنے آتے، چائے بھی پیتے اور مفت کی ٹیوشن بھی لیتے۔

پروفیسر صاحب ایک شریف النفس آدمی کے طور پر سارے شہر میں مشہور تھے۔ لڑکیوں کے والدین اپنی بیٹیوں کو ان کے پاس پڑہنے بھیجنے میں بہت “سیف” محسوس کرتے تھے۔ پڑہاتے بھی بہت ہی اچھا تھے۔ اس لیے کئی مرتبہ ایسے ہوا کہ طالبات کے والدین نے ان سے اپنی بیٹیوں کو ٹیوشن پڑہانے کی درخواست کی اور منہ مانگے دام دینے کی پیشکش کی لیکن پروفیسر صاحب اپنے اصول پر قائم رہے۔ ان کا جواب ایک ہی تھا کہ مفت میں ہر روز آ کر پڑھ سکتے ہیں لیکن پیسوں سے نہیں۔

پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ ان کا پڑہانے کا طریقہ نہایت ہی شاندار تھا اور بہت محنت کرتے تھے اس لیے سب لوگ انہیں پسند کرتے تھے۔ اپنی کلاس سے کبھی بھی غیرحاضر نہ ہوتے تھے۔ کلاس میں 110 فیصد دینے کے قائل تھے۔ ان کے دشمن بھی گواہی دیں گے کہ انہوں نے اپنے کام کے ساتھ کبھی بدیانتی نہیں کی۔

اپنے طالب علموں کے ساتھ ان کا رویہ بہت ہی متوازن تھا۔ بہت اچھی دوستی اور بے تکلفی کے قائل تھے لیکن ضرورت پڑنے پر شدید ناراضگی کا اظہار بھی کرتے تھے۔

کبھی جھوٹ نہیں بولتے تھے۔ وہ سفارش کے قائل نہ تھے۔ نہ کسی کو ناجائز کام کی درخواست کرتے اور نہ کسی کی مانتے تھے۔ اگر کوئی کبھی ان کے پاس آتا کہ عملی امتحان (پریکٹیکلز) میں بچے کی تھوڑی مدد کر دیں تو انتہائی دیدہ دلیری سے صاف انکار کر دیتے۔ پہلے چند سالوں کے بعد لوگوں کو ان کے اس رویے کا علم ہو گیا اور ان کی زندگی آسان ہو گئی۔ کوئی اس قسم کی درخواست لے کر آتا ہی نہیں تھا۔ وہ باقی دوستوں کو بھی یہی مشورہ دیتے تھے کہ ایک دفعہ “ٹکا” کے انکار کرو۔ لوگ بالکل ناراض نہیں ہوتے اور دوبارہ ایسی درخواست بھی نہیں کرتے۔

پروفیسر صاحب مذہبی تھے لیکن بہت لبرل بھی تھے۔ مثلا شاگردوں یا دوستوں کی محفل میں بیٹھے ہوتے اور نماز کا وقت ہو جاتا تو نماز ادا کرنے کی خاطر اٹھ کر چلے جاتے لیکن حاضرین مجلس میں اگر ایسے لوگ ہوتے جو نماز پڑہنے کے عادی نہ ہوتے تو انہیں کبھی بھی دعوت نہ دیتے۔ رمضان میں خود کبھی روزہ نہ چھوڑتے لیکن اگر کوئی ایسا مہمان آ جاتا جو روزے سے نہ ہوتا تو اس کی خاطر مدارت ضرور کرتے۔ فروٹ اور پانی وغیرہ مہمان کے سامنے رکھ کر خود تھوڑی دیر غائب ہو جاتے۔

پروفیسر صاحب ایک قناعت پسند آدمی ہیں اور سادہ زندگی گزارنے کے قائل ہیں۔ سادہ اور صاف ستھرا لباس پہنتے ہیں اور موٹر سائیکل کو سواری کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ایک سادہ سی گاڑی صرف اس وقت خریدی جب فیملی بڑی ہو جانے کی وجہ سے موٹر سائیکل پر سما نہیں سکتی تھی۔ پھر بھی گاڑی صرف ضرورت کے وقت ہی استعمال کرتے زیادہ تر سفر موٹر سائیکل پر ہی کرتے ہیں۔ دوسروں کے معاملے میں پروفیسر صاحب ایک معقول اور سخی آدمی ہیں۔ بہت ہی اچھے مہمان نواز ہیں۔ وہ دوستوں اور شاگردوں پر ہمیشہ پیسے خرچ کرتے ہیں۔ خاص طور پر ان کے شاگردوں نے تو پروفیسر صاحب کے خرچے پر بڑے مزے اڑائے ہیں۔

وہ ایک بزلہ سنج آدمی ہیں۔ ان کی محفل میں کوئی بور نہیں ہوتا۔ کئی لوگوں میں پراسرار شخص کے طور پر بھی مشہور ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ وہ عام طور پر کسی بھی سوال کا سیدھا جواب دینے کے قائل نہیں ہیں۔ سوال کا جواب سوال سے دیتے ہیں۔ جو لوگوں کو سوچنے اور خود جواب تک پہنچے میں مدد کرتا ہے۔ گفتگو کا یہ ایک انتہائی شاندار طریقہ ہے جو پاکستان میں بہت کم لوگوں کو آتا ہے۔ ہمارے ہاں تو ہر سوال کا ماہرانہ جواب دینا علم کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔

پروفیسر صاحب ایک مثالی باپ ہیں۔ اپنے بچوں کے ساتھ ان کی گہری دوستی ہے جو کہ ایک مختلف بات ہے ورنہ پیار تو اپنے بچوں سے ہر کسی کو ہوتا ہے۔ پروفیسر صاحب نے اپنے بچوں کی پڑہائی پر بہت دھیان دیا۔ آپ کی بیٹیاں بہت محنتی اور ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے خوب پڑہا ہے۔ پروفیسر صاحب اپنی بیٹیوں کے تعلیمی کارناموں کا ذکر بہت شوق اور فخر سے کرتے ہیں۔

بڑی بیٹی آمنہ کو خاص طور پر تعلیم کا بہت ہی شوق تھا۔ اس نے سائنس کے ایک اہم مضمون میں اسلام آباد کی ایک اچھی یونیورسٹی سے ایم فل کیا۔ محنتی اور ذہین ہونے کی وجہ سے آمنہ کا تعلیمی کیریئر “ٹاپ پوزیشنوں” سے بھرا پڑا ہے۔ اس شاندار تعلیمی کیریئر کی وجہ سے چھوٹی سی عمر میں اسے فل برائیٹ سکالر شپ مل گیا۔ فل برائیٹ سکالرشپ پر امریکہ میں جا کر اپنی مرضی کے مضمون میں پی ایچ ڈی کرنا ہر پڑہے لکھے شخص کا خواب ہوتا ہے۔ آمنہ کا بھی ہو گا اسی لیے اس نے اتنی محنت اور تگ و دو کی ہو گی۔

ادھر فل برائیٹ سکالرشپ آیا ادھر ایک رشتہ بھی آ گیا۔ پروفیسر صاحب نے آمنہ کے لیے شادی کا انتخاب کیا اور امریکہ کی اچھی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے لیے فل برائیٹ سکالرشپ ضائع کر دیا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 133 posts and counting.See all posts by salim-malik