’مسلمانوں کو بھی گائے کا پیشاب قبول کرنا چاہیئے‘


انڈیا کے مشہور یوگا گرو اور آیورویدیک دواؤں کے صنعت کار بابا رام دیو نے کہا ہے کہ گائے کا پیشاب کئی امراض کے علاج میں مفید ہے اور مسلمانوں کو بھی دوا کے طور پر اسے قبول کرنا چاہئیے۔

جڑی بوٹیوں پر مشتمل آیور ویدک طرز علاج میں گائے کے پیشاب کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور اس کا استعمال کئی بیماریوں کے علاج میں ہوتا ہے ۔ رام دیو کی جڑی بوٹیوں کی دواؤں اور مصنوعات کی کمپنی ‘پتنجلی’ آیورویدک دواؤں اور کاسمیٹکس کی ملک کی سب سے تیزی سے ابھرتی ہوئی کمپنی بن گئی ہے ۔

بابا رام دیو نے ایک ٹی وی پروگرام ‘ آپ کی عدالت ‘ میں سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا’ کیا میں نے یونانی دواؤں کی کمپنی ‘ہمدرد’ کی کبھی مخالفت کی ہے؟ ۔مجھے ہمدرد اور ہمالیہ کمپنی ( مسلم مالکان) سے مکمل حمایت مل رہی ہے ۔ جو لوگ پتنجلی کو ہندو کمپنی بتانے کی کوشش کر رہے ہیں ہیں وہ در اصل نفرتوں کی دیوار کھڑی کر رہے ہیں۔’

ٹی وی چینل کی طرف سے جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق باب رام دیو نے گائے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مسلمانوں کو گائے کے پیشاب سے اجتناب نہیں کرنا چاہئے اور اسے دوا کے طور پر قبول کرنا چاہئیے۔

انڈیا میں ہندوؤں کا ایک بڑا طبقہ گائے کو مقدس سمجھتا ہے اوراسے ماں کا درجہ دیتا ہے ۔ گائے کے پیشاب اورگوبر کو بھی مقدس سمجھا جاتا ہے اور اکثر پوجا پاٹھ سے پہلے فرش پر گوبر کا لیپ اور پیشاب کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  ایل ایل ایف یعنی لندن لٹریری فیسٹول

آیورویدک طرز کے ویدوں (حکیموں) کا کہنا ہے کہ گائے کے پیشاب سے کئی موذی مرض ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اس کا استعال کئی دواؤں میں کیا جاتا ہے اور یہ آوردیدک دواؤں کی دوکانوں پر دستیاب ہیں ۔

بابا رام دیو ‘پتنجلی’ کمپنی کے بانی ہیں۔انہیں بی جے پی سے قریب سمجھا جاتا ہے ۔بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کی کمپنی نے زبردست ترقی کی ہے ۔ چار برس میں اس کمپنی کا کاروبار دس ہزار کروڑ روپئے تک پہنچ چکا ہے۔

بابا نے کہا کہ وہ ہمیشہ کچھ بڑا سوچتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا وارث کوئی بزنس میں یا صنعت کار نہیں ہوگا ۔ انہوں نے مستقبل میں پتنجلی کا انتظام دیکھنے کے لیے پانچ سو سادھوؤں کو تربیت دی ہے ۔

بھارت کی معروف اداکارہ راکھی ساونت نے ایک مرحلے پر بابا رام دیو سے شادی کی خواہش ظاہر کی تھی تاہم ان دنوں راکھی ساونت رام دیو سے پیچھے ہٹ چکی ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 852 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp