اردو اور انگلش میڈیا میں تضاد


پاکستان میں اردو اور انگلش کے اخبارات کو آپ پڑھیں تو یقین نہیں آتا کہ یہ ایک ہی ملک سے شائع ہوتے ہیں۔ اردو کے اخبارات میں خبروں سے لے کر مراسلوں اور کالموں تک میں اشتعال انگیزاور متعصب لہجہ نمایاں ہے۔ اردو کے ٹی وی پروگراموں میں بھی ناقابل برداشت حد تک متعصب اور غیرروادار رویہ ملتا ہے۔ دوسری طرف آپ انگلش کے اخبار اٹھا کر دیکھیں تو عورتوں اور اقلیتی حقوق کی پاسداری سے لے کر ان عناصر پر بھی آزادانہ تنقید ملتی ہے جو پاکستان میں مذہبی تعصب کو پاکستانی ریاست کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ اردو میڈیا میں ایسے مضامین کا شمار آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ یہی کیفیت اردو کے ٹی وی پروگراموں کی ہے۔ اردو میڈیا میں جب کسی دوسرے ملک پر تنقید کی جاتی ہے یا اس کی فارن پالیسی پر بات کی جاتی ہے تو بڑے آرام سے اس ملک کے باشندوں کو جانوروں سے بھی بدتر القاب سے نوازا جاتا ہے۔ ان کی عورتوں اور مردوں کے رہن سہن خصوصاً جنسی زندگی پر کھلے عام تنقید کی جاتی ہے۔ ایسی صورت میں یہ جاننا ناممکن ہو جاتا ہے کہ لکھاری کو دراصل کس بات پر غصہ ہے۔ ان کی فارن پالیسی پر یا ان کی جنسی زندگی پر۔ میں نے اردو کے مشہور اخباروں میں اس طرح کے کالم بھی پڑھے ہیں۔ جس میں یہاں تک لکھا گیا کہ اس مردود کی کھال میں بھس بھر دینا چاہیے۔ یا فلاں عورت اگر ہمارے ملک میں ہوتی تو سنگسار کر دی جاتی۔ کسی کے مرنے پر ایسا کہا گیا کہ’’ وہ آخر کار جہنم رسید ہو گیاــ‘‘۔ ایسی مذہبی اصطلاحات بھی استعمال ہوتی ہیں جو کہ آج کے پاکستان میں انسانی جان کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔ اردو میڈیا میں سنسنی خیزی‘ جذباتیت، مذہبی تعصب اور سازشی قیاسات جیسی سوچ کی نشو ونما کی جاتی ہے۔ ٹی وی پینل پر بحث کے دوران ایک دوسرے کے اوپر ذاتی الزام لگائے جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا اور یو ٹیوب نے تو نفرت اور انتشار پسندی کی حدیں ہی پھلانگ دی ہیں۔ اس کا تذکرہ کسی اور کالم میں کیا جائے گا۔

انگلش میڈیا میں آپ کو تاریخ اسلام اور تاریخ ہند کے مثبت اور منفی پہلوئوں پر بحث نظر آئے گی۔ مگر اردو میڈیا میں صرف چند باتوں پر ہی تنقیدی مواد ملتا ہے۔ اردو میڈیا میں آپ کو اپنے ہمسائے ملک بھارت کے کسی اچھے پہلو پر کم ہی کوئی مضمون نظر آئے گا۔ اگر کوئی لکھنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے پاکستان دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی مغرب کی سوسائٹی کی اچھی باتیں اپنانے کی بات کرتا ہے تو اسے مغرب زدہ قرار دے کر چپ کروا دیا جاتا ہے اگر کوئی مذہبی اقلیتوں سے منصفانہ سلوک کی تلقین کرتا ہے تو اسے دشمن اسلام قرار دیا جاتا ہے۔ ملعون، مردود اور مرتد جیسے الفاظ کا کھلے عام استعمال کیا جاتا ہے۔

 اردو میڈیا میں تنگ نظری، اشتعال انگیزی اور متعصب رویے میں بہت شدت آ گئی ہے مگر تنگ نظری کی یہ روایت پرانی ہے۔ آپ علامہ اقبا ل کی اردو اور انگلش میں لکھی تحریریں دیکھیں تو آپ کو واضع نظر آئے گا کہ علامہ انگلش میں بہت آسانی سے ہند کے علماء کرام کی تنگ نظری پر تنقید کرتے ہیں۔ وہ اتا ترک کی ترکی میں کی گئی اصلاحات کی تعریف جس طرح انگلش میں کرتے ہیں وہ شاید اردو میں نہ کر سکتے ہوں۔

اسی بارے میں: ۔  مردم شماری میں مختلف شہروں کی آبادی کے اعداد و شمار

 علامہ اقبال

 The Reconstruction of Religious Thought in Islam

میں لکھتے ہیں۔

“the truth is that among the Muslim nations of today Turkey alone, has Shaken off its dogmatic slumber and attained to self-Consciousness.”

حقیقت یہ ہے کہ مسلمان ملکوں میں سے ایک ترکی ہی ہے جس نے اپنے آپ کو سخت گیر عقیدوں کی گہری نیند سے جگا کر خود آگاہی کی منزل کو پایا ہے۔ علامہ نے اردو شاعری میں تو مسلمان کی تنگ نظری پر تنقید کی ہے مگر جو کچھ انہوں نے مندرجہ بالا کتاب میں انگلش میں لکھا ہے وہ اردو نثر میں نہیں لکھا۔ اسی حوالے سے کینیڈا کے اشفاق حسین کی کتاب’’فیض احمد فیض‘‘: شخصیت اور فن،‘میں خالد حسین کی مندرجہ ذیل تحریر کا اقتباس دیا گیا ہے جو کہ انہوں نے فیض کے اقبال کے حوالے سے لکھا ہے۔ ’’فیض صاحب اقبال کے بہت زبردست معتقد ہیں لیکن زندہ و پائندہ اقبال کے۔ اس اقبال کے نہیں جسے قلم فروشوں، بوگس نقادوں اور خود ساختہ نظریہ پرستوں نے ایک قدیم ڈھانچے میں تبدیل کر دیا ہے۔ فیض صاحب اکثر کہتے ہیں کہ ایک طویل دیباچے کے ساتھ انتخاب اقبال شائع کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام اور دوسرے بنیادی سوالات پر علامہ کے اصل نظریات ان کی انگریزی تحریروں میں موجود ہیں۔ غالباً اس وجہ سے انہوں نے ان خیالات کا انگریزی میں قلمبند کیا تاکہ وہ رجعت پسندی کی “دسترس سے باہر رہیں۔ گو اب رجعت پسندوں کی اکثر یت ہمارے ہاں انگریزی بولتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ اظہار آزادی تحریر و تقریر کو صرف انگلش زبان تک کیوں محدود رکھا جاتا ہے؟ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ انگلش کے رائٹر کو معلوم ہے کہ اس کا قاری مسلمان اور پاکستانی ہی نہیں ہے اور اس کو تحریر کے انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کو ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا جبکہ اردو میڈیا والے اپنے آپ کو ان سٹینڈرڈ سے مبرا سمجھتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے کہ ہم باہر کی دنیا کو اپنا نرم، ترقی پسند اور جدید رخ انگلش میں دکھاتے ہیں اور اپنے ہم وطنوں کو اردو میڈیا کے ذریعے طیش، غصہ اور رجعت پسندی اور تعصب جیسی شرانگیزیوں میں الجھائے رکھتے ہیں۔ اردو کے قارئین کو دور جدید میں ہونے والی مختلف سوچوں پر بحث سے محروم رکھا جاتا ہے۔ وہ کون سے رجعت پسند ہیں جن کے ڈر سے ایسا کیا جاتا ہے؟وہ اتنے طاقتور کیوں ہیں کہ وہ اردو میڈیا پر حاوی ہو گئے ہیں ؟ ان کو یہ طاقت کس نے فراہم کی ہے اور وہ کیوں اکثریت کو اندھیرے میں رکھنا چاہتے ہیں؟

سوچنے کی بات یہ ہے کہ اردو میڈیا میں وہ مضامین کیوں شائع نہیں ہوتے جو انگلش میڈیا میں چھپتے ہیں۔ کیا اردو میڈیا والے اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ اگر وہ مذہبی رواداری اور امن و آتشی کی بات کریں گے تو ان کا اخبار اور ٹی وی چینل نہیں چلے گا ؟یا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسی باتیں لکھنے پر ان کے میڈیا کے بزنس کو مذہب اور وطن کے ٹھیکے دار اپنے تشدد کا ٹارگٹ بنا لیں گے ؟ یا پھر وہ سمجھتے ہیں کہ اردو پڑھنے والے مذہبی رواداری اور تعصب سے پاک معاشرے میں نہیں رہنا چاہتے ؟

اسی بارے میں: ۔  استاد رئیس خان.... پنچھی بانورا چاند سے پیت لگائے

 میرے سمیت اردو لکھنے اور پڑھنے والوں کی اکثریت اردو میڈیم سکولوں میں پڑھتی ہے۔ وہاں غیر نصابی کتابیں شاذو نادر ہی تعلیم کا حصہ بنائی جاتی ہیں۔ نصاب کی کتابوں میں بھی تاریخ کے حوالے سے ایک خاص طرح کی سوچ کی نشوونما ہوتی ہے۔ ان سکولوں میں سوال کرنے والا معتوب ٹھہرایا جاتا ہے اور کتابوں کو رٹا سسٹم کے ذریعے طلبہ کے ذہنوں میں بٹھایا جاتا ہے۔ ان کو ایک خاص قسم کی سوچ فراہم کی جاتی ہے جس کی منزل تنگ نظری ہے۔ اور رہی سہی کسر اردو میڈیا پوری کرتا ہے۔ ان ساری باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات ظاہر ہے کہ ہمارہ معاشرہ اس وقت تنگ نظر ی اور تعصب کا شکار ہے تو قصور کس کا ہے؟ وہ اگر چھوٹی چھوٹی باتوں پر مخالف کا ’’سرتن سے جدا‘‘کرنے کی بات کرتے ہیں تو ان کی یہ ٹریننگ کس نے کی ہے؟

 پاکستان کے اردو میڈیم سکولوں کو جدید بنانے کے لئے اس کے پورے سسٹم کو اوور ہال کرنا ہوگا۔ ہر سکول میں لائبریری کو سکول کا جزوِ لازم بنانا ہوگا اور ہر طالب علم کو غیر نصابی کتابوں کو پڑھنے پر حوصلہ افزائی کرنا ہوگی۔ کلاسوں میں سوال کرنے اور مختلف موضوعات پر بحث کرنے کی آزادی فراہم کرنا ہوگی۔ رٹا سسٹم کو ختم کرکے کتابوں کو سمجھ کر پڑھنے کا سسٹم عائد کرنا ہوگا۔ یہ سب اسی صورت ممکن ہے جب قوم تعلیم کو اپنی ترجیحات میں اول درجہ دیگی۔ وہ اپنے قومی بجٹ کا زیادہ حصہ تعلیم پر مختص کریگی۔ جب تک ایسا نہ ہوگا ہم کبھی بھی اکیسویں صدی میں داخل نہ ہو سکیں گے۔ ہم تعصب کے اندھیرے میں گم رہیں گے۔

اردو میڈیم سکولوں کو جدید بنانے کا خواب تو نجانے کب پورا ہوگا مگر اس سے پہلے اردو میڈیا کو چاہیے کہ وہ رجعت پسندی، تعصب اور سازشی قیاسات کی سیاست سے اپنے قارئین کو نکال کر انہیں اس جدید سوچ سے متعارف کروائیں جس سے انگلش میڈیا کے قارئین بخوبی واقف ہیں۔ اردو میڈیا والے جدید قوم کی تخلیق میں اپنی ذمہ داری پوری کریں اور اس پروگریس کو صرف انگلش پڑھنے والوں تک محدود نہ رکھیں۔

اردو میڈیا کی فی الوقت مجبور ی سمجھ میں آتی ہے کہ وہ ایک حد تک ہی کچھ موضوعات پر قلم اٹھا سکتے ہیں لیکن وہ اتنا تو کرسکتے ہیں کہ سستی مقبولیت کی خاطر عوام کو اشتعال دینے کی بجائے ایک نرم لہجہ اختیار کریں۔ اپنے اخباروں اور ٹی وی پروگراموں کا ایک سٹینڈرڈ مقرر کریں جس میں غم وغصے کے جذبات کو ابھارنے کی بجائے ایسے موضوعات پر سنجیدگی سے اظہار خیال کریں۔ اردو میڈیا کی اگر یہ روایت نہیں تو اسے اپنانے کا وقت ہے تاکہ اردو میڈیا بھی مہذب و متمدن دنیا کا حصہ بن کر معاشرے کے زخموں پر مرہم کا کام دے سکے۔

پسِ تحریر:

 مندرجہ بالا کالم “ہم سب” کو پڑھنا شروع کرنے سے پہلے لکھا گیا تھا۔ باقی اردو میڈیا کا اب بھی یہی حال ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔