آخر ملک میں حکومت کس کی ہے؟


یوں تو ووٹ دینے کے باوجود ملک کا عام شہری حکمرانوں سے کوئی تعلق یا رشتہ محسوس نہیں کرتا اس لئے ان کے لئے یہ باور کرنا مشکل ہوتا ہے کہ جو لوگ ملک پر حکومت کر رہے ہیں اور اہم فیصلے کرتے ہیں کیا وہ واقعی ان کے نمائندے ہیں اور ان کی خواہشات اور ضرورتوں کے مطابق اہم قومی معاملات میں فیصلے کرتے ہیں۔ تاہم آج سابق وزیراعظم نواز شریف کی اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیشی کے دوران جو صورتحال دیکھنے میں آئی اور رینجرز نے حکومت کے ذمہ داران کی موجودگی اور متعلق سویلین اداروں کے احکامات کو نظر انداز کرنے کی جو مثال قائم کی ہے، اس میں یہ سوال خاص طور سے سامنے آیا ہے کہ آخر ملک پر کس کی حکومت ہے اور مختلف ادارے کس کا حکم ماننے کے پابند ہیں۔ یہ سوال عام باشندے ، صحافی اور دیگر لوگ تو اب کر رہے ہیں تاہم اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس میں کمرہ عدالت میں داخل ہونے سے معذور وزیر داخلہ احسن اقبال آج صبح سے ہی اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ملک کی حکومت کے نمائندے سکیورٹی معاملات کے نگران ہیں یا کوئی ایسے بااختیار لوگ بھی موجود ہیں جو وزارت داخلہ کی پرواہ کئے بغیر من مانی کرنے کا حوصلہ کرتے ہیں۔ آج اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پولیس کو پرے دھکیلتے ہوئے رینجرز نے چارج سنبھالا اور مسلم لیگ (ن) کے لیڈروں، وکیلوں اور دیگر لوگوں کو عدالت میں داخل ہونے سے روک دیا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وزیر داخلہ احسن اقبال کی موجودگی بھی صورتحال کو تبدیل نہ کروا سکی۔ رینجرز کا کوئی افسر وفاقی وزیر سے بات کرنے پر آمادہ نہیں تھا۔

اب احسن اقبال کہتے ہیں کہ ملک میں ایک ہی قانون نافذ العمل ہو سکتا ہے۔ ایک ملک میں دو حکومتیں نہیں ہو سکتیں۔ انہوں نے اس واقعہ پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس واقعہ کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کے بعد اگر ذمہ داران کو سزا نہ دی گئی تو وہ کٹھ پتلی وزیر داخلہ کے طور پر کام نہیں کر سکتے اور اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیں گے۔ اس واقعہ کی اطلاع وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو دے دی گئی ہے۔ رینجرز نے آج جن لوگوں کو کمرہ عدالت میں جانے سے منع کیا ان میں وزارت داخلہ کے دونوں ذمہ دار وزیروں کے علاوہ سینیٹ میں قائد ایوان اور مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجہ ظفر الحق بھی شامل تھے۔ البتہ ان سب لوگوں کے جوڈیشل کمپلیکس سے چلے جانے کے بعد رینجرز کا ایک افسر اشک شوئی کے لئے وفاقی وزیر دانیال عزیز کے پاس آیا اور صورتحال کی وضاحت کرکے انہیں عدالت کی کارروائی سننے کی ’’اجازت‘‘ دینے کی پیشکش کی لیکن دانیال عزیز نے بھی اس پیشکش کو قبول کرنے سے گریز کیا۔

وزیر داخلہ احسن اقبال کو موقف ہے کہ ملک میں جمہوریت ہے جہاں عدالتیں عام لوگوں کی دسترس میں ہوتی ہیں۔ بند عدالتوں میں کارروائی اور فیصلے آمرانہ دور حکومت کا طریقہ ہے۔ جمہوریت میں ایسا نہیں ہو سکتا۔ اس سارے افسوسناک واقعہ کا حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ رینجرز کو طلب کرنے اور ڈیوٹی دینے کی ذمہ داری سول حکومت کے اختیار میں ہوتی ہے۔ اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر ساجد کیانی نے ایک سرکاری ہینڈ آؤٹ میں واضح کیا ہے کہ ایس ایس پی آپریشنز نے انہیں اس موقع پر سکیورٹی کے لئے رینجرز طلب کرنے کی درخواست کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ رینجرز اسلام آباد پولیس کے تحت سکیورٹی فراہم کریں گے۔ لیکن ڈپٹی کمشنر نے ایس ایس پی سے مشاورت کے بعد رینجرز طلب کرنے سے گریز کیا تھا۔ احتساب عدالت کے جج کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انہوں نے بھی رینجرز طلب کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر رینجرز کا دستہ کس کے حکم سے جوڈیشل کمپلیکس پہنچا اور تمام متعلقہ حکام کو نظر انداز کرکے اپنا حکم مسلط کرنے پر بضد رہا۔

اسی بارے میں: ۔  ملبوس ہی انسان کا معیار ہے

بظاہر ملک کے سابق وزیراعظم اور ایک اہم سیاسی لیڈر نواز شریف کے تحفظ کے لئے رینجرز کو یہ تردد کرنا پڑا تھا۔ لیکن ملک میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے۔ ان کے قریبی رفیق اس وقت وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہیں۔ اسی طرح وزیر داخلہ کا عہدہ بھی نواز شریف کے مخلص، ہمدرد اور وفادار ساتھی احسن اقبال کے پاس ہے۔ وزارت داخلہ ہی سکیورٹی معاملات اور اس حوالے سے مختلف فورسز کو بروئے کار لانے کی ذمہ دار ہے۔ وزارت داخلہ نے رینجرز طلب کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا۔ یوں بھی رینجرز جب سول حکومت کی مدد کے لئے آتے ہیں تو وہ سول حکام کی ہدایات کے مطابق فرائض سرانجام دینے کے پابند ہوتے ہیں۔ لیکن آج جوڈیشل کمپلیکس میں جو ڈرامہ رچایا گیا، اس میں واضح طور سے رینجرز کے کمانڈر کو کسی سویلین افسر یا سیاسی عہدے دار کی حیثیت، اختیار اور اتھارٹی کا کوئی احساس نہیں تھا۔ وہ نامعلوم اتھارٹی سے ہدایات وصول کر رہا تھا۔ حتیٰ کہ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کی مداخلت پر بھی انہیں دو ٹوک جواب دیا گیا کہ نواز شریف کے علاوہ کسی کو کمرہ عدالت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ وہ پوچھتے ہی رہ گئے کہ یہ حکم دینے والا کون ہے۔ اس پر وزیر داخلہ احسن اقبال کو بلایا گیا تو اطلاعات کے مطابق داخل ہونے والےدروازے پر تالا لگا دیا گیا۔ رینجرز کا کوئی افسر وفاقی وزیر داخلہ سے بات کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔ البتہ احسن اقبال کی آمد پر ’’حفاظتی اقدام‘‘ کے طور پر دروازے کو تالا لگانے سے واضح ہوتا ہے کہ موقع پر موجود افسران کو معلوم تھا کہ وہ کس کی آمد پر راستے مسدود کر رہے ہیں۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ اگر نواز شریف کی سکیورٹی کے بارے میں مسلم لیگ (ن) کے وزیر اور اسلام آباد انتظامیہ مطمئن تھے تو رینجرز کو بالا ہی بالا سابق وزیراعظم کی حفاظت کے لئے پھرتی دکھانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ رینجرز کے اعلیٰ افسران سول ڈیوٹی پر جانے والے افسروں کو یہ بتانے میں کیوں ناکام رہے کہ انہیں سویلین افسروں کے مشورہ اور ہدایات کے مطابق ہی فرائض سرانجام دینے ہیں۔

اس کے برعکس صورتحال کی جو تصویر سامنے آتی ہے اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ مقررہ طریقہ کار کے برعکس رینجرز کی ٹیم کو اپنی مرضی ٹھونسنے اور اپنے باوردی افسران اعلیٰ کی ہدایت کے بغیر کوئی اقدام نہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ یہ تصویر اس شبیہ کے برعکس ہے جو پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اپنی باتوں میں سامنے لانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ ملک کی فوج آئین کی پابند ہے اور منتخب حکومت کی قیادت میں کام کر رہی ہے۔ اگر پاک فوج کے سربراہ کا یہ واضح موقف ہے تو ان کی کمان میں کام کرنے والے رینجرز کو اس واضح نصب العین سے گریز کرنے کا حوصلہ کیوں ہوا ہے۔ یا فوج کی اعلیٰ قیادت بھی سیاسی ضرورتیں پوری کرنے، میڈیا کی خبروں کا پیٹ بھرنے اور پروپیگنڈا کے مقاصد سے سویلین بالا دستی کا اعتراف تو کرتی ہے لیکن ملک کے اس منظم ترین ادارے میں بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو فوج ہی کی بالا دستی پر یقین رکھتے ہیں اور سویلین ادارے، حکومت، اس کے احکامات اور پارلیمنٹ کے منظور کردہ قوانین کی ان کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ایسی صورت میں جوڈیشل کمپلیکس میں سویلین اتھارٹی کو چیلنج کرکے رینجرز افسروں نے وزیر داخلہ اور سویلین افسروں کی توہین نہیں کی بلکہ پاک فوج کے سربراہ کی واضح ہدایت اور خواہش سے روگردانی کی ہے۔ اس صورت میں تو وزارت داخلہ کی تحقیقات، قومی اسمبلی میں اس پر کارروائی اور ردعمل سے بھی پہلے آرمی چیف کی طرف سے اس واقعہ کا نوٹس لینے کی اطلاع سامنے آنی چاہئے۔ بصورت دیگر ملک میں یہ تاثر مزید قوی ہوگا کہ منتخب حکومتوں کی حیثیت اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ وہ وزیر یا وزیراعظم کہلاتے ہیں لیکن وہ یا منتخب ادارے فیصلے کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ انہیں وہی حکام بجا لانا پڑتے ہیں جو جی ایچ کیو سے جاری ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  امریکہ کی افغان پالیسی اور پاکستان

زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ اس ملک میں ڈان لیکس کا چرچا رہا ہے۔ سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف اس بات پر نواز شریف سے خفا رہے اور وزیراعظم ہاؤس کے اہم اجلاسوں میں شرکت سے گریز کرتے رہے کہ وہاں کی جانے والی باتیں اخباروں تک پہنچ جاتی ہیں۔ ڈان لیکس کے نام سے مشہور ہونے والے اس اسکینڈل میں سول قیادت پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس نے روزنامہ ڈان میں ایک جھوٹی خبر شائع ہونے کی اجازت دی۔ یہ رپورٹ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے ایک خفیہ اجلاس کے بارے میں تھی اور اس کے مطابق وہاں پر موجود سول قائدین نے اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی سے شکوہ کیا تھا کہ صوبائی حکومتیں جب بعض انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کرتی ہیں تو خفیہ ادارے انہیں بچانے کے لئے پہنچ جاتے ہیں۔ اس طرح امن و امان کی صورتحال بحال کرنے کے لئے ان کی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں۔ اس رپورٹ کو من گھڑت اور جھوٹی قرار دیتے ہوئے فوج نے ان تمام لوگوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جو اس کی اشاعت کے ذمہ دار تھے۔ اس اسکینڈل میں ایک وفاقی وزیر کو مستعفی ہونا پڑا اور تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ سامنے آنے پر وزیراعظم کے معاون خصوصی کو برطرف کیا گیا اور ایک اعلیٰ سرکاری افسر کے خلاف کارروائی کی گئی۔ اس دوران فوج کی کمان تبدیل ہو چکی تھی اور جنرل قمر جاوید باجوہ کی مفاہمانہ حکمت عملی کی وجہ سے یہ معاملہ رفع دفع ہوا۔

آج اسلام آباد میں رینجرز کے کارروائی کے حوالے سے اگر ذمہ داروں کا تعین نہ کیا گیا اور فوج کی قیادت اس بارے میں خاموشی اختیار کرتی ہے تو یہ سانحہ فوج کے حوالے سے ڈان لیکس سے بھی بڑا اسکینڈل ثابت ہو گا۔ کیونکہ ایک سویلین جمہوری انتظام میں فوج کے ڈسپلن کی پابند ایک فورس نے علی الاعلان قانون اور قواعد کی خلاف ورزی کی ہے۔ یہ خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دینا فوج کی آئین سے وابستگی ثابت کرنے کے لئے بھی اہم ہے۔ ورنہ یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ڈان لیکس کی رپورٹ میں جو دعوے کئے گئے تھے، صورتحال شاید اس سے بھی زیادہ سنگین ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 683 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali