ایک برازیلئین لڑکی نے پاکستان میں کیا دیکھا؟


یہ ایک سال پہلےکی بات ہے جب میں چائنہ میں ایم فل کر رہی تھی۔ میری ہی یونیورسٹی میں ایک کراچی کا لڑکا پڑھتا تھا۔ اس کو ایک برازیلئین لڑکی سے بڑی دھواں دار محبت ہو گئی۔ دونوں ہی ایک دوسرے کی محبت میں گوڈے گوڈے ڈوبے ہوئے تھے۔ اپنی زندگی کے چوبیس سال میں نے پاکستان میں ہی گزارے تھے تو مجھے پکا یقین تھا کہ یہ لڑکا بہت سے دوسرے پاکستانی مردوں کی طرح آخر میں اسے دھوکا دے دے گا۔ میرا یہ اندیشہ تب غلط ثابت ہوا جب وہ لڑکا اس برازیلئین لڑکی کو اپنے ماں باپ سے ملوانے پاکستان لے گیا۔ تب مجھے احساس ہوا کہ اس کا شمار بھی ان چند اچھے پاکستانی مردوں میں ہوتا ہے جن کا اکثر و بیشتر ذکر سننے میں ملتا ہے۔ دیکھنا تو شاید ہمارے نصیب میں ہی نہیں۔

خیر واپس آتے ہیں برازیلئین لڑکی پر۔ اس کا نام آپ کیرل تصور کر لیں۔ کیرل ایک بے حد خوبصورت اور صحت مند لڑکی تھی۔ وہ ایک ایسے ملک سے تعلق رکھتی تھی جہاں عورتوں اور مردوں میں کوئی فرق نہیں کیا جاتا۔ اسے پاکستان آئے دوسرا روز تھا کہ مجھے واٹس ایپ پر اس کا پیغام موصول ہوا۔ وہ بہت پریشان تھی۔ میں نے پریشانی کا سبب پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ پاکستان کا ماحول سمجھ نہیں پا رہی۔ وہ ایک آزاد انسان کے طور پر پیدا ہوئی ہے مگر یہاں اسے آزادی میسر نہیں۔ اس نے مجھے بتایا کہ اگر وہ اپنے منگیتر کے ساتھ کسی مال میں خریداری کے لئے جاتی ہے تو آس پاس موجود لوگ اسے گھورنے لگتے ہیں۔ مرد تو مرد خواتین بھی نظروں ہی نظروں میں ٹٹولتی نظر آتی ہیں۔ ایک دو بار تو اس نے پوچھ بھی لیا کہ آپ کو کیا مسئلہ ہے؟ آپ مجھے کیوں گھور رہی ہیں؟ اس کے لئے یہ ایک نئی چیز تھی کیونکہ اس کے ملک میں ہر کوئی اپنے کام سے کام رکھتا ہے اور ایسے ہی باہر کسی کو دیکھتا نہیں رہتا۔ میں نے اسے بتایا کہ ہمارے ہاں ایک غیر ملکی کو ابھی تک گردن موڑ موڑ کر دیکھنے کا رواج ہے۔ اگلی بات جو اس نے کی وہ میرے شرمندہ ہونے کو کافی تھی۔ اس نے کہا کہ اسے یہاں کے مردوں کی نظروں میں ہوس محسوس ہوتی ہے۔ وہ موسم کی شدت کے باوجود مکمل لباس پہنتی تھی، سر ڈھکنے کی اسے کبھی عادت نہیں رہی تو وہ اسے ایک بوجھ لگتا تھا لیکن اس کے لئے اپنے جسم پر ایسی غلیظ نگاہیں برداشت کرنا ایک تکلیف دہ عمل تھا۔ ایک ایسا عمل جس کی شاید پاکستانی خواتین اب تک عادی ہو چکی ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  بھارت و امریکا کی دوستی پاکستان کے لیے خطرہ؟

پاکستانی خواتین برقعے میں ہوں، شلوار قمیض میں ہوں یا جینز میں، پاکستان میں کوئی بھی عورت بغیر کسی ڈر یا خوف کے اپنے گھر سے اپنے دفتر نہیں جا سکتی۔ اب یہ خاتون پیدل جا رہی ہوں، پبلک ٹرانسپورٹ پر ہوں یا اپنی ذاتی گاڑی میں، کسی مرد کے ساتھ ہوں یا اکیلی ان سب باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہر موٹر سائیکل سوار آگے جا کر گردن موڑ کر ایک نظر اس عورت پر ضرور ڈالے گا۔ اگر اسے خاتون میں کوئی کشش نظر آئے جو کہ ہمارے مردوں کو ہر جیتی جاگتی خاتون میں نظر آتی ہے تو آگے جا کر تھوڑے فاصلے پر بائیک روکی جائے گی اور جب خاتون پاس سے گزرے گی تو اس سے ہلکی آواز میں “میں چھوڑ دوں؟” پوچھا جائے گا۔

کچھ بہادر آدمی یہ پوچھنے کی بجائے گلی کا معائینہ کرتے ہیں اگر تو گلی سنسان ہے تو وہ بائیک کو واپس موڑ کر دوبارہ واپس آئیں گے، خاتون کے قریب بائیک لا کر آہستہ کریں گے اور اسے چھیڑتے ہوئے زن سے نکل جائیں گے۔ اب اگر گاڑی والوں کی بات کی جائے تو یہ پیدل چلتی عورت کو دیکھ کر سر سے خفیف سا اشارہ کرتے ہیں کہ آئو بیٹھ جائو۔ آگے جا کر گاڑی بھی سائیڈ میں روک دیتے ہیں کہ اب خاتون آئیں گی اور دروازہ کھول کر اندر بیٹھ جائیں گی۔ جیسے ہر راہ چلتی عورت طوائف ہو گئی۔ اس ہراسمنٹ پر صفحے کے صفحے کالے کئے جا سکتے ہیں مگر اس کا ذکر مکمل نہ ہو سکے گا۔ گاڑی چلانے والی عورت کے الگ مسائل ہیں، دفتر جانے والی الگ پریشان بیٹھی ہیں، حتیٰ کہ جو گھر بیٹھی ہیں وہ اپنے گھر کے رکھوالے نما بھیڑیوں کی ہوس سے پریشان ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  ممتاز قادری سیاست پر کیا اثرات ڈالے گا؟

کیرل پاکستان میں ایک مہینہ ہی رکی لیکن اس ایک ماہ میں اسے بطور خاتون ایسے بہت سے تجربات ہوئے جو اس سے پہلے اسے برازیل میں کبھی نہیں ہوئے تھے۔ جانے سے پہلے اس نے اپنے پاکستانی منگیتر کو صاف صاف کہہ دیا کہ وہ ایسے ملک میں ہرگز نہیں رہ سکتی جہاں خواتین کو کوئی حقوق حاصل نہ ہوں۔ اس کے بعد وہ برازیل چلی گئی۔ میرے ان دونوں دوستوں نے رواں سال ویلینٹائن ڈے پر برازیل میں شادی کی اور اب وہ برازیل میں ہی مستقل رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

دیکھا جائے تو کیرل کا یہ تجزیہ ہمارے معاشرے کی وہ تلخ تصویر ہے جس سے ہم آنکھیں چھپائے بیٹھے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم نے اپنی خواتین کو بہت سے حقوق دیے ہوئے ہیں مگر اصل میں ہماری خواتین ایک ایسی زندگی گزار رہی ہیں جہاں انہیں قدم قدم پر مردوں کی ہوس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دکھ کا مقام تو یہ ہے کہ اس ہراسمنٹ کے خلاف بہت کم آواز اٹھائی جاتی ہے۔ جہاں مرد اس ہراسمنٹ کا صاف انکار کرتے ہیں وہیں کچھ خواتین اسے اپنی ہی صنف کے نامہ اعمال میں ڈال دیتی ہیں۔ نہ نکلو گے گھر سے نہ ہی یہ سب ہوگا۔ جانے یہ سوچ کب بدلے گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔