پاکستانی سنیما کو پاؤں پہ کھڑا کرنے والے ’ہمایوں سعید‘ سے باتیں


مہوش اعجاز: اتنی ساری محبت، اتنا پیار۔۔۔ اور پیار کے ساتھ پاگل پن۔ اور پھر کچھ تنقید بھی۔ پنجاب نہیں جاؤں گی کے لئے یہ سب کچھ ملا آپ کو۔ پاکستان میں کسی بھی فلم کو اس لیول کا پیار نہیں ملا۔ کیسا محسوس کر رہے ہیں۔

ہمایوں سعید: بہت خوش ہوں۔ جب بھی بیرون ملک میں سنیما سے باہر نکلتا تھا تو سوچتا تھا کہ کبھی ہماری بھی فلمیں امریکہ، کینیڈا ، دبئی وغیرہ میں ریلیز ہوں گی۔ خیر کبھی تو یہ حالات بھی تھے کہ سوچتا تھا کہ کاش ہماری فلمیں پاکستان میں ریلیز ہوں۔۔۔ وقت لگا، مگر اب وہ وقت آگیا ہے۔ اور میں بہت خوش ہوں۔ بس میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔

مہوش اعجاز: یہ ایک احساس ہے۔

ہمایوں سعید: جی ایک احساس ہے۔ آپ سوچتے ہیں کہ ہاں ہم یہ کر سکتے ہیں۔ میں ہمیشہ سے چاہتا تھا کہ پاکستان کے لئے کچھ کروں، لوگ کہتے ہیں پاکستان کی انڈسٹری کو پھر سے پیروں پہ کھڑا کرنے میں ہمایوں کا بہت کردار ہے۔ مگر بہت سارے لوگوں نے اس کو ممکن بنانے میں مدد کی۔

مہوش اعجاز: سب سے اچھی اور سب سے بری چیز کیا سنی آپ نے پنجاب نہیں جاؤں گی کے بارے میں؟

ہمایوں سعید: ہاں میں نے ایک ٹویٹ پڑھا۔ کہ ‘آئی لو یو ہمایوں لیکن پنجاب نہیں جاؤں گی لیکن فلم بہت بری لگی اور میری دعا ہے کہ یہ فلم جلدی سے اتر جائے!’ میرا دل چاہ رہا تھا جواب دوں، “ہاں بس 50 کروڑ ہونے دو پھر اتر جائے گی فلم!”

مہوش اعجاز: یہ ہمایوں سعید کا راز کیا ہے؟ ایک چھوٹا سا جملہ بولا فواد کھگا نے اور لوگ ہنس پڑے۔

ہمایوں سعید: اس کا راز یہ ہے کہ میں ایک سیدھا بولنے والا آدمی ہوں۔ میں نے پہلے کبھی ’accent’ والا رول نہیں کیا۔ اس قسم کی چیز کو میں بچا کے رکھ رہا تھا۔ اور سچ بتاؤں میں نے اس پہ بہت زیادہ محنت نہیں کی!

A post shared by Humayun Saeed (@saeedhumayun) on

مہوش اعجاز: (ہنستےہوئے) کیا آپ کو یہ بات کہنی چاہئے؟

ہمایوں سعید: میں سچ بول رہا ہوں۔ میں 3 یا 4 دن تک اس زون میں رہا۔ ندیم بیگ نے کہا، یہ ٹھیک ہے اور میں اس میں comfortable ہو گیا۔ میرا پہلا شاٹ تھا جس میں میں ڈگری گھر لے کہ آتا ہوں اور کہتا ہوں، ‘گڈ کوسچن!’ بس وہیں مجھے لگا کہ یہ لہجہ کام کر رہا ہے۔

مہوش اعجاز: ہر اداکار کے کسی پراجیکٹ کے سفر میں ایک ایسا لمحہ آتا ہے جس میں وہ جانتا ہے کہ یہ پراجیکٹ چل جائے گا۔ آپ کے لئے وہ لمحہ کیا تھا؟

ہمایوں سعید: جب خلیل الرحمٰن قمر صاحب نے سکرپٹ بھیجی تھی تو اس میں دو سین ایسے تھے جو ‘ہیرو میکر ‘ سین تھے۔ ایک یہ ‘گڈ کوسچن ‘ والا سین تھا۔ دوسرا وہ ‘ہاتھ ملاؤ، میں بھی محبت کرتا ہوں ان سے!’ والا سین تھا۔

اسی بارے میں: ۔  بن روئے: ڈرامہ نگار حقیقت پر مبنی خواتین کے کردار تشکیل دینے سے قاصر

 

مہوش اعجاز: کہانی کے حوالے سے کچھ تنقید سامنے آئی ہے۔ کہ فواد امل کو ڈھیر سارے مربے اور بھینسیں آفر کرتا ہے۔ کیا اس میں کچھ گڑ بڑ نہیں تھی؟

ہمایوں سعید: ہم نے اس پہ خلیل صاحب سے ڈسکشن کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ امل مادہ پرست نہیں ہے۔ اگر کسی کو لگتا بھی ہے ایسا تو اگلے ہی سین میں جب امل کو معلوم ہوتا ہے کہ فواد اس کو ‘لارا ‘ دے رہا ہے اور وہ شراب پی رہا ہے تو وہ بہت دکھی ہوتی ہے۔ اور وہ فواد کی جائیداد سے متاثر نہیں تھی۔ وہ فواد کے اس پہ سب کچھ لٹانے سے متاثر تھی۔ بات پیسے کی نہیں۔ اس ‘old school love ‘ کی ہے جو آج کل لوگ مس کرتے ہیں۔

مہوش اعجاز: خواتین پہ تشدد کے حوالے سے بھی کچھ تنقید سامنے آئی ہے۔ اگر اس پہ بھی روشنی ڈالی جاتی فلم میں؟

ہمایوں سعید: جی، میں متفق ہوں۔ اچھا ہوتا کہ ہم آخری سین میں جہاں وہ باقی باتیں کر رہا ہے اس کہ اوپر بھی بات ہوتی۔ مگر ہم کوشش کر رہے تھے کہ فلم کو بہت زیادہ سیریس نہ بنائیں۔ مگر جی، میں متفق ہوں اس تنقید سے۔

مہوش اعجاز: فواد کے رول کے لیئے آپ نے تیاری کی؟ اس کی شخصیت کے بارے میں کتنا سوچا؟

ہمایوں سعید: بہت thin line تھی۔ یہ کریکٹر بہت آسانی سے نیگٹو ہو سکتا تھا۔ امل جب اسے چھوڑ کے جاتی ہے تو وہ کہتا ہے، ‘جہاز جاتا ہے تو واپس بھی آتا ہے!’ اور مجھے لگتا ہے لکھنے والے کو بھی یہ بات معلوم تھی۔ مگر بحیثیت اداکار میں نے اس کو ایک اچھا دل دینے کی کوشش کی۔ اس کے پاس بچوں جیسی معصومیت تھی، دل کا اچھا تھا۔

مہوش اعجاز: ہندوستان میں شاہ رخ خان اور عامر خان جیسے لوگ ہیں جو عوام کو صرف اپنے نام پہ سنیما لے آتے ہیں۔ مگر کچھ لوگوں نے کہا ہمایوں سعید نے اتنی بڑی فلم بنائی اور خود ہیرو بن گیا۔ کسی حد تک کیا آپ اس تنقید سے متفق ہیں؟

ہمایوں سعید: اگر میں اپنی فلم میں کام نہیں کر رہا ہوں گا، تو کسی اور کی فلم میں کام کر رہا ہوں گا۔ مجھے فلموں سے لگاؤ ہے۔ اور پوری دنیا میں جہاں جہاں اداکار فلمیں بناتے ہیں اس میں خود بھی آتے ہیں۔ میں سال کے 15 ڈرامے بناتا ہوں۔ اگر مجھے اتنا شوق ہوتا سیلف پروموشن کا تو ان 15 ڈراموں میں سے ایک میں تو آتا۔ مگر میں نے 4 سال میں صرف ایک ڈرامہ ’دل لگی‘ کیا۔

A post shared by Humayun Saeed (@saeedhumayun) on

مہوش اعجاز: بالی ووڈ سے موازنے کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟

ہمایوں سعید: ہماری ہر فلم کا موازنہ بالی ووڈ سے کیا جاتا ہے۔ ہم بالی ووڈ دیکھ دیکھ کے بڑے ہوئے ہیں اور بوڑھے بھی ہو رہے ہیں۔ مگر اگر آپ نوٹ کریں تو لوگوں نے ایک چیز محسوس کی ہے۔ ہماری فلموں میں لوگوں نے ایک پاکستانیت محسوس کی ہے۔ اور بولی ووڈ کیا ہے۔ اب تو بالی ووڈ بھی بالی ووڈ نہیں رہا۔ شاہ رخ خان کی پرانی فلمیں اٹھا کے دیکھ لیں، ’بازی گر‘ اور ’دل تو پاگل ہے‘، وہ بھی پرانی لگتی ہیں اگر آپ آج کی فلموں سے ان کا موازنہ کریں۔ ہمارے ڈرامے میں بہت طاقت ہے۔ اور ہمیں اسی کو لے کے چلنا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  منتشر معاشرے کی فکری اساس

مہوش اعجاز: خواتین پہ مبنی فلمیں بہت بن رہی ہیں اور مہوش حیات کا رول بہت مضبوط تھا وہ محض ایک بیساکھی نہیں تھیں ہیرو کی کہانی کی بلکہ ایک جیتی، جاگتی، سوچ رکھنے والی لڑکی تھیں۔

ہمایوں سعید: جی، ہم نے چونکہ ٹی وی پہ اتنا کام کیا ہے کہ ہم 25 اقساط تک ایک کردار کے پیچھے تو رہ نہیں سکتے۔ میرے خیال میں ایک اچھا پروڈکٹ وہ ہوتا ہے جس میں ہر کردار مضبوط ہو۔ دردانہ کا کردار پنجاب نہیں جاؤں گی میں بہت کم دیر کے لئے آتا ہے مگر وہ سب کو یاد ہے۔ میری کسی بھی فلم میں لڑکی بس ایک دو گانوں کے لئے نہیں آئے گی۔ اگر رومانس پہ مبنی فلم ہے تو ہیرو اور ہیروئن دونوں کے کرداروں کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔

مہوش اعجاز: اگلا پراجیکٹ؟

ہمایوں سعید:جوانی پھر نہیں آنی، پارٹ ٹو۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔