خواجہ آصف، غلام اسحاق اور صحن میں موجود بطخ


27 ستمبر کی سہ پہر ایشیا سوسائٹی نیویارک کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے ایک ہی وقت میں بہت سے کھیتوں میں ہل چلا دیا۔ خواجہ صاحب کی وطن واپسی کے بعد طے ہو گا کہ کیا کوئی وحشی اور آ پہنچا یا کوئی قیدی چھوٹ گیا… تاریخ قابل ضمانت وارنٹ جاری نہیں کرتی۔ ہمارے گلے میں آویزاں کرتے پر ایک اور سیاہ نشان لگا دیتی ہے۔ یہ نشان عشق ہیں، جاتے نہیں… اٹھارہ سال قبل ہم کچھ ایسے ہی پرآشوب دنوں سے گزر رہے تھے۔ وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کو جون 1989ء کے پہلے ہفتے میں امریکہ کا دورہ کرنا تھا۔ سوویت یونین کا آخری سپاہی فروری1989 میں افغانستان سے رخصت ہو چکا تھا۔ کشمیر کی وادی میں درجہ حرارت بڑھ رہا تھا۔ امریکیوں کو فکر تھی کہ پاکستان ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو یہ فرض سونپا گیا تھا کہ امریکیوں کو یقین دلائیں کہ پاکستان محض پرامن مقاصد کے لئے ایٹمی پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے۔ بے نظیر بھٹو کو ایٹمی معاملات سے دور رکھا گیا تھا۔ یہ ایک دو دھاری تلوار تھی۔ اگر بے نظیر بھٹو امریکیوں کو قائل کر کے پریسلر ترمیم کے تحت فوجی اور معاشی امداد جاری رکھنے کا سرٹیفکیٹ لے آتیں تو مستقبل میں پاکستان کے 1987ء ہی میں ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کا راز فاش ہونے پر بے نظیر کی عالمی ساکھ تباہ ہو جاتی۔ دوسری طرف اندرون ملک بے نظیر پر قومی مفادات کا سودا کرنے کا الزام دھرا جا سکتا تھا۔ امریکی حکومت نے پہلے اسٹیفن سولارز اور پھر رابرٹ گیٹس کو پاکستان بھیجا۔ رابرٹ گیٹس نے غلام اسحاق خان سے کہا کہ اگر کوئی چیز بطخ کی طرح آوازیں نکالتی ہے، بطخ جیسی نظر آتی ہے اور خود اپنا نام بطخ ہی بتاتی ہے تو اسے بطخ ہی ماننا ہو گا۔ غلام اسحاق خان نے جواب دیا ’لیکن اگر میں کہتا ہوں کہ یہ بطخ نہیں ہے تو پھر یہ بطخ نہیں ہے‘۔ غلام اسحاق خان بطخ کے بارے میں یہ فیصلہ صادر کر سکتے تھے۔ کیونکہ ان کے پیش رو جنرل ضیاء الحق نے وزیر خارجہ زین نورانی کو جنیوا معاہدے پر دستخط کرنے کی صورت میں ایک ناقابل اشاعت دھمکی دی تھی۔ یہ ایک تاریخی کشمکش ہے۔

جسے اسٹیبلشمنٹ کہا جاتا ہے وہ کسی خاص فرد کا نام نہیں، طاقت کے زور پر چھینے ہوئے اختیار کا ایک نیم تاریک منطقہ ہے۔ یہ مقبوضہ اختیار پاکستان کو دولخت کر دے تو اس کا الزام ذوالفقار علی بھٹو پر دھرا جاتا ہے۔ مارچ 1989ء میں جلال آباد حملہ کر کے ہزاروں جانیں گنوا دے تو اس کا تاوان بے نظیر بھٹو کو ادا کرنا ہوتا ہے، کارگل میں ہزاروں بھوکے پیاسے سجیلے جوانوں کو یقینی موت کا سامنا ہو، رسد کا کوئی راستہ موجود نہ ہو تو 4 جولائی 1999ء کو نواز شریف کیمپ ڈیوڈ ارسال کئے جاتے ہیں۔ ایک فریق نے فیصلہ کرنے پر اجارہ قائم کر رکھا ہے۔ غلط فیصلوں کا مردہ لاشہ دوسرے فریق کے گلے میں لٹکا دیا جاتا ہے۔ ابھی محترمہ ملیحہ لودھی نے اقوام متحدہ میں کچھ تصویری ثبوت پیش کیے۔ یہ ایک کمزور ملک کی طرف سے 25اکتوبر 1962ء کے واقعات کی ایک بھونڈی نقالی تھی۔ تب کیوبا کا میزائل بحران جاری تھا۔ امریکی سفیر ایڈلائی اسٹیونسن نے خلائی سیارے سے لی ہوئی تصویریں اقوام متحدہ میں دکھائی تھیں۔ دو روز بعد سوویت یونین نے کیوبا سے میزائل ہٹا لیے۔2017 ء میں تصاویر کے غلط انتخاب سے ہمارا مقدمہ ہی غتر بود ہو گیا۔ کیا کوئی شک ہے کہ بھارتی افواج کشمیر میں ظلم ڈھا رہی ہیں؟ کیا وہ نوجوان کہیں موجود نہیں جسے ڈھال کے طور پر جیپ سے باندھ کر گشت کیا گیا تھا؟ کیا سینکڑوں بچوں کے چہرے چھروں سے مسخ نہیں ہو چکے؟ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے دودھ جیسے اجلے موقف میں بہت سا پانی ملا رکھا ہے۔ حافظ سعید نے افغان مزاحمت کے دنوں میں کوئی کردار ادا نہیں کیا لیکن حافظ سعید کے کشمیر میں کردار کی کوئی مبسوط وضاحت کبھی نہیں دی گئی۔ کیا حافظ صاحب سیاسی جدوجہد میں یقین رکھتے ہیں؟ کیا حافظ سعید مسلح جدوجہد کے داعی ہیں؟ کیا حافظ سعید مذاکرات کی میز پر پاکستان کی نمائندگی کا استحقاق رکھتے ہیں؟ امریکہ سے چین تک جو انگلی اٹھتی ہے، وہ کس بنیاد پر حافظ سعید کا انتخاب کرتی ہے؟

اسی بارے میں: ۔  کڑیو، بالو! موت ونڈیندی، لے لو!

الجھن وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں ہم چالیس برس پہلے افغانستان کی سرزمین پر دو عالمی طاقتوں کی کشمکش کو بدستور افغان جہاد قرار دینے پر مصر ہیں۔ ہمیں اصرار ہے کہ آج طالبان افغانستان کے چالیس فیصد حصے پر قابض ہیں۔ انہیں پاکستان کی زمین استعمال کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ غور فرمائیے کہ افغانستان کے چالیس فیصد رقبے اور پاکستان کے بیچ ڈیورنڈ لائن گزرتی ہے۔ امریکی فوج یہ لکیر پار نہیں کر سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں قیام پذیر تھے۔ ملا منصور اختر پاکستان کی زمین پر مارے گئے۔ 2004ء کے بعد سے ہونے والے ڈرون حملوں میں سینکڑوں ایسے افراد مارے گئے جو پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردی کے مرتکب تھے۔ 2009ء میں ہم نے سوات میں کارروائی کی۔ 2014ء میں آپریشن ضرب عضب شروع کیا۔ 2016ء میں ردالفساد کا آغاز ہوا۔ ویتنام کی لڑائی میں کمبوڈیا محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا تھا۔ سیاسی مالی اور جنگی امداد کو بہت بڑے ہمسایہ ملک سے فراہم کی جاتی تھی۔ چھاپہ مار لڑائی میں زیر قبضہ علاقے کا حجم فیصلہ کن کردار ادا نہیں کرتا۔ تشدد آمیز کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور کارروائی کے بعد فرار ہونے کے لئے پناہ گاہوں کی موجودگی گوریلا فوج کا اصل اثاثہ ہوتی ہے۔ حوالے کے لئے گزشتہ برس سابق صدر پرویز مشرف اور سابق مشیر خارجہ سرتاج عزیز کے بیانات پر بھی ایک نظر ڈال لیں۔
20 جنوری 2002ء کو صدر (تب) پرویز مشرف نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان کی زمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف کارروائی کے لئے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ان دنوں بھارت کی پارلیمنٹ پر دسمبر 2001ء کے حملے کا قضیہ چل رہا تھا۔ دسمبر 1999ء میں قندھار طیارہ ہائی جیک، نومبر 2008ء میں بمبئی حملے اور جنوری 2016ء میں پٹھانکوٹ کے حملے زیادہ دور کی باتیں نہیں ہیں۔ خواجہ آصف سمیت پاکستان کا ہر سیاسی رہنما ہمارے ملک سے مخلص ہے۔ ہم اپنے رہنماؤں کو غیر علانیہ موقف کی ٹکٹکی پر باندھ کر بے دست و پا کر دیتے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  قائد اعظم کی جعلی ڈائری اور صدارتی نظام

خواجہ آصف نے یہی تو کہا ہے کہ غیر ریاستی عناصر ماضی میں ہماری مشترکہ غلطیوں کا تاوان ہیں۔ ہمیں ان سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی سے کام لینا ہوگا۔ ہمیں کچھ مہلت دی جائے۔ بس یہ سنتے ہی چنگاریاں سلگ اٹھتی ہیں۔ قلم کے نیچے رکھا کاغذ انگار وادی بن جاتا ہے۔

جب 1998ء میں بالآخر پاکستان کے صحن میں ایٹمی بطخ کا اعلان کیا گیا تو غلام اسحقق خان سبک دوش ہو کر اپنے گاؤں جا چکے تھے۔ بے نظیر بھٹو جلا وطن تھیں۔ 2008ء میں بمبئی حملے ہوئے تو ایوان صدر میں آصف زرداری کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ یہ معاملہ محض بطخ کی پہچان کا نہیں۔ انگریزی کا ایک محاورہ بطخ کی پہچان سے متعلق ہے۔ بطخ تو صحن میں پائی جاتی ہے۔ انگریزی کا ایک اور محاورہ کمرے میں موجود ہاتھی کا ذکر کرتا ہے۔ جس بدنصیب کو اپنے کمرے میں موجود ہاتھی سے پنجہ آزمائی کرنا پڑتی ہے وہ غریب بطخ کے بارے میں کیا مصدقہ اطلاع دے۔ یوں بھی بطخ اب انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ احتساب کے تابندہ سورج کی کرنوں میں بطخ کے پر برف کے گالوں جیسے سفید اور اجلے نظر آتے ہیں۔ ادھر ہمارے دامن پر سیاہ نشان پھیلتے چلے جا رہے ہیں۔ یہ میرا دامن صد چاک، یہ ردائے بہار…


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔