اگر ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کا صدر بن گیا تو؟


zeeshan hashim مغربی میڈیا پر سب سے زیادہ بحث ہونے والا موضوع آج کل ڈونلڈ ٹرمپ ہے۔ فرید زکریا نے سی این این کے لئے اپنے پروگرام کا عنوان رکھا “ٹرمپ کی مقبولیت کا ذمہ دار کون ہے؟ “۔ امکان زیادہ یہی ہے کہ ٹرمپ الیکشن نہیں جیت سکے گا، اور ڈیموکریٹکس کے لئے نیک شگون یہی ہے کہ ان کا مقابلہ ریپبلکن ڈونلڈ ٹرمپ سے ہو کیونکہ اس طرح ہیلری کلنٹن رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کر سکتی ہے۔ مگر Anne Applebaum ایک سوال اٹھاتی ہے جس پر غور و فکر ہمارے اضطراب میں بڑھاوا دیتا ہے۔ وہ کہتی ہیں “اس وقت کیا صورتحال جنم لے گی جب فرض کیا کسی مد مقابل ڈیموکریٹ امیدوار کا کوئی سکینڈل سامنے آ جاتا ہے؟ یا نیو یارک اور واشنگٹن میں اسلامی شدت پسند کوئی بڑی دہشت گردی کی کارروائی کرتے ہیں؟ تو کیا اس صورت میں ٹرمپ کو روکا جا سکے گا؟ جواب تقریبا نہیں میں ہے”

ٹرمپ ہار جاتا ہے یا جیت جاتا ہے مگر ریپبلکنز میں جس طرح اس نے مقبولیت حاصل کی ہے وہ امریکی جمہوریت کے لئے شرمندگی کا باعث ضرور ہے۔ اس کا پرائمری الیکشن میں اس طرح آگے آنا، اور ریپبلکنز کے بقیہ تمام امیدواران کا مل کر بھی اس قابل نہ ہونا کہ اسے مباحثوں میں نیچا دکھا سکیں اس بات کا اظہار ہے کہ ریپبلک پارٹی میں مکالمہ کی ثقافت انتہائی کمزور ہے۔ ٹرمپ کی موجودگی چند سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے جس پر تمام جمہوریت پسند دوستوں کو غور کرنا ضروری ہے کہ ایک سماج میں سیاست یا سیاسی مکالمہ کی حد کیا ہے؟ جمہوریت کا دائرہ اختیار کہاں تک ہے؟ کیا وہ ثقافت اور معیشت جیسے امور میں مداخلت کر سکتی ہے جن میں تعاون و تبادلہ کی آزاد روح ارتقائی سفر پر ہوتی ہے؟ کیا جمہوریت ثقافت و معیشت پر اپنی آمریت نافذ کرسکتی ہے؟ کیا انتخابات میں فاتح جماعت تنوع پسندی اور انسانی حقوق پر حملہ آور ہو سکتی ہے؟ کیا سیاسی مکالمہ زبان دراز اور بد تہذیب ہو سکتا ہے؟ یہ اور اس طرح کے سوالات اٹھائے بغیر سیاسی مکالمہ کو جدت نہیں دی جا سکتی۔ اور سب سے اہم چیلنج یہ کہ ان علمی و فکری نتائج کو عملی حقائق سے کیسے ہم آہنگ کیا جائے؟

Donald-Trump-Adolf-Hitlerسوال یہ بھی ہے کہ کیا “ٹرمپ کہانی ” اہل مغرب میں نئی ہے؟ ایسا بالکل نہیں ہے۔ امریکی انقلاب کے فوراً بعد جو دو سوال سیاسی مکالمہ میں گرم تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ کیا جمہوریت اکثریت کی آمریت کا نام ہے؟ اگر نہیں تو اس آمریت سے کیسے بچا جائے۔ سیاسی مکالمہ اس جواب پر آ کر متفق ہوا کہ سیاست کا دائرۂ کار محدود رکھا جائے، سیاست کا کام انتظامی ہو، اور گورنمنٹ اچھی وہی ہو گی جو اپنے دائرہ کار میں محدود ہو گی۔ ٹرمپ قسم کے کردار اہل مغرب میں بار بار سامنے آئے ہیں المیہ یہ ہے کہ پاکستان کی طرح وہاں کی عوام کی بھی یادداشت تاریخی تجربات میں کافی کمزور ہے۔

ہمیں دور جانے کی ضرورت نہیں۔ ہٹلر کو ہی دیکھ لیتے ہیں۔ وہ اسباب جو ہٹلر کو جنم دے رہے تھے اسی سے ملتے جلتے اسباب ٹرمپ اور Viktor Orbán (ہنگری کی وزیراعظم ) کو جنم دے رہے ہیں۔ جرمن معیشت زبوں حال تھی، بے روزگاری کی شرح بلند تھی اور طاعون سے ہلاکتیں بہت زیادہ تھیں۔ عام تاثر یہ تھا کہ ان دونوں اسباب کی جڑ یہودی ہیں۔ یوں اس سے خلاصی کے لئے واحد حل یہ ہے کہ یہودیوں کو یہاں سے نکال دیا جائے اور ریاست معیشت کا ذمہ اٹھائے۔ اسی پس منظر میں ہٹلر آگے آیا۔ فن خطابت میں ٹرمپ کی طرح بے خوف اور منہ پھٹ تھا، جذباتی تھا، اور رائے عامہ کو دھوکہ دینے کے فن سے آشنا تھا۔

دیکھئے معیشت ایک سائنس ہے، بحران کیوں ہے کا جواب بھی ویسے ہی تلاش کرنا ضروری ہے جیسے یہ کہ مریض میں طاعون کی بیماری کیوں ہے۔ کسی بھی معاملہ کی سائنس سمجھنا ایک کٹھن اور وقت طلب کام ہے جس میں سامع اور خطیب دونوں ٹھنڈے مزاج کے ہوں اور غور و فکر کا مادہ رکھتے ہوں۔ رائے عامہ ان معاملات میں عموما جلد باز ہوتی ہے اور شارٹ کٹ کی نفسیات کو پسند کرتی ہے۔ شارٹ کٹ کی نفسیات کا غلبہ اس وقت نہیں ہوتا جب معلومات تک رسائی تمام فریقین کو حاصل ہو اور وہ دلیل و خرد مندی سے حقائق کا تجزیہ کریں۔ اس کا جنم اس وقت ہوتا ہے جب سیاسی مکالمہ جذبات اور عقل و شعور کو ہیجان زدہ اور مضطرب کر دے، جب معلومات کو مسخ کیا جائے جیسا کہ ہٹلر کے دور میں یہ پروپیگنڈہ کیا گیا کہ معاشی ابتری اور طاعون کا سبب یہودی نسل ہے۔

مغرب میں رائے عامہ کی “ٹرمپ نفسیات” کی وجوہات بھی “ہٹلرنفسیات ” سے ملتی جلتی ہیں۔ معیشت اخلاقیات پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ اس وقت مغربی معیشت بہت زیادہ میچور ہو چکی ہے۔ اب نہ سرمایہ کا کام باقی ہے اور نہ لیبر کا، اب معیشت کا انحصار تخلیقی صلاحیت (Productivity ) اور قوت اختراع (Innovation ) پر ہے۔ پوری دنیا سے ٹیلنٹ، آئیڈیا، اور مہارت مغرب کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ اس وقت امریکی ارب پتیوں کی اکثریت سائنس و ٹیکنالوجی یا مارکیٹ جدت پسندی میں پہلا قدم اٹھانے والوں کی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق امریکی تخلیقی قوت کا نصف سے زائد تارکین وطن کی وجہ سے ہے۔ ان مغربی ممالک میں وہ مقامی لوگ جو مسابقت کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں ان کے خیال میں تارکین وطن (امیگرنٹس) نے یا بھارت و بنگلہ دیش جیسے ممالک میں کمپیوٹر پر بیٹھے (outsourcing ) کسی شخص نے ان سے ان کا روزگار چھین لیا ہے جسے بڑھاوا مقبولیت پسند جمہوریت سے مل رہا ہے جس میں سیاست دان ووٹ لینے کے لئے رائے عامہ کی ہاں میں ہاں ملا دیتے ہیں۔

جس کٹہرے میں ہٹلر کے جرمنی نے یہودیوں کو کھڑا کیا تھا اسی کٹہرے میں مقبولیت پرست سیاستدانوں نے مہاجرین (امیگرنٹس) کو لا کھڑا کیا ہے۔ مغرب اپنے سیاسی مکالمہ میں اس عزم سے دور ہوتا جا رہا ہے کہ سیاست معیشت اور ثقافت میں کم سے کم مداخلت کرے گی، اور سیاست کا بنیادی رجحان انتظامی اور ترقی کی دوڑ میں سہولت کار کا ہو گا۔

اس کی مثالیں ہمارے ملک میں بھی وافر مقدار میں موجود ہیں۔ جب کراچی ملکی معیشت کی ھب سمجھا جاتا تھا، پنجاب اور باقی حصوں سے لوگوں نے روزگار کی خاطر کراچی کا رخ کیا تو وہاں کی مقامی آبادی نے یہ سمجھا کہ ہمارا روزگار ہم سے چھینا جا رہا ہے اور ہمیں اقلیت میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اس سارے معاملہ کو مزید خراب سیاست دانوں نے ووٹ کی خاطر کیا، اسٹیبلشمنٹ نے بھی اپنے مزموم مقاصد حاصل کرنے کے لئے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے، یوں قوم پرست سیاست نے جنم لیا، اور اسی طرح کی قوم پرستی ٹرمپ پیدا کر رہا ہے۔

دوسری مثال اس وقت کی ہے جب افغان مہاجرین لاکھوں کی تعداد میں پاکستان آئے اور انہوں نے یہاں روزگار کے مواقع میں شامل ہونا شروع کیا۔ نتیجہ کیا نکلا؟ عوامی رائے عامہ کا مقبول بیانیہ یہ تھا کہ ان لوگوں نے آ کر ہماری مزدوریاں چھین لی ہیں۔ یہ سستی مزدوری پیش کر کے ہمیں مارکیٹ سے باہر نکال رہے ہیں۔

اب کرنا کیا چاہئے؟ اس صورتحال سے مغرب کیسے نکلے؟ مسئلہ اس کے دانشوروں میں نہیں ووٹرز کی ایک بڑی تعداد میں ہے۔ دانشوروں کی اکثریت سماج سیاست اور معیشت کی حرکیات کو سمجھتی ہے، اور اس کے چیلنجز سے باخبر ہے۔ ٹرمپ کی سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے ولیم ایسٹرلی لکھتے ہیں ” یقینا ہمیں ٹرمپ کا راستہ روکنا چاہئے، مگر کیسے؟ ووٹ تو ووٹر کے پاس ہے اور اسے اس نے ہی استعمال کرنا ہے “

خلاصہ کلام یہ کہ اگر ٹرمپ صدر بن بھی جاتا ہے تو جلد ہی مغرب اس سبق کو دوبارہ سے سیکھ جائے گا جو اس نے ہٹلر کے بعد سیکھا تھا کہ جمہوریت کو اپنے دائرے میں میں رہنا چاہئے۔ سیاست کا اپنا دائرہ کار ہے تو معیشت و سماج کا اپنا، جب ان میں سے کوئی ایک بھی اپنے دائرہ کار سے انحراف کرتا ہے استحصال کا خطرہ سر پر منڈلانا شروع کر دیتا ہے۔ اور سو باتوں کی ایک بات جمہوریت اپنے سیاسی مکالمہ میں انسانی حقوق کی اقدار سے انحراف نہیں کر سکتی وگرنہ اس سے ہٹلر اور ٹرمپ ازم جنم لینا شروع کر دیتے ہیں۔ جب سماج آزاد انسانوں کی آزاد حرکیات کے بجائے سیاستدانوں کی مرضی کے سپرد کر دیا جاتا ہے تو بحران اور حماقتوں کا راستہ روکنا آسان نہیں رہتا۔


Comments

FB Login Required - comments

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 92 posts and counting.See all posts by zeeshan

3 thoughts on “اگر ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کا صدر بن گیا تو؟

  • 10-03-2016 at 11:36 pm
    Permalink

    Eye opening Zeeshan sb, plz write more on the relationship of Politics, Economy and Culture.

  • 11-03-2016 at 11:10 am
    Permalink

    nice article, very calculated

  • 11-03-2016 at 11:11 am
    Permalink

    very informative and calculated as well as articulated article

Comments are closed.