کشمیر: بی ایس ایف کیمپ پر حملہ، تصادم جاری


انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں ایئرپورٹ کے پاس بی ایس ایف کیمپ پر ایک حملہ ہوا ہے جس میں تین فوجی زخمی جبکہ دو حملہ آوروں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ تین حملہ آوروں نے انتہائی سکیورٹی والے بی ایس ایف کے کیمپ پر منگل کی صبح سویرے حملہ کیا ہے۔
سرینگر میں اعلیٰ پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے انھوں نے دو حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا ہے جبکہ تصادم ابھی جاری ہے۔

پولیس کے ترجمان منوج کمار نے کہا کہ تین فوجی اس حملے میں زخمی ہوئے ہیں۔ انھوں بتایا کہ ہوائی اڈے پر مختصر وقت تک پروازیں منسوخ رہنے کے بعد پروازیں از سر نو بحال کر دی گئی ہیں۔
آپریشن میں شامل ایک پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا: ‘شدت پسندوں نے کیمپ پر حملہ کیا لیکن وہ ایک انتظامی عمارت میں پھنس گئے ہیں۔ کم از کم ایک شدت پسند ابھی بھی افسروں کے میس میں ہے۔’
اس سے قبل سرینگر کے پولیس آئی جی منیر خان نے مقامی صحافی ماجد جہانگیر کو بتایا: ‘حملہ صبح تقریبا چار بجے ہوا۔ بارڈر سکیورٹی فورسز کی 182 بٹالین کے کیمپ میں تین شدت پسند داخل ہو گئے تھے۔’
انھوں نے بی ایس ایف کے دو جوانوں کے اس حملے میں زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔
انڈیا کی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق پولیس نے اس ‘خودکش حملہ’ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہاں سے ایک لاش ملی ہے جو کہ حملہ آور کی ہو سکتی ہے۔
آئی جی منیر خان نے بتایا کہ ابھی تصادم جاری ہے۔
ہمارے نمائندے ریاض مسرور نے بتایا ہے کہ حملے کے بعد سرینگر ہوائی اڈے کو جانے والی تمام سڑکیں سیل کر دی گئی ہیں جبکہ کلیئرینس ملنے تک تمام پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  بھارت کا سپرسونک میزائل کا کامیاب تجربہ

اس سے قبل جنوری میں جموں کے سرحدی قصبہ اکھنور میں واقع جنرل ریزرو انجنئرنگ فورس یا گریف کے کیمپ پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی تھی جس میں کم از کم تین فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔
جبکہ جون میں قاضی گنڈ علاقے میں مسلح شدت پسندوں نے انڈین فوج کے ایک کانوائے پر گھات لگا کر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں چھہ فوجی شدید زخمی ہو گئے اور ان میں سے ایک کی بعد میں موت ہو گئی تھی۔
انڈین فوج اور مقامی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وادی میں جاری طویل آپریشن میں اب 180 شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں جن میں کئی اعلی کمانڈر بھی شامل ہیں۔
خیال رہے کہ ایک مقبول شدت پسند لیڈر برہان وانی کی گذشتہ سال جولائی میں ہلاکت کے بعد سے کشمیر میں شدت پسندی کی نئی لہر دیکھی گئی ہے۔
ہمارے نمائندے کا کہنا ہے کہ اگر چہ کمشیر میں ملیٹینسی بظاہر کم ہوتی نظر آ رہی ہے لیکن دارالحکومت کے انتہائی سکیورٹی والے علاقے میں ‘فدائی حملے’ سے سکیورٹی ایجنسیوں میں خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 960 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp