رینجرز عدالت میں کیوں پہنچے تھے؟


کل سے وفاقی وزیر داخلہ جناب احسن اقبال نے بلاوجہ شور مچایا ہوا ہے کہ رینجرز ان کے ماتحت ہیں اور وہ کہیں اور سے احکامات لے رہے ہیں، یوں سٹیٹ کے اندر سٹیٹ برداشت نہیں کی جائے گی، وہ استعفی دے دیں گے، وغیرہ وغیرہ۔

خواجہ سعد رفیق صاحب نے ان کے جذبات کی قدر نہیں کی اور ٹی وی پر میٹھی میٹھی باتیں کرتے رہے جو احسان اقبال صاحب کو میٹھا زہر لگ رہی ہوں گی۔ کل رات حامد میر صاحب نے بھی ٹی وی پر یہ انکشاف کیا کہ وفاقی وزرا اجتماعی طور پر احسن اقبال صاحب پر پانی ڈال کر انہیں ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں کچھ ایسے سے ہی الفاظ ہمیں یاد آ رہے ہیں۔ بہرحال معمہ یہ ہے کہ رینجرز کو کس نے عدالت میں طلب کیا تھا۔

پہلے اطلاع ملی کہ جج صاحب نے بلایا تھا۔ جج صاحب نے تردید کر دی۔ پھر اطلاع ملی کہ ایس ایسی پی صاحب نے خط لکھ کر بلایا تھا۔ مگر اطلاع ملی کہ رینجرز طلب کرنے کا اختیار صرف ڈپٹی کمشنر کو ہوتا ہے اور ڈپٹی صاحب نے پولیس کپتان صاحب کی تجویز رد کر دی تھی۔ اب کسی کو خبر نہیں ہے کہ رینجرز کو کس نے بلایا تھا۔ احسن اقبال صاحب نے چند گھنٹے کے اندر اندر تحقیق کر کے بتانے کا کہا تھا مگر اب تو چوبیس گھنٹے گزرنے کو ہیں اور کوئی خبر نہیں۔ دکھائی یہی دیتا ہے کہ یہ رپورٹ بھی حمود الرحمان کمیشن رپورٹ اور دیگر حساس قومی دستاویزات کی طرح دفن کر دی جائے گی۔ مثل مشہور کر دی گئی ہے کہ جان ہے تو جہان ہے۔

قوم اور حکومت کی یہ بدقسمتی ہے کہ حکومت ایسے نازک مواقع پر سینئیر تجزیہ کاروں یعنی حضرت اوریا مقبول جان، حضرت زائد حامد یا راقم الحروف سے مدد لینے کی بجائے بیکار قسم کے کمیشن بنا کر تحقیقات میں قوم کا وقت اور پیسہ برباد کرتی ہے۔ ورنہ کل ہی ہم سے پوچھ لیتے تو ان کو علم ہوتا کہ رینجرز کیوں کچہری میں یکلخت نمودار ہو کر امن و امان کی صورت حال اپنے کنٹرول میں لے بیٹھے تھے۔

ہمارے تجزیے کے مطابق، رینجرز نے وزیر داخلہ اور اسلام آباد کی انتظامیہ کے احکامات پر عمل کیا تھا۔ آپ کو یاد ہو گا کہ رینجرز کو اسلام آباد میں انہیں حکام نے تعینات کیا تھا اور ان کو آرڈر کیا تھا کہ دیکھو امن امان کی صورت حال کسی صورت میں بگڑنے نہیں دینی۔ محرم میں ان کو خاص طور پر چوکس رہنے کا کہا گیا تھا۔

آپ کو یاد ہو گا کہ دو اکتوبر کو گیارہ محرم کا دن تھا۔ محرم کا پہلا عشرہ گزر گیا تھا جس میں نو اور دس محرم خاص طور پر حساس دن سمجھے جاتے ہیں مگر اس پورے مہینے ہی اہل تشیع کے سر پر دہشت گردی کا شدید خطرہ منڈلاتا رہتا ہے۔

ایسے میں گیارہ محرم کی صبح کو جب رینجرز کی مقامی گاڑی نے اپنی ہائی کمان کو یہ اطلاع دی ہو گی کہ اسلام آباد کے ایک احاطے میں کالا لباس پہنے ہوئے بے شمار لوگ اکٹھے ہو رہے ہیں تو رینجرز حکام نے یہی سمجھا ہو گا کہ اس احاطے میں کوئی مجلس وغیرہ ہو رہی ہے۔ انہوں نے دہشت گردی سے بچنے کی خاطر اس عمارت کو ویسے ہی سیل کر نے کے احکامات دیے ہوں گے جیسے نو اور دس محرم کے اجتماعات اور جلوسوں کے باب میں دیے گئے تھے۔ یعنی صرف منظور نظر افراد ہی اس میں مقرر کردہ راستوں سے داخل ہو سکیں گے۔

جب وزیر داخلہ کالے کی بجائے نیلا لباس پہنے تنتناتے ہوئے کچہری کی طرف بڑھے تو محافظوں کے دل میں ان کا یہ انداز دیکھ کر یہ خیال لازمی طور پر پیدا ہوا ہو گا کہ وزیر داخلہ کی نیت نیک نہیں ہے اور وہ دنگا فساد کرنا چاہتے ہیں۔ ممکن ہے کہ کسی محافظ کو معزز سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی یاد آ گیا ہو جس میں لکھا تھا کہ یہ لوگ ڈان اور گاڈ فادر وغیرہ ہیں۔ انہیں دیکھتے ہی گیٹ پر تالا لگا دیا گیا تو اس میں تعجب کیسا؟ غصہ کس بات پر؟ یہ تو عوام کی حفاظت کے لئے اٹھایا گیا قدم تھا جس کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 764 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar