یہاں سے آگے سمندر ہے یا ہریالی


محمد شہزاد صاحب نے بہت تلخ لہجے میں بات کی ہے۔ مولوی کوئی عفریت نہیں ہے اور نا کوئی قابل نفرت یا قابل حقارت گروہ ہے۔ مذہبی پیشوا ہونا مذہبی آزادی کے بنیادی حق کا حصہ ہے۔ انسان ہونے کے ناتے مولوی صاحبان تمام انسانوں کے مساوی حقوق، رتبہ اور احترام کے حقدار ہیں۔ پاکستان کا شہری ہونے کے ناتے ان کے حقوق دیگر تمام شہریوں کے برابر ہیں۔ مولوی صاحبان ہماری تاریخ، تہذیب اور اجتماعی زندگی کا ایک اہم حصہ ہیں۔ علمائے کرام نے ہماری آزادی کی تحریک اور قیام پاکستان کے بعد جمہوریت کے لئے جدوجہد میں قابل قدر کردار ادا کیا ہے۔ اجتماعی زندگی میں اقدار، خیالات اور افکار میں اختلاف کا حق ہم سب کو ہے لیکن اس اختلاف میں بنیادی انسانی احترام اور حس انصاف کو مجروح نہیں ہونا چاہیے۔ اختلاف رائے کو منافرت اور تفرقے کی بنیاد نہیں بننا چاہیے۔ اگر کسی سوچ اور نقطہ نظر کے علم برداروں میں اپنے مخالف نقطہ نظر کے حامل انسانوں کے لئے ایسا قطبی اور قطعی رویہ جنم لیتا ہے تو وہ اس نقطہ نظر ہی کے لئے نقصان کا باعث بنتا ہے۔ ادارہ ‘ہم سب’ اپنی آزادی اظہار کی پالیسی کی بنیاد پر اختلافی نوٹ کے ساتھ یہ تحریر شائع کر رہا ہے۔۔۔ مدیر

 muhammad Shahzad سنا ہے دس لاکھ لوگ تھے ممتاز قادری کے جنازے میں۔ کوئی بتا سکتا ہے کہ ان میں سے کتنوں نے مذہبی جماعتوں کو ووٹ دیے تھے؟ کتنے اگلے چناﺅ میں مذہبی جماعتوں کو ووٹ دیں گے؟ جو لوگ ممتاز قادری کے نام پر اپنی سیاست چمکا رہے ہیں ، الیکشن لڑ کر دیکھ لیں ۔ معلوم ہو جائے گا کہ کس حد تک وہ پارٹی اپنی مقبولیت کھو بیٹھی جس نے ممتاز قادری کی پھانسی کی سزا پر عمل کیا۔ کوئی اگر یہ سمجھ رہا ہے کہ قادری کی پھانسی سے ملک میں انقلاب آ جائے گا تو وہ کسی خوش فہمی کا شکار ہے۔ قادری کی پھانسی کو اچھالنے والے بھی کوئی انقلابی نہیں، محض موقع پرست مولوی ہیں۔ ان کا مقصد بھی الیکشن جیتنا نہیں، بس اپنی گدی پکی کرنا ہے۔ بہت چھوٹا سا ایجنڈہ ہے۔ کچھ کرنا نہ پڑے اور حلوہ ملتا رہے۔ اس کے لئے بھلے کسی بھی سیدھے سادھے ’ممتاز قادری‘ کو گمراہ کرنا پڑے تو کر دو۔ پھر اسے عاشقِ رسول بنا دو۔ کسی کے کہنے سے کوئی عاشق نہیں بن سکتا ۔ یہ تو محبوب طے کرے گا کون اس کا سچا عاشق ہے۔ عاشقی کا دعویٰ تو کوئی بھی کر سکتا ہے۔

 تو بھائی بھلے ایک کی بجائے دس قادری پھانسی پا جائیں، عوام نے ووٹ تو مسلم لیگ، پیپلز پارٹی یا تحریک انصاف یا اسی قبیل کی کسی جماعت کو دینا ہے۔ جماعتِ اسلامی جتنے چاہے، غائبانہ جنازے پڑھا دے۔ اور عوام جنازہ پڑھنے تو ضرور آئیں گے مگر ووٹ ان ہی کو ملے گا جو روزِ اول سے اس ملک پر حکمرانی کرتے آ رہے ہیں۔ اور لبرل کیوں پریشان ہو رہے ہیں اگر قادری کو ہیرو بنایا جا رہا ہے۔ یار اس بیچارے نے جان دی ہے۔ اب قبر میں پوری انسانیت کو قتل کرنے کا حساب دے رہا ہو گا۔ (میرا خیال ہے کہ گزشتہ پندرہ برس میں دہشت گردی کے عذر خواہوں نے سب سے زیادہ تواتر سے یہ قرانی آیت دہرائی ہے کہ جس نے ایک انسان کو نا حق قتل کیا، اس نے ساری انسانیت کو قتل کر دیا)۔ اسے کیا معلوم اس دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ وہ تو چلا گیا۔ اب اس کا اس دنیا سے کیا لینا دینا۔ اب اسے ہیرو بناﺅ یا قاتل ۔ وہ اپنے انجام کو پہنچ گیا اور اب ہماری گرفت سے آزاد۔ مولویوں نے تو اسے ہیرو بنانا ہی ہے۔ اس غریب کی بدولت ہی تو مولوی کی اگلی سات پشتیں راج کریں گی۔ ابھی مزار بنے گا۔ عرس ہوا کریں گے۔ صدقے کے بکرے کٹیں گے۔ بریانی پکا کرے گی۔ مولوی اور اس کی آنے والی نسل تا حیات راج کرے گی۔ متولی ہوں گے۔ گدی نشین ہوں گے۔ سادہ لوح لوگ منتیں مانیں گے۔ منت پوری تو اللہ کرے گا۔ مگر مولوی بتائے گا کہ ممتاز قادری نے کیا ہے۔ اور اس طرح مریدوں کا سلسلہ وسیع ہوتا چلا جائے گا۔

مولویوں کی منافقت ملاحظہ ہو۔ قادری جیسے سادہ لوح لوگوں کو بہکاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم کسی قانون کو نہیں مانتے۔ گستاخ کون ہے؟ یہ فیصلہ بھی ہم ہی کریں گے اور سزا بھی ہم ہی دیں گے مگررحم کی بھیک ان قوانین کے تحت مانگیں گے جنہیں وہ مانتے ہی نہیں! مگر اس قانون کونہیں مانتے جس کا یہ فیصلہ ہے کہ سلمان تاثیر نے تو صرف نشان دہی کی تھی کہ اس توہینِ رسالت کے قانون میں کیا کیا خامیاں ہے جس کی وجہ سے اس کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ اسمبلی کے بنائے ہوئے قانون کی خامیوں کی نشاندہی کرنے سے توہینِ کا پہلو نہیں نکلتا۔ ابھی تو یہ طے کرنا بھی باقی ہے کہ گستاخی کسے کہتے ہیں۔ اس سے پہلے یہ طے کر نا بھی باقی ہے کہ کونسا فرقہ مسلمان ہے۔ رسول ﷺکی تعلیمات پر تو عمل کرتے نہیں، ہاں دوسروں کو قتل کرنے کی ترغیب دیتے ہو۔ تمہارے ان اعمال کو دیکھ کر اب کون غیر مسلم اسلام قبول کرے گا۔ ہمارے پیارے نبی ﷺتو اس عورت کی تیمارداری کیا کرتے تھے جو ان پر کوڑا پھینکتی تھی۔ آپ کے اسی حسنِ اخلاق سے متاثر ہو کر اس نے اسلام قبول کیا۔ اور تم ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگاتے ہو اور ایک دوسرے کی گردنیں اتارتے ہو۔ تم نے اسلام کی کیا خدمت کرنی ہے۔ تمہاری وجہ سے تو اسلام دینا بھر میں بدنام ہورہا ہے۔تمہاری درندگی دیکھ کر ہی مغرب کو اسلام ایک پرتشدد مذہب دِکھائی دیتا ہے۔

 رسول ﷺنے تو بہت کچھ کہا ہے۔ رسول ﷺتو ساری انسانیت کے لئے رحمت بن کر آئے۔ رسول ﷺنے تو درگذر کا سبق دیا۔قران کا تو حکم ہے کہ اپنی بیٹی اور بہن کو جائیداد میں حصہ دو۔ تم تو ان کی شادیاں قران سے کرا دیتے ہو اور ان کا حصہ ہڑپ کر جاتے ہو۔ قبر میںےہی مال سانپ بچھو بن کر تمہیں ڈسے گا۔ تم رسول ﷺکے ٹھیکیدار کب سے بن گئے۔ تم دن رات رسول کے احکامات کی سراسر نافرمانی کرتے ہو ۔ اپنے گریبان میں جھانکو۔ تم نے اپنی قبر میں جانا ہے۔

ؑقادری کے جان نثاروں کو حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا شوق ہے ان کیلئے مفت مشورہ یہ ہے کہ یہ کام فوراً سے پیشتر کر لیا جائے۔ دیکھتے ہے کون ڈٹتا ہے ڈنڈوں، گولیوں کے آگے۔ اگر ریاست یہ ٹھان لے کہ اس نے اپنی رٹ نافذ کرنی ہے تو کوئی مائی کا لال ریاست کو چیلنج نہیں کر سکتا۔ ممتاز قادری کے چند ’عاشق‘ ایسے بھی ہیں جو ممتاز قادری کے فرقے کو کافر گردانتے ہیں۔ ان میں سے ایک ’جلیل القدر‘ ہستی ہر حکومت کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا موقع نہیں گنواتے ۔ ممتاز قادری کے واقعے پر حکومت کو للکارتے ہیں اور اسی ہانڈی میں سوراخ کرتے ہیں جس میں کھاتے ہیں۔ حضور حکومت کے پروٹوکول پر لات ماریں۔ کشمیر کمیٹی کی سربراہی پر لعنت بھیجیں اورجائیے ممتاز قادری کے مزار پر جھاڑو لگائیںاور اپنی مغفرت کروائیں۔ ممتاز قادری کے نام پر جتنا بھی پیسہ اکھٹا ہو گا اس سے کوئی سکول، کوئی ہسپتال یا ڈیم نہیں بننا۔ مفادات کی فصل صرف مولوی اور اس کی ذریات ہوں گی۔ غریب آدمی غریب ہی مرے گا۔ وہ منافق جس نے ممتاز قادری کو بھڑکایا کہ جا مار دے تاثیر کو پولیس میں یہ بیان دے کر چھوٹ گیا کہ وہ تو جانتا ہی نہیں قادری کو۔ اور اب قادری کے مزار کا متولی بننے جا رہا ہے۔ مولویوں کو کبھی علم دین اور کبھی قادری ملتے رہیں گے جو معصوم لوگوں کو انسانیت کے قتل پر اکساتے رہیں گے اور سادہ لوح مرید قتل کرتے رہیں گے ۔ اس بات کو کون سمجھے گا کہ ایک نا حق قتل ساری انسانیت کا قتل ہے۔

حکومت اور ریاست کی آنکھیں اب تو کھل جانی چاہیےں۔ ممتاز قادری کو پھانسی لگا دینے سے کچھ نہیں ہونے والا۔ ضربِ عضب کے تحت فضائی بمباری کر کے دو چار دہشت گرد مارنے سے بھی کچھ نہیں ہوتا۔ کب تک مچھر یا لال بیگ مارو گے؟ جس گندگی میں یہ پلتے ہیں وہ صاف کرو۔ وہ گندگی ہے ہمارے نصابِ تعلیم میں، مدرسوں کے نفرت پر مبنی نصاب میں اور فرقہ واریت کے ابواب میں۔ یہ گندگی ہے پرنٹ اور الیکٹرک میڈیا میں جو بلا خوف و خطر ممتاز قادری جیسے درندہ صفت قاتل اور مجرم کو عاشقِ رسول بنا کر خود توہینِ رسالت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ایسے میڈیاچینل اور اخبارات پر فوراً پابندی لگائی جائے۔ اور ایک نیا قانون بنایا جائے جس کے تحت ہر اس شخص کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیئے جو معاشرے میں اشتعال انگیزی پھیلائے۔ آئے روز ہر زید، عمر اور بکر اخبارات میں ایسے بیان دے رہا ہوتا ہے جو معاشرے کے امن کے لئے شدید خطرہ بن سکتے ہیں۔ ایک مولوی کا ایسا ہی بیان سن کر ایک بچے نے اپنا ہاتھ خود ہی کاٹ لیا کیونکہ اس نے بچے کو یہ باور کروا دیا کہ اس نے توہینِ رسالت کی ہے۔ جہالت اس معاشرے کی سب سے بڑا دشمن ہے جسے پھیلانے میں مولوی اور مذہب کے ٹھیکیدارسب سے آگے ہیں۔ سرکار اور ریاست کو ایسی آوازوں کو آگے لانا چاہیئے جو امن کی آواز کو، دلیل کی آواز ہو۔ جن میں توازن ہو۔ اگر ایسا نہ کیا تو خرابی ملک کے ہر کونے میں پھیل جائے گی، ناسور بن کر معاشرے کے جسم میں پھیل جائے گی اور پاکستان باقی ماندہ دنیا سے کٹ جائے گا۔ اب بھی حالات کچھ اچھے نہیں۔ پاکستانی پاسپورٹ کی کیا وقعت ہے یہ سب کو معلوم ہے۔ اب موجودہ اور آنے والی حکومتوں اور ریاست نے یہ طے کرنا ہے کہ وہ دنیا کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں یا طالبان یا داعش بننا چاہتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments