کیا نواز شریف نے انتقام لے لیا ہے؟ 


ہارون رشید۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد۔

نواز شریف بھی وہ سادہ کشمیری ہے جو دل کی بات چھپا نہیں سکتا۔ جو دل میں ہے وہی صاف آپ ان کے چہرے سے پڑھ سکتے ہیں۔ 28 جولائی کو سپریم کورٹ کی جانب سے نا اہلی کے بعد جو غصہ ان کے چہرے سے ٹپک رہا تھا وہ آج اعتماد میں اضافے اور اطمینان کے جذبات سے لبریز دکھائی دے رہا تھا۔

مسلم لیگ ن کی صدارت بلامقابلہ جیت کر انھوں نے اپنے مخالفین کو ایک سیاسی ’چپت‘ ضرور رسید کی ہے۔

پارٹی کی حمایت سے سرشار نواز شریف نے اتنخابی ترمیم کے ذریعے اپنے بڑے سیاسی حریف اور سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کو بقول ان کے منہ پر ان کا سنہ 2000 میں بنایا گیا قانون دے مارا ہے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ قانون انہیں سیاست سے باہر رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ آج ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے نواز شریف نے کم از کم آدھا انتقام تو لے ہی لیا۔ نواز شریف کی مسرت کا اظہار ان کی جانب سے بھی سیاسی شعر پڑھ کر ہوتا تھا۔

کنوینشن سینٹر مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں سے اٹا پڑا تھا۔ نواز شریف جو سینٹر میں ’شیر آیا، شیر آیا‘ کے نعروں میں داخل ہوئے تو ایسا لگا جیسے وہ کئی مرتبہ آؤٹ ہونے کے بعد اب دوبارہ ایک نئی اننگز کھیلنے میدان میں اترے ہیں۔

ہوم کراوڈ کا نشہ بھی ان کے اعتماد کو جلا بخش رہا تھا۔ پھر یہ میچ تو فرینڈلی میچ تھا اور نواز شریف نے دوچار چوکے چھکے خوب لگائے۔ پارٹی کی جنرل کونسل کا اجلاس نہیں بلکہ یہ انتخابی ترمیم کا جشن تھا۔

مسلم لیگ ن کے پاکستان بھر سے آئے اراکین اور سینیئر رہنماؤں اور اراکین پارلیمان سے کھچا کھچ بھرے کنونشن سینٹر میں جماعت کے الیکشن کمشنر چودھری جعفر اقبال نے باضابطہ طور پر ان کی جیت کا اعلان کیا۔

یہ اعلان صدر مملکت ممنون حسین کی جانب سے کل رات گئے انتخابی ترمیم کے بل پر توثیق کے دستخط کی سیاہی کے خشک ہونے سے قبل ہی کر دیا گیا۔

جب کونسل سے ایک قرارداد کے ذریعے اس بات کی منظوری لی گئی کہ نواز شریف اب مسلم لیگ کے دیگر عہدوں پر تقرری کرنے کے اہل بھی ہوں گے تو میری بغل میں بیٹھے ایک دو کارکنوں نے چیخ کر ہاں کہا لیکن پھر قدرے کم آواز میں کہا ’ساڈی واری وی آن دیو‘ اور ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے ہنس دیے۔

چند پارٹی کارکنوں سے گپ شپ کی تو دل میں ان کے جو بھی ہو میڈیا کی حد تک سب اس بات پر متفق دکھائی دیے کہ نواز شریف کا نعم البدل نہیں۔

ایک نے کہا کہ ’اگر نواز شریف نہیں تو مسلم لیگ نہیں‘۔ لاہور میں سنہ 1985 سے مسلم لیگ کے ایک مقامی رہنما نے کہا کہ آج کل کے بحران ان کے جماعت کے لیے کوئی بحران نہیں۔ ’میری بات کا یقین کریں ہم نے اس سے زیادہ بڑے بحران دیکھیں ہیں اور جب تک عوام کی حمایت انہیں حاصل ہے یہ مسائل خودبخود حل ہوتے جائیں گے‘۔

اگر کسی جماعت کا کارکن اور رہنما دونوں پُراعتماد ہوں تو اس کی طاقت سے لڑنا کوئی آسان کام نہیں۔ یہی بات نواز شریف کے مخالف یعنی عمران خان کو بھی معلوم ہے اور وہ پچھلے پانچ برسوں سے اسی وجہ سے پنجاب کو ہدف بنائے ہوئے ہیں۔

پارلیمان میں نئی ترمیم کی منظوری کے بعد انھوں عوامی عدالت یعنی سیاسی جلسوں اور قانونی عدالت دونوں میں اس کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔

اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو یہ نواز شریف کے لیے عدالتی میدان میں ایک اور مشکل کے طور پر سامنے آ سکتا ہے۔ عدالتیں اس انتخابی ترمیم پر کیا موقف اپناتی ہیں یہ کافی دلچسپ پہلو ہوگا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4545 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp