مصطفی کمال کا کمال


mujahidکراچی کے سابق میئر نے گزشتہ ہفتہ کے دوران اچانک شہر میں واپس آ کر سیاست کے ”خاموش پانی“ میں جو پتھر پھینکا تھا، اس سے پیدا ہونے والی لہریں اور ان سے اٹھنے والا شور اب تک سنائی دے رہا ہے۔ حسب توقع ملک کی الیکٹرانک میڈیا اور کالم نگاروں کو ایک مرغوب موضوع مل چکا ہے حتیٰ کہ ممتاز قادری کی سزائے موت پے اٹھنے والا غم و غصہ بھی اس موضوع پر بے پناہ گفتگو اور قیاس آرائیوں کے طوفان کو نہیں روک سکا۔ بلکہ لاہور سے تقریباً 5 برس قبل اغوا ہونے والے شہباز تاثیر کی ”پراسرار“ واپسی بھی اس دلچسپ موضوع پر مباحث کا زور نہیں توڑ سکی۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ باقی موضوعات وقتی ہیں۔ حکومت کے اشارے پر میڈیا یہ تسلیم کر چکا ہے کہ قادری کی سزا پر غصہ وقتی ہے اور اگر اسے نظر انداز کیا جائے تو یہ معاملہ خود ہی دب جائے گا۔ اسی لئے کراچی کی سڑکوں پر جہاں ”جنرل راحیل شریف، جانے کی بات نہ کرو“ کے بینر لگے ہیں تو ممتاز قادری کے عشق رسول پر مبنی پیغام کے پوسٹر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ رہا شہباز شریف کا معاملہ تو وزیر داخلہ خود اس حوالے سے گمراہ کن خبروں سے پریشان ہیں تو میڈیا آخر کیا کرے۔ ایسے میں مصطفی کمال کی واپسی فی الوقت ”کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے“ کی کیفیت پیدا کر رہی ہے۔

بعض لوگوں کے نزدیک ملک کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ 1992 کا پرانا کھیل دہرا رہی ہے اور متحدہ قومی موومنٹ کے ناراض عناصر کو اکٹھا کر کے پارٹی کا زور توڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسے مائنس ون فارمولا بھی کہا جاتا ہے۔ یعنی پارٹی کی پاکستانی قیادت کو یہ پیغام دیا جائے کہ الطاف حسین کا ساتھ چھوڑو اور پارٹی سمیت راہ راست پر آجاﺅ۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ خود الطاف حسین بھی اسٹیبلشمنٹ کو یہی پیغام دے رہے ہیں کہ انہی پیسوں میں اصل دستیاب ہے تو آپ دو نمبر مال کیوں خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بی بی سی کے ثقلین امام کو انٹرویو دیتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے بانی سربراہ نے گویا اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملک کی اسٹیبلشمنٹ ان کا زور توڑنے اور ایم کیو ایم پر ان کا اختیار ختم کروانے کے لئے مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کو پردہ گمنامی سے واپس لائی ہے اور اب بعض دوسرے لوگوں کو ان کا ساتھ دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے تا کہ بے نام کی نئی پارٹی میں جان ڈالی جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی الطاف حسین نے نہایت ہی واضح الفاظ میں فرمایا ہے کہ میں آپ کو پہلے بھی سلیوٹ کر چکا ہوں۔ آپ میرے ملک کو محافظ ہیں۔ آپ نے میرے سلیوٹ کی قدر نہیں کی۔ خیر کوئی بات نہیں۔ میں بدستور خادم اور دستیاب ہوں۔ انہوں نے مصطفی کمال جیسی پھلجڑیاں چلانے والی اسٹیبلشمنٹ کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ لڑنا نہیں چاہتے۔ تو آپ کیوں مجھ پر حملے کر رہے ہیں۔ اگر اصلی الطاف حسین دستیاب ہے تو اس کی ڈمی بنانے یا تلاش کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اب نجانے وہ حلقے جن سے الطاف حسین مخاطب ہیں، اس پکار یا فریاد کو سنیں گے یا قبول کرنے سے انکار کر دیں گے۔ لیکن ہمارا اب بھی یہی قیاس ہے کہ مصطفی کمال نامی ڈرامہ رچانے کا مقصد یہی فریاد سننا تھا۔ یعنی الطاف حسین کو گھٹنوں پر لانا اور ان شرائط پر کام کرنے پر مجبور کرنا جو اس ملک کے اصل حکمران متعین کر دیں۔ کیونکہ اسٹیبلشمنٹ سے زیادہ اس بات کو کون جانتا ہو گا کہ الطاف حسین جتنے بھی بے بس اور کمزور ہوں، کراچی کا ووٹر ان کے ساتھ ہے۔ یہ حقیقت جاننے اور قبول کرنے کے بعد خواہ اس کی اہمیت سے انکار کیا جائے لیکن جب تک اس ملک میں جمہوریت کے نام پر نظام کو چلایا جائے گا، ووٹروں کی اہمیت بہرطور برقرار رہے گی۔

ویسے الطاف حسین نے نہ لڑنے کا اعلان کر کے یہ تو بتا ہی دیا ہے کہ وہ کراچی پر حکمرانی کے حوالے سے اپنی شرائط سے تائب ہورہے ہیں اور نئی شرائط پر بھائی بندی کے لئے تیار ہیں۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ الطاف حسین اپنا اعتبار کھو چکے ہیں۔ وہ اپنی بات پر قائم نہیں رہتے اور بات کہہ کر مکر جاتے ہیں اور اس کا الزام دوسروں کو دیتے ہیں۔ ایسے میں الطاف بھی صرف اس وقت تک “ تابعدار ہوں تابعدار ہوں“ کا نعرہ لگائیں گے جب تک ان کی ”دم“ پر پاﺅں رہے گا۔ یہ بحث جاری رہے گی کہ جمہوری نظام میں سیاستدانوں اور سیاسی پارٹیوں کا اس طرح بازو مروڑنا کہاں تک جائز اور درست ہے۔ لیکن اس کا جواب بھی ہر دم موجود ہوتا ہے۔ ایک تو گھڑا گھڑایا یہ بیان کہ پاکستانی جمہوریت تو ایسے ہی چلتی ہے۔ یا فوج کے بغیر نظام نہیں چل سکتا۔ یا پھر اگر سیاستدان عسکری ونگ بنا کر غنڈہ گردی اور لاقانونیت عام کر سکتے ہیں تو گھی نکالنے کے لئے انگلی ٹیڑھی کرنا ہی پڑتی ہے۔ ٹیڑھی انگلی کے بل بوتے پر چلنے والی سیاست میں جمہوریت جس حال میں ہو سکتی ہے، پاکستان میں بھی وہ اسی بیمار حالت میں موجود ہے۔

یہ تو تھا ایک تاثر، الطاف حسین کا دعویٰ اور پیشکش۔ جس میں کسی دلیل کے بغیر یہ قرار دیا جا رہا ہے کہ یہ سارا کیا دھرا ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا ہے۔ لیکن جن کا نام لیا جاتا ہے، وہ فی الوقت شہباز تاثیر کی بازیابی پر ٹویٹ کرنے اور قوم کو مصروف رکھنے میں مصروف ہیں۔ یوں بھی روایت یہی بتاتی ہے کہ الزامات کا جواب دینا سیاستدانوں کا کام ہے۔ فوج کو اس قسم کے تردد میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ عملی لوگ ہیں۔ منصوبہ بندی کرتے ہیں اور نتائج دیکھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ کیا ، کیوں ، واقعی جیسے استہفامیہ اور غیر یقینی الفاظ ان کی لغت میں نہیں ہوتے۔ البتہ اسٹیبلشمنٹ کے دوست سمجھے جانے والے بعض مہربان یہ ثابت کرنے کے لئے پورا زور صرف کر رہے ہیں کہ الطاف حسین تو کمزور اور قصہ پارینہ ہیں۔ ان پر اسٹیبلشمنٹ کو وقت اور صلاحیت صرف کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ الطاف حسین نے خود اس قیاس کو مسترد کرتے ہوئے اپنے انٹرویو میں بتایا ہے کہ وہ اب بھی اتنا کام کرتے ہیں کہ اگر عام آدمی اتنا کام کرے تو بیمار پڑ جائے۔ اس بیان سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں کہ ایک تو الطاف حسین الکوہلک ALCOHALIC نہیں ورکوہلک WORKOHALIC ہیں۔ یعنی بلا کے شراب نوش نہیں بلکہ کام کے دھنی ہیں۔ دوسری بات یہ کہ وہ بیمار ہیں اور پارٹی کے معاملات کو نہیں دیکھ سکتے۔ اس حوالے سے یہ افواہیں بھی گردش کرتی رہی ہیں کہ الطاف حسین متعدد طبی مسائل کی وجہ سے صاحب فراش ہیں اور کسی وقت بھی خدانخواستہ ان کے انتقال کی خبر آ سکتی ہے۔ اس لئے ان کا متبادل تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ الطاف حسین نے انٹرویو دے کر اور اپنی سیاست واضح کر کے دوستوں دشمنوں کی اس بے چینی کو تو رفع کر دیا ہے۔ ثبوت کے طور پر ان کی ہدایت پر آج کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ نے یوم صفائی منایا۔ کل رات کراچی کا نیا مئیر بننے کے امیدوار وسیم اختر نے اعداد و شمار کی بنیاد پر بتایا تھا کہ شہر میں کتنا کچرا اور کوڑا کرکٹ جمع ہو چکا ہے اور اس کو جلا کر نجات حاصل کرنے کے طریقہ سے کیسے ماحول پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور شہریوں میں طرح طرح کی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ پارٹی کے فیصلے اور اعلان کے مطابق آج ورکروں اور لیڈروں نے یکساں طور سے جھاڑو اور دیگر اوزار پکڑ کر شہر کا کوڑا اکٹھا کیا اور شہریوں کو گندگی سے نجات دلانے کے لئے کام کیا۔ اس بات پر تو کوئی دشمن بھی اعتراض نہیں کر سکتا کہ یہ اچھا کام نہیں ہے۔ لیکن کسی طویل بحث میں الجھے بغیر یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ یہ بہرصورت مصطفی کمال کی واپسی کا ہی کمال ہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار بھی جھاڑو اور بیلچہ ہاتھ میں اٹھائے کچرا اکٹھا کرنے اور گلیاں صاف کرنے میں مصروف نظر آئے۔ ایم کیو ایم بھی اسی وقت کچھ کر کے دکھانے کے موڈ میں ہوتی ہے جب اسے یہ خطرہ لاحق ہوتا ہے کہ اس سے پہلے کوئی دوسرا یہ کام نہ کر گزرے۔

مصطفی کمال البتہ فی الوقت دوسری قسم کی صفائی میں مصروف ہیں۔ یعنی وہ ایم کیو ایم کے علاوہ پی ٹی آئی وغیرہ جیسی پارٹیوں کا بوجھ کم کرنے اور ان کو بھاری پتھروں سے نجات دلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایم کیو ایم کے ڈاکٹر صغیر نے پارٹی چھوڑی اور آج رابطہ کمیٹی کے سابق رکن وسیم آفتاب اور رکن سندھ اسمبلی افتخار عالم ان کے ساتھ آ ملے۔ یعنی اپنے کام میں تو وہ بھی لگے ہوئے ہیں۔ لیکن وہ چونکہ الطاف حسین کی مانند جنّوں کی طرح کام نہیں کر سکتے اس لئے ان کی رفتار ذرا کم ہے۔ باقی رہا شہری کی گلیوں کی صفائی کا کام …. تو کل تک وہ یہ کام کارپوریشن کے عملے سے کرواتے تھے، اب ایم کیو ایم کے لیڈروں سے کروا رہے ہیں۔ اس لئے شہر کی بہبود کے لئے ان کی نیت پر شبہ کرنا محال ہے۔ وہ میئر نہیں ہیں لیکن شہریوں کے مصائب نے انہیں بے چین کر رکھا تھا۔

اب تو صرف یہ دیکھنا ہے کہ مصطفی کمال اور انگلیوں پر گنے جانے والے ان کے ساتھیوں کی پریشانی یا خواہشات کا سیل بے پناہ کہاں جا کر دم لیتا ہے۔ ایک بات طے ہے کہ نائن زیرو ابھی ان کی پہنچ سے بہت دور ہے اور اس کا محافظ چوکس اور چوکنا بھی۔ یا کم از کم شکست قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ عوام کا فیصلہ تو 2018 سے پہلے ممکن نہیں ہے۔ اوراس سے پہلے جنہیں فیصلہ کرنا ہے ان کے لئے زیادہ چوائس موجود نہیں ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 414 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali