محبت کی نشانی تاج محل بھی نفرتوں کا شکار


دنیا کے ‘سات عجوبوں میں شامل ایک عجوبہ تاج محل’ اترپردیش کی بی جے پی حکومت کی غفلت کا شکار ہے۔

پہلے اسے ریاست کی ‘ثقافتی وراثت’ کی فہرست سے خارج کیا گیا اور اب اسے ریاست کی ‘سیاحت کی گائیڈ’ سے نکال دیا گیا ہے۔

اس سے قبل جولائی میں ریاست کا سالانہ بجٹ پیش کیا گیا تھا جس میں ریاست کے مذہبی اور تقافتی مراکز اور شہروں کے فروغ کے لیے ‘ہماری ثقافتی وراثت’ کے نام سے ایک علیحدہ فنڈ مختص کیا گیا لیکن ریاست ہی نہیں بلکہ ملک کی سب سے اہم ثقافتی اور سیاحتی عمارت تاج محل کو اس میں شامل نہیں کیا گیا۔

سیاحت کی گائیڈ میں تاج محل کے بجائے متھرا، ایودھیا اور گورکھپور کے منادر شامل ہیں۔ خیال رہے کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ گورکھپور سے آتے ہیں اور وہ وہاں کے گورکھناتھ مندر کے سربراہ بھی ہیں۔

اس سے قبل يوگی آدتیہ ناتھ تاج محل کے نمونوں کو بیرون سے آنے والے ذی وقار مہمانان کو تحفے میں دیے جانے کے خلاف اپنا موقف ظاہر کر چکے ہیں۔

انھوں نے بہار کے دربھنگہ میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مودی کی تعریف کی تھی اور کہا تھا کہ انڈیا آنے والے مہمانوں کو تحفے میں تاج محل یا دوسرے میناروں کا نمونہ دینا ہندوستانی تہذیب سے ہم آہنگ نہیں ہے۔

انھوں نے کہا تھا: ‘پہلی بار ہم نے دیکھا ہے کہ ہندوستان کے وزیر اعظم جب باہر جاتے ہیں یا کوئی سربراہ مملکت انڈیا آتا ہے تو وہ انھیں گیتا اور رامائن تحفے میں دیتے ہیں۔’

لیکن حال ہی میں جب جاپان کے وزیر اعظم شنزو ابے ہندوستان کے دورے پر آئے تھے تو انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی انھیں نے احمدآباد میں ہند فارس فن تعمیر کے نمونے سیدی سید مسجد کی سیر کرائی تھی۔

بہر حال سوشل میڈیا پر تاج محل ایک بار پھر ٹرینڈ کر رہا ہے اور لوگ بڑے پیمانے پر ریاست کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ اور ان کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

امریکہ میں جنوبی ایشیا کی تاریخ کی ماہر آڈری ٹرشچکے نے اپنے ایک ٹویٹ میں تاج محل کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا: ‘اب جبکہ تاج محل تیجو مہالیہ مندر نہیں رہا اس لیے اسے سیاحت کے سرکاری کتابچے سے ہٹا لیا گيا ہے۔’

خیال رہے کہ انھوں نے ایک ٹویٹ میں دو چیزوں کو نشانہ بنایا۔ بعض سخت گیر ہندو تاج محل کو ‘تیجو مہالیہ کا مندر’ کہتے ہیں جبکہ بعض اسے ہزاروں سال پرانے شو مندر پر تعمیر عمارت کہتے ہیں۔ جب سے انڈیا میں بی جے پی برسر اقتدار آئی ہے اس طرح کے متازع بیانات عام ہو گئے ہیں۔

مصنفہ اور سماجی کارکن سادھوی کھوسلہ نے ٹویٹ کیا: ‘یہ انتہائی شرم کی بات ہے۔ میں پہلے بھی بہت بار کہہ چکی ہوں کہ یوگی آدیتہ ناتھ یوپی میں اپنے خبط اور ترنگ میں اپنا ایجنڈا نافذ کر رہے ہیں۔’

سابق رکن پارلیمان کلدیپ بشنوئی نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا: ‘تاج محل دنیا کے قابل قدر عجائب میں شامل ہے۔ یوگي کے اس قدم سے دنیا میں انڈیا کی امیج کو ضرور نقصان پہنچے گا۔’

ریاست کی اہم پارٹی سماجوادی پارٹی کی ترجمان نے لکھا: ‘اکھلیش یادو نے تاج محل کو ٹوئٹر ہینڈل فراہم کیا اور یوگی نے اسے سیاحتی مقام کی فہرست سے نکال دیا۔’

چوطرفہ تنقید کے بعد اترپردیش کے سیاحت کے شعبے نے کہا ہے کہ تاج محل کو نظر انداز نہیں کیا جا رہا ہے اور اسے کتابچے میں شامل کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز ریاست کی وزیر سیاحت ریتا بہوگنا نے جو کتابچہ جاری کیا تھا اس میں تاج محل غائب تھا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 601 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp