ختم نبوت کے حلف کے تنازع پر نواز شریف مشکل میں


الیکشن ایکٹ 2017 میں امیدوار کے کاغذات میں ”حلف اٹھاتا ہوں“ کی بجائے ”اقرار کرتا ہوں“ کے الفاظ شامل کرنے پر کل بحث گرم رہی۔ الزام لگانے والے یہ بتا رہے تھے کہ لفظ ”حلف“ کی بجائے ”اقرار“ لکھنے کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ جھوٹ بولنے والا باسٹھ تریسٹھ کے تحت نا اہل نہیں ہو پائے گا۔ دفاع کرنے والے کہہ رہے تھے کہ اگر اس کاغذ کا آخری پیرا پڑھا جائے تو اس میں موجود الفاظ کا قانونی زبان میں مطلب حلف اٹھانا ہی ہے اس لئے کسی ایک پیراگراف سے الفاظ نکالنے سے فرق نہیں پڑتا۔ حمایت اور مخالفت میں وکلا اور علما ہی دلائل دے رہے تھے اور وہی بہتر جانتے ہیں کہ ان الفاظ کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں۔ وہ جب آپس میں طے کر لیں تو قوم کو بتا دیں۔

بیان کیا جاتا ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں سب جماعتوں نے اس تبدیلی کو قبول کر کے قانون کی شکل دی۔ اس کے بعد شیخ رشید نے بتایا کہ یہ تو نواز شریف نے ”قادیانی نوازیت“ کا ثبوت دیتے ہوئے کوئی سازش کی ہے۔ پھر اس معاملے پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ شروع کر دی گئی۔

ہم ملکی تاریخ دیکھتے ہیں تو علم ہوتا ہے کہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے مذہب کا استعمال نیا نہیں ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمد اپنی کتاب ”مولانا مودودی اور میں“ میں بتاتے ہیں کہ 1953 کی اینٹی احمدیہ موومنٹ کا ایک اہم محرک یہ تھا کہ وہ مذہبی سیاسی طاقتیں جو قیام پاکستان کی مخالفت کر رہی تھیں اور مسلم لیگ سے شکست کھا چکی تھیں، اب دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو کر عوامی حمایت حاصل کرنے کی متمنی تھیں اور اس مقصد کے لئے انہوں نے 1953 کی اینٹی احمدیہ موومنٹ چلائی۔ اس مہم کا نتیجہ لاہور میں فسادات اور ملک میں پہلے مارشل لا کی صورت میں نکلا۔

اس کے بعد ہم کچھ مزید آگے چلیں تو ستر کی دہائی کی تحریک نظام مصطفی یاد آتی ہے۔ بھٹو سے الیکشن میں بڑی شکست کھانے کے بعد انتخابی دھاندلی کے نام پر تحریک چلی مگر اس میں مطلوبہ جوش و جذبے کی کمی تھی۔ عوام کو متحرک کرنے کے لئے تحریک نظام مصطفی کے نام مہم شروع کی گئی جس کا نتیجہ مارشل آنے کی صورت میں نکلا۔ بھٹو حکومت ختم ہوئی تو سب کو نظام مصطفی بھول گیا اور یہ تحریک ختم ہو گئی۔

اب حالیہ واقعات کے تناظر میں حلف کی بجائے اقرار کا لفظ لکھے جانے پر نواز شریف کے خلاف تحریک اٹھانے کی کوشش کی گئی تھی۔ مگر نواز شریف ایک تجربہ کار سیاست دان ہیں۔ ضرورت پڑے تو لبرل بن جاتے ہیں اور ووٹوں کا نقصان ہوتا دکھائی دے تو ان سے زیادہ پکا مولانا دکھائی نہیں دیتا۔ انہوں نے فوراً خبر لگوائی کہ ”نواز شریف نے اس تبدیلی پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت اس طرح کی تبدیلی کے بارے میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو آگاہ نہیں کیا گیا تھا، سینئر پارٹی ذرائع نے کہا کہ کی گئی تبدیلی کو پہلے والی حالت میں بحال کیا جائے گا، پارٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ پچھلے قانون کے تحت زبان کی بحالی کے لئے کام شروع کیا جائے۔ “

ساتھ ہی قومی اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر مرتضی جاوید عباسی نے ایوان کو یقین دلایا کہ ضرورت پڑی تو ترمیم بھی کی جا سکتی ہے اور پھر ایوان میں انتخابی اصلاحات کے بل میں عقیدہ ختم نبوت کے حوالے سے شق میں الفاظ دوبارہ بحال کرنے پر مکمل اظہار یکجہتی اور یگانگت کا اظہار کیا گیا اور یہ اتفاق رائے ہوا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت یا رکن اسمبلی اس معاملے پر پوائنٹ سکورنگ کرے گا اور نہ ہی اسے متنازع بنانے کی کوشش کرے گا۔

دکھائی یہ دیتا ہے کہ سیاسی جنگ دھرنے اور پاناما کے نتیجے میں خاطر خواہ نتائج نہیں دکھا سکی تو پھر میاں نواز شریف کے خلاف عقیدت کا ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ پاناما کے نتیجے میں میاں صاحب نے وزیراعظم کا عہدہ کاغذوں میں تو چھوڑ دیا مگر عملاً وہی وزیراعظم ہیں اور اب وہ نہ تو کسی کو جوابدہ رہے ہیں اور نہ عہدہ کھونے کا خوف باقی رہا ہے۔ ان کو عوامی حمایت بھی حاصل ہے اور ان کی پارٹی میں کوئی فارورڈ بلاک بھی نہیں بن پایا۔ مایوسی کے عالم میں اب ان کے خلاف ”قادیانی سازش“ میں شریک ہونے کا ہتھیار استعمال کیا گیا ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ احمدی حضرات خود کو غیر مسلم قرار دیے جانے کے بعد سے انتخابات کے بائیکاٹ پر ہیں اس لئے انتخابی کاغذات میں لفظ “حلف“ یا ”اقرار“ سے ان کو کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے۔

لیکن سیاست میں یہ عنصر شامل کرنا آگ سے کھِیلنے کے مترادف ہو گا۔ عمران خان صاحب کے غیر محتاط الفاظ کے نتیجے میں ان پر بھی بلاسفیمی کا الزام لگا دیا گیا تھا جس پر انہوں نے معافی مانگی تھی۔ جنرل قمر باجوہ کو جب آرمی چیف مقرر کیا گیا تھا تو ان کو ناپسند کرنے والوں نے ان کے عقائد کے بارے میں جھوٹ بول کر ایک بے بنیاد مہم چلائی تھی۔ اب صرف آصف زرداری رہ گئے ہیں، ان پر بھی کوئی الزام دھر دیا جائے۔ لیکن سیاست میں بلاسفیمی اور قادیانیت کو بطور حربہ استعمال کرنے والوں کو یہ سوچنا ہو گا کہ یہ وہ ہتھیار ہے جو پلٹ کر خود کو بھی مار سکتا ہے۔ ایسا کیا گیا تو سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو پہنچے گا۔ سیاسی جنگ کو سیاسی میدان تک محدود رکھا جائے تو مناسب ہے اور میاں نواز شریف بھی ایسے موقعے پر تبدیلیاں لانے کے جوش میں مذہبی جذبات کو نظرانداز کرنے سے احتراز کریں تو ان کی مہربانی ہو گی۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 696 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar