میں اپنی ساس کو کیوں یاد کرتی ہوں


انسان اپنی زندگی میں کچھ وقت سہارے کھوجتا ہے، کچھ وقت سہارے دیتا ہے، کچھ لوگوں سے سبق سیکھتا ہے، کچھ لوگوں کو سبق سکھاتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہر اچھا انسان کسی نہ کسی صورت میں ایک رابطے اور وسیلے کے طور کام کر رہا ہوتا ہے وہ کہیں سے مثبت قوت لے رہا ہوتا ہے اور کہیں بانٹ رہا ہوتا ہے۔ مگر کچھ لوگوں کے بارے میں میں یوں سمجھتی ہوں کہ یہ لوگ وہ ایسا گیان پا لیتے ہیں کہ وہ لینے کا کام لوگوں سے نہیں لیتے، ان کے اپنے اندر ہی یہ مثبت قوت جمع ہو جاتی ہے۔ شاید وہ یہ طاقت اپنے اندر سےلیتے ہیں اور شاید کسی غیر مرئی قوت سے، شاید اپنے تجربات سے یا شاید اپنی سوچوں سے، مگر وہ بانٹتے عام لوگوں میں ہیں۔ انہیں عرفان کی وحی اترتی ہے اور ان کے وجود سے اچھائی کی روشنی پھوٹتی ہے۔ اور ایسے لوگ بس تیرے میرے بیچ بس تیرے میرے جیسے بن کر بیٹھتے ہیں، مگر ان کی خاص باتیں اور خاص سوچیں ان کے ہر انداز سے جھلکتی ہیں۔ “دستک نہ دو” کا ایک اقتباس ہے جو کی مجھے صحیح طور سے یاد نہیں مگر جو تقریبا کچھ یوں ہے کہ جب دیوتا اپنے استھان سے اتر کر عام لوگوں میں آتا ہے تو وہ اپنی برتری جتانے کے لئے اچک اچک کر نہیں چلتا۔ مجھے ایسے لوگ دیوتا سمان لگتے ہیں، مگر ایسے لوگ صرف چند ایک ہوتے ہیں، بس خال خال۔

 میری ساس کا نام شبنم شکیل تھا اور ان کا شعر و ادب کی دنیا میں ایک بہت معتبر نام تھا اور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ مجھے اس حوالے سے مزید کوئی تعارف کروانے کی ضرورت نہیں ۔ ابھی تک میں نے اپنی کسی تحریر میں ان کا نام نہیں لیا اور ان کا حوالہ نہیں دیا۔ مجھے لگا کہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ ان کا نام لے کر میں بے جا توجہ لینے کی کوشش کر رہی ہوں اور مزید یہ کہ مجھے ہمیشہ لگا کہ میں ان کے بارے میں کیا لکھوں اور کیسے لکھوں۔ میں کیسے ان کے کام کے بارے میں کوئی بھی تبصرہ کر سکتی ہوں جب کہ مجھےلکھنا بھی نہیں آیا ۔ مگر میں انہیں یاد کرتی ہوں، ان کی کمی محسوس کرتی ہوں اور ان کے بارے میں بتانا چاہتی ہوں۔

میں نے اپنی ساس کے ساتھ کوئی لمبا وقت نہیں گزارا۔ مگر جتنا بھی گزارا اس میں بھی یاد کروں تو ایک بھی دل دکھانے والی بات، کوئی طنز کا نشتر یا کوئی چبھتا ہوا جملا یاد نہیں آتا جو ان کے منہ سے میرے لئے نکلا ہو ۔ لوگ شاید کہیں کہ آپ نے کم وقت ان کے ساتھ گزارا مگر میں جانتی ہوں کہ دل دکھانے والے لوگوں کے لئے ایک پل بھی بہت ہوتا ہے۔

جب میرے میاں شادی سے پہلے میرا تعارف کروانے لے کر گئے تو میں کچھ سہمی ہوئی تھی اور حقائق کی بہ نسبت خدشات میرے ذہن پر غالب تھے، ایسے میں شبنم آنٹی کا رویہ یوں تھا کہ رضامندی کی سند دینے کا مقام تو دور کی بات، مانو میں بہو ہی بن چکی ہوں۔ میرے نقش و نگار میں بھی کئی خوبیاں ڈھونڈ کر بیان کر دیں اور جتنا تعارف تھا اس کے حوالے سے بھی کئی تعریفیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ کسی میں خوبی تلاش کرنا بھی ایک صفت ہے مگر اسے بیان کرنے کے لئے بھی بہت حوصلہ درکار ہے۔

ان سے دل کی بات ایک جملے یا ایک اشارے میں بیان کر دینا کافی تھا، سمجھو کہ سارا بھید پا گئی ہیں اور بعض صورتوں میں تو کسی کا محض سمجھ جانا ہی بے پناہ ڈھارس بندھا دیتا ہے۔ ان کے کچھ شفیق الفاظ میرے بہت کام آئے۔ان سے ذاتی نوعیت کی بڑی سے بڑی بات کرنے پر بھی ان کا رویہ ایسے ہوتا تھا کہ ہاں، میں جانتی ہوں، یہ کوئی ایسی بڑی پریشان کن بات نہیں، جو برا تمہارے ساتھ ہوا، ایسا میں سمجھتی ہوں کہ ایسا ہو سکتا ہے اور عین ممکن ہے۔ وہ بڑی سے بڑی بات پر بھی کسی اچنبھے کا اظہار نہیں کرتی تھیں اور ایسے رویے پر انسان کی بھڑاس بھی نکل جائے اور بعد میں وہ یوں پیش آتی تھیں کہ جیسے میرا کوئی راز نہ میں نے ان سے کہا نہ انہوں نے سنا۔ ہماری روایتی سوچ کے تحت تو یہ بات بھی بہت عجیب ہے کہ ایک عورت اپنے دل کی، انتہائی اندر کی راز کی باتیں اپنی ساس سے کہے۔

میں نے آج جلوہ اور چہار سو کے جریدے نکالے ہیں، یہ جریدے وہ اپنی وفات سے پہلے کراچی جانے سے پہلے مجھے دے کر گئیں تھیں کیونکہ تب میں ان کے فیس بک پیج پر کام کر رہی تھی، کہنے لگیں کہ سنبھال کر رکھنا، آ کر تم سے لوں گی، میں نے سنبھال کر رکھے مگر وہ واپس ہی نہیں آئیں۔

میرے والدین نے میری جو تربیت کی میں اسے سے بے حد مطمئن ہوں، وہ بہت صحیح ڈائیریکشن میں ہے، مگر جب میں اپنی ساس کی زندگی کو دیکھتی ہوں تو میری سوچوں پر تصدیق کی ایک مہر لگتی ہے۔ وہ میانہ روی اور وہ توازن جو کبھی کبھی مجھے اس معاشرے میں روا رکھنا مشکل لگتا ہے وہ مجھے ان کی زندگی کو دیکھ کر آسان نظر آتا ہے۔ وہ اگر مرد اور عورت کی تفریق کے بغیر انہیں ایک فرد کا درجہ دیتی تھیں تو اس بات کو وہ اپنی زندگی میں امپلیمنٹ کرتی تھیں۔ میں نے انہیں چھوٹے بچوں کی بات بھی ایسی دلچسپی اور دھیان سے سنتے دیکھا جیسے بچے بڑی دانشمندی اور دانائی کی بات کر رہے ہوں۔ وہ اپنے سے منسلک ہر رشتے کو عزت دے کر چلتی تھیں۔ وہ فیمنسٹ ہونے کے بلند و بانگ اعلانات کی بجائے اپنے سے منسلک ہر عورت کو عزت اور سہولت دے کر اس بات کو اصل زندگی میں پریکٹس کرتی تھیں۔

ایک اور چیز جو مجھے ان کے بارے میں بہت جادوئی لگتی ہے، وہ ان کا اور ان کے میاں یعنی ابا کا رشتہ ہے اور جس سہولت سے قبول کر کے انہوں نے اپنی زندگی کے مختلف ادوار گزارے ہیں۔ جب گھر اور بچوں کو ان کی سخت ضرورت تھی تو انہوں نےچودہ سال شاعری نہیں کی اور پھرجب سب چیزیں ٹھکانے پر آ گئیں تو انہوں نے اپنی ذات اورشاعری پر بھی توجہ دی۔ مجھے تو لگتا ہے کہ بشمول میرے بہت سی عورتیں اس سہولت سے ترجیحات متعین کر کے نہیں چلتیں، وہ کڑھتی اور شکوہ کرتی نظر آتی ہیں۔ آنٹی نے ہر چیز کو قبول کیا اور سہولت سے اپنی ترجیحات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی حدود میں زندگی گزاری۔

میں سچ کہوں گی کہ شاعری میں میری دلچسپی نہ ہونے کے برابر تھی مگر جب آنٹی کو مزید جاننے کی غرض سے ان کی شاعری پڑھی تو میں بہت متاثر ہوئی۔ ان کی شاعری محبت کی شاعری کی بجائے ایک عورت کےاحساسات اور جذبوں کا بیانیہ تھی۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے اندر اتنا احساس اوردردمندی پائی جاتی تھی کہ وہ کسی دوسرے شخص کے احساسات کو بھی اپنے احساسات کی طرح محسوس کر سکتی تھیں۔ آنٹی کی شاعری سے کوئی بھی خاتون اپنا تعلق جوڑ سکتی ہے۔ منیر نیازی صاحب نے ان کی شاعری کی اسی خوبی کے بارے میں کچھ اس طرح لکھا ، ’اردو میں سر بازار والی غزل تو بہت ہے، گھریلو عورت کی شاعری خال خال ہے۔ شبنم شکیل نے اردو کو یہی کھوئی ہوئی نرالی اور پرخلوص دولت واپس لوٹائی ہے۔ اس نے زندگی کو بقراط بن کر نہیں ایک عورت بن کر دیکھا ہے ۔ یہی اس کی شاعری کا امتیازی وصف ہے۔‘

سچ میں مجھے ان کی بہت سی سوچوں میں اپنے مسائل کہ جھلک نظر آتی ہے،

قفس کو لے کے اڑنا پڑ رہا ہے

یہ سودا مجھ کو مہنگا پڑ رہا ہے

مری ہر یک مسافت رائیگاں تھی

مجھے تسلیم کرنا پڑ رھا ہے

سناہے ایک جادو ہے محبت

یہ جادو ہے تو الٹا پڑ رہا ہے

محبت ہے ہمیں اک دوسرے سے

یہ آپس میں بتانا پڑ رہا ہے

جو رہنا چاہتا ہے لا تعلق

تعلق اس سے رکھنا پڑ رہا ہے

سمجھتی تھی بہت آسان جن کو

انہیں کاموں میں رخنا پڑ رہا ہے

ہوئی جاتی ہے پھر کیوں دور منزل

میرا پاوں تو سیدھا پڑ رہا ہے

میں کن لوگوں سے ملنا چاھتی تھی

یہ کن لوگوں سے ملنا پڑ رہا ہے

میں اب تک مر نہیں پائی ہوئی شبنم

سو اب تک مجھ کو جینا پڑ رہا ہے

 مجھے لگتا ہے کہ اگر وہ آج ہوتیں تو مجھے بھٹکنا نہ پڑھتا، کچھ لینے کے لئے اور مختلف معنی کھوجنے کے لئے لمبی مسافتیں نہ طے کرنی پڑتیں۔ بس ان سے پوچھ لیتی اور مطمئن ہو جاتی۔ ان کی زندگی میں میں نے اردو کا ایک جملہ تک نہ لکھ کر انہیں دکھایا، اگر تبھی لکھ لیتی تو کتنی تصحیح ہو جاتی۔ وہ مجھے ایک ایسی گیان کی کتاب کی مانند لگتی ہیں جو میں پوری طرح سے کھول بھی نہیں پائی اور وہ مجھ سے چھن گئی۔ میں ان کو اکثر شدت سے یاد کرتی ہوں اور ان کی شدید تریں کمی محسوس کرتی ہوں اور اس بات میں ایک رتی کی مبالغہ آرائی بھی شامل نہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مریم نسیم

مریم نسیم ایک خاتون خانہ ہونے کے ساتھ ساتھ فری لانس خاکہ نگار اور اینیمیٹر ہیں۔ مریم سے رابطہ اس ای میل ایڈریس پر کیا جا سکتا ہے [email protected]

maryam-nasim has 45 posts and counting.See all posts by maryam-nasim