شرمین چنائے اور آسکر کی اصلیت


adnan Kakar

ہم درد دل اور محبت وطن رکھنے والے پاکستانی ابھی سنہ دو ہزار بارہ  کا سانحہ ہی نہیں بھلا پائے تھے جب ہمارے پاک وطن پر کیچڑ اچھالنے کے انعام میں امریکی حکومت نے شرمین عبید چنائے کو آسکر ایوارڈ دے دیا تھا کہ اس نے اس سال دوبارہ وطن عزیز کو بدنام کر ڈالا۔ اس سال کا آسکر انعام دوبارہ شرمین کو دیا گیا ہے۔ لیکن بات آگے بڑھانے سے پہلے یہ جان لیتے ہیں کہ آسکر کیا ہے اور کس اہلیت پر دیا جاتا ہے۔

کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہ اس کا اصل نام اکیڈمی ایوارڈ ہے، تو پھر اسے آسکر کیوں کہا جاتا ہے؟ آسکر سالومن سٹراس سنہ 1850 میں پیدا ہونے والا ایک جرمن یہودی تھا جو کہ ایک سازش کے تحت امریکہ منتقل ہوا اور وہ پہلا یہودی تھا جو کہ امریکی کابینہ میں وزارت کے منصب تک جا پہنچا۔ وہ تین مرتبہ عثمانی خلیفہ کے دربار میں سفیر بنا کر بھیجا گیا۔ آخری مرتبہ تو اس کا مشن اتنا اہم تھا کہ اسے وزارت سے ہٹا کر 1909 میں خلافت عثمانیہ میں پہلے امریکی سفیر کے طور پر بھیجا گیا اور وہ 1910 میں واپس ہوا۔ کیا اسے محض ایک اتفاق سمجھا جائے کہ اس کے چار برس بعد جنگ عظیم چھڑ گئی جس کا انجام سلطنت عثمانیہ کے خاتمے پر منتج ہوا۔ وہ 1919 میں منعقد ہونے والی ورسیلز کی پیس کانفرنس میں امریکی نمائندے کی حیثیت سے شامل ہوا تھا جس نے سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے۔

oscar_11

کبھی آپ نے سوچا ہے کہ انیس سو انتیس میں پہلی مرتبہ دیا جانے والا اکیڈمی ایوارڈ آف میرٹ، ابتدائی دو چار برسوں میں ہی آسکر کے نام سے کیوں جانا جانے لگا؟ لوگ مختلف کہانیاں سناتے ہیں کہ اسے فلانی نے اپنے شوہر کے نام پر آسکر کہنا شروع کر دیا تھا اور ڈھمکانی کا چچا آسکر تھا۔ لیکن آپ خلافت عثمانیہ کو ختم کر دینے والے آسکر سالومن سٹراس کو ذہن میں رکھتے ہوئے آسکر کے مجسمے کو دیکھیں کہ یہ کیا ہے۔ یہ ایک نائٹ ہے، یعنی ایک صلیبی جنگجو ہے، جس نے ایک صلیبی تلوار تھامی ہوئی ہے۔ کہیں یہ وہی یہودی النسل صلیبی نائٹ تو نہیں ہے جو خلافت عثمانیہ میں پہلا امریکی سفیر مقرر ہوا تھا اور اس کے ٹکڑے کر دینے والی کانفرنس میں امریکی مندوب تھا؟

اب آپ آسکر کے نام کا پس منظر سمجھ گئے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ یہ یہودیوں کے ہاتھوں میں کس طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔ پہلے شرمین عبید چنائے کی فلم آئی جس میں پاکستان کی سو اچھی چیزوں کو چھوڑ کر صرف ایک معمولی سے مسئلے کو اچھالا گیا تھا کہ ہر سال بہت سی عورتوں اور لڑکیوں کے چہرے پر تیزاب پھینک کر ان کو زندگی بھر کے لیے بدصورت بنا دیا جاتا تھا۔ اب بھارت میں بھی تو تیزاب پھینکا جاتا ہے، آسکر والوں نے وہاں کسی سے ایسی فلم کیوں نہیں بنوا لی؟ ہمیں تو اس کا مقصد صرف پاکستان کو بدنام کرنا ہی نظر آتا ہے۔ اور پھر اس سال کیا ہوا؟ آسکر والوں نے شرمین سے غیرت کے نام پر قتل کرنے پر فلم بنوا لی اور امریکی حکومت کے اشارے پر اسے دوبارہ آسکر انعام دے دیا گیا۔ کیا بھارت، بنگلہ دیش، سعودی عرب، برما، انڈونیشیا، وغیرہ میں لوگ غیرت مند نہیں ہیں؟ کیا برطانیہ امریکہ اور کینیڈا میں غیرت کے نام پر وہاں کی شہریت رکھنے والے پاکستانی قتل نہیں کرتے ہیں؟ پھر وہاں ایسی فلم کیوں نہیں بنائی جاتی ہے؟

Picture_of_Oscar_Solomon_Straus

اس مقام پر کچھ توقف کر کے ایک بات کرنا مناسب ہے، پھر آگے چلیں گے۔ چلیں غیروں سے تو شکوہ تھا ہی، لیکن اس تیزاب والی فلم کو 2012 میں صلیبی آسکر ایوارڈ دیا گیا تو ساتھ ہی پیپلز پارٹی کی زرداری حکومت نے شرمین عبید چنائے کو پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا شہری تمغہ، ہلال امتیاز عطا کر دیا۔ جگر تھام کر سنیے کہ یہ وہی ہلال امتیاز ہے جو اس سے پہلے مجاہد اعظم فاتح سوویت یونین جناب جنرل حمید گل مرحوم کو دیا گیا تھا۔ ان کے علاوہ یہ ایوارڈ پانے والوں میں اس وقت کے ایک میجر جنرل، بنام راحیل شریف بھی شامل ہیں۔ جنرل عاصم باجوہ، جنرل احمد شجاع پاشا، جنرل عمران خان، جنرل عابدہ پروین، اور پطرس بخاری کو یہ تمغہ دیا جا چکا ہے۔ اب اس کی یہ بے توقیری ہوئی ہے کہ دنیا بھر میں پاکستان کو بدنام کرنے والی شرمین عبید چنائے کو بھی اسی مقام پر کھڑا کر دیا گیا ہے جہاں قوم کے یہ بہادر سپوت کھڑے ہیں۔

بہرحال آسکر کی طرف واپس آتے ہیں۔ کیا آپ نے دیکھا ہے کہ اس سال آسکر کس کس فلم کو ملا ہے؟ غیر ملکی زبان میں بنائی جانے والی فلم ‘سن آف ساؤل’ میں یہودیوں کی مظلومیت کو دکھایا گیا جن کو نازی جرمن اپنے کیمپوں میں قید کر کے مار رہے ہیں۔ ایک یہودی باپ اپنے بیٹے کی لاش کو دفن کرنا چاہتا ہے اور اسی دوران بہت کشت و خون دکھا دیا جاتا ہے۔ یہ فلم ایسی فنکاری سے بنائی گئی ہے کہ اسے دیکھ کر آپ کے لیے اپنے آنسوؤں پر قابو پانا ناممکن ہو جائے گا۔

لیکن سب سے اہم فلم تو وہ ہوتی ہے جسے سال کی بہترین فلم کا انعام ملتا ہے۔ وہ کون سی فلم تھی جسے اس سال یہ انعام ملا؟ اس کا نام ہے سپاٹ لائٹ۔ عام طور پر کوئی ایسی فلم جسے سال کی بہترین فلم کا ایوارڈ ملتا ہے، وہ کئی دوسرے ایوارڈ بھی جیتتی ہے۔ بہترین اداکارہ، اداکار، ہدایت کار، سکرین پلے وغیرہ وغیرہ کا ایوارڈ۔ اسے صرف بہترین فلم اور بہترین اوریجنل سکرین پلے کا ایوارڈ ملا ہے، اور اس طرح یہ 1952 سے لے کر آج تک ایسی دوسری فلم ہے جسے بہترین پکچر کے علاوہ صرف ایک اور آسکر ایوارڈ گیا گیا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

بس یہ دیکھ لیں کہ اس کا موضوع کیا ہے؟ اس کا موضوع ہے امریکہ میں عیسائی رومن کیتھولک پادریوں کے ہاتھوں ننھے بچوں سے کی جانے والی زیادتی۔ ہم جانتے ہیں کہ یہودیوں کو مسلمانوں کے بعد سب سے زیادہ نفرت رومن کیتھولک عیسائیوں سے ہے جنہوں نے یہودیوں کو دو ہزار سال تک غلام بنا کر رکھا۔ بوسٹن گلوب نے عیسائی چرچ کا یہ سکینڈل بریک کیا کہ بے شمار پادری بچوں کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں اور اسقف اور کارڈینل ان کے جرائم پر ایک منظم انداز میں پردہ ڈال رہے ہیں۔ یہودیوں کے امریکی میڈیا پر کنٹرول کو تو ہم جانتے ہی ہیں۔ سو انہوں نے بوسٹن گلوب کو یہ سکینڈل بریک کرنے پر 2003 کا سب سے بڑا صحافتی ایوارڈ پلٹزر پرائز دلوا دیا۔ اور اس سال اس پر فلم بنوا کر اسے امریکی حکومت کے ذریعے آسکر ایوارڈ بھی دے دیا گیا ہے۔

ان تینوں فلموں، ‘آ گرل ان دا ریور’، ‘سن آف ساؤل’، اور ‘سپاٹ لائٹ’ میں کیا چیز مشترک ہے؟ ایک میں یہودیوں کی مظلومیت دکھائی گئی ہے، دوسری میں غیرت کے خلاف ایک کاری وار کر کے پاکستان میں بے غیرتی پھیلانے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے، اور تیسری میں مذہب سے لوگوں کو خوفزدہ اور بیزار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اور ظلم عظیم یہ ہوا ہے کہ شرمین کی اس فلم کی تقریب رونمائی اسلام کے قلعے کے وزیراعظم ہاؤس میں ہوئی ہے اور ساتھ ہی مغربی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے پنجاب اسمبلی نے غیرت من مردوں کو کڑے پہنانے کے لیے تحفظ نسواں کا قانون بنا لیا ہے۔ یہ ایک عالمی یہودی سازش کی کڑیاں ہیں جن کو پہچاننا ہمارے لیے ضروری ہے۔

قوم کو چاہیے کہ اٹھ کھڑی ہو اور اتنے مظاہرے کرے کہ امریکی حکومت تک ہماری آواز پہنچ جائے اور وہ ایسی فلموں کو آسکر ایوارڈ دینا بند کر دے۔ بلکہ اس ایوارڈ کا نام تبدیل کرنے کے لیے مہم چلائی جانی ضروری ہے۔ کوشش کر کے امریکی حکومت پر اتنا زیادہ دباوؑ ڈالا جائے کہ وہ اس حکومتی ایوارڈ کا نام آسکر سالومن سٹراس کی بجائے اسامہ بن لادن کے نام پر رکھ دے۔ اس سلسلے میں پہلے قدم کے طور پر ہر جمعے کو جلوس نکالا جانا چاہیے جو کہ راستے میں آنے والے ہر ایسی علامت کو توڑ دے جو امریکی استعمار کی یاد دلاتی ہو اور ہر اس شے  کو جلا دے جو کسی کی امریکی غلامی کا شائبہ دے تاکہ امریکی اس آگ کی حدت محسوس کریں جو ہمارے دلوں میں بھڑک رہی ہے اور وہ آئندہ آسکر ایوارڈ دے کر ہمیں بدنام کرنے کا سوچیں بھی نہ۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 328 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

6 thoughts on “شرمین چنائے اور آسکر کی اصلیت

  • 11-03-2016 at 1:24 am
    Permalink

    جو سادہ دل ہیں، وہ اس مضمون کو ، بقول فراز، بن سنور کر دیکھیں گے کیونکہ انہیں اس میں اپنے ہیجان خیز اور مکروہ افکار مجسم آئیں گے۔

    اعلی درجے کی تحریر ہے۔

    میں تو کہتا ہوں کہ ایک اکادمی ایوارڈ خلیفہ البغدادی کے نام پر بھی ہونا چاہیے، جی اسی مجاہد دوئم (کیونکہ مجاہد اول تو ایک کشمیری بزرگ تھے) کے نام جو تیغ ایوبی سے لیس خلافت عثمانیہ کی بحالی کے لئے یزیدیوں کی “نسلیں بدلنے میں مصروف” ہے۔ اُس مردِ باریش و صاحبِ جبروت سے بڑھ کر خادم اسلام کوئی ہو نہیں سکتا۔ ان کا مقابلہ صرف خادم اعلی (ش شریف) کرسکتےہیں، بشرطیکہ وہ بھی خنجر لے کر دنیا کے چھ ارب گستاخانِ لعین کا ‘سر تن سے جدا’ کرنے کے کارِ خیر میں شریک ہو۔

  • 11-03-2016 at 2:45 am
    Permalink

    کمال لکھتے ہیں آپ عدنان صاحب ۔

  • 11-03-2016 at 4:12 am
    Permalink

    عمدہ جناب.

  • 11-03-2016 at 8:47 am
    Permalink

    واہ عدنان صاحب کیا لکھنے کا شاندار انداز ہے.

  • 11-03-2016 at 2:33 pm
    Permalink

    ایک اور بہت بڑی چول مار دی۔

  • 12-03-2016 at 12:18 am
    Permalink

    واہ کاکڑ صاحب۔ ’یہودی النسل صلیبی مجاہد‘۔ اس کی داد تو انصار عباسی اور اوریا مقبول جان ہی دے سکتےہیں

Comments are closed.