فلمی کردار کی تشکیل:چند اشارے


کسی بھی فلم کی بنیاد اس کی اسکرپٹ ہوتی ہے اور اسکرپٹ کی داغ بیل وہ تصور ڈالتا ہے جو ذہن میں پیدا ہوتا ہے۔ اسی تصور کو پروان چڑھا کر کہانی کو اس کیاصل شکل میں لایا جاتا ہے۔ فلم کے تصور میں سب سے زیادہ دخل کسی ایک مخصوص کردار کا ہوتا ہے جو کہانی کا مرکزی نقطہ اور فلم کا محور ہوتا ہے، یہ کردار ایک سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔ فلم کے لئے کردار کی تشکیل انتہائی توجہ طلب امر ہے، اگر فلمی کردار کی تشکیل صحیح صحیح نہ کی جائے تو یہ خامی پوری فلم کو لے ڈوبتی ہے۔ کسی بھی فلمی کردار کو قائم کرتے وقت اسکرپٹ نگار کے ذہن میں چند باتوں کا خیال رہنا ضروری ہے، تبھی ایک مکمل فلمی کردار قائم ہو سکتا ہے۔ یہ چیزیں کیا ہیں؟ آئیے مختصر جائزہ لیں۔

دراصل فلم میں کسی بھی کردار کا رول یہ ہوتا ہے کہ وہ مخصوص حالات میں کیاردعمل ظاہر کرتا ہے۔ کردار کا طرز عمل اور کسی خاص حالت میں اس کے اطوار کا کماحقہ عرفان اسی وقت ہو سکتا ہے جب اسکرپٹ نگار کے ذہن میں اس کردار کا مکمل خاکہ موجود ہو۔ فلم کے کردار کا یہ مکمل خاکہ تین پہلوؤں پر منحصرہے۔

الف۔ ظاہری پہلو
ب۔ سماجی پہلو
ج۔ نفسیاتی پہلو

الف۔ ظاہری پہلو: فلمی کردار کی تشکیل میں چند چیزیں بہت اہم ہیں اور یہ چیزیں کردار کی شخصیت کوکافی حد تک متاثر کرتی ہیں۔ ان چیزوں میں ذرا سی تبدیلی سے کردار کی پوری شخصیت میں تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے اس لئے اسکرپٹ نگار ی کے مرحلے میں ان چیزوں کا واضح ہو جانا ضروری ہوتا ہے۔

1۔ جنس:کردار مرد ہے یا عورت اس بات سے اس کا طرز عمل کافی حد تک متاثر ہو جاتا ہے۔ امراؤ جان کا کردار نبھانے کے لئے کسی مرد کو نہیں لیا جا سکتا اور اسی طرح دیوداس کا کردار کسی عورت کے سپرد نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لئے کردار کے مرد یا عورت ہونے کا تعین اہم ہو جاتا ہے۔

2۔ عمر: سن و سال کے مطابق عادات و اطوار میں تبدیلی ایک فطری بات ہے، ایک بزرگ کا کردار ایک نوجوان کے کردار سے بڑی حد تک مختلف ہوتا ہے یہ اختلاف طرز گفتگو، نظریات اور طور طریقوں وغیرہ سبھی حوالوں سے ہوتا ہے اس لئے کردار کی عمر کا واضح تصور ذہن میں رہنا ضروری ہے۔

3۔ جسمانی ساخت: کردار کی جسمانی ساخت سے بھی چیزیںمتاثر ہوتی ہیں۔ کردار پستہ قد ہے یا دراز قد، موٹا ہے یا پتلا؟ ، یا پھر وہ میانہ قد اور اوسط درجہ کی صحت کا مالک ہے؟ ان تمام چیزوں سے کردار کی شخصیت کی تشکیل بڑی حد تک متاثر ہوتی ہے۔

4۔ شکل و صورت: کردار کی شکل و صورت کیسی ہے یہ بات فلموں میں بہت اہم ہو جاتی ہے۔ ممکن ہے کہ ساری فلم ہی کردار کی شکل و صورت کے چاروں طرف گھوم رہی ہو۔ کردار کی شکل و صورت کا واضح تصور کہانی کو کماحقہ ترتیب دینے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

5۔ مجموعی صحت: کردار کی صحت، اس کیبیماری یا بیماریاں(اگر ہوں)اوراسکے جسمانی اعضاءمیں پائے جانے والے عیوب(اگر ہوں)ان سب کا پیش نظر رہنا اسکرپٹ نگاری کے عمل میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ مثلا یہ پتہ ہونا چاہیے کہ اگر کردار لنگڑا ہے تو اس کیمعذوری کی حد کیا ہے؟ ، کیا وہ صرف ایک پیر سے معذور ہے یا دونوں سے؟ ، بیساکھی کے سہارے چل سکتا ہے یا پھر نقلی ٹانگ ہی اس کا علاج ہے وغیرہ وغیرہ۔

ب۔ سماجی پہلو: کردار کا سماجی پہلو فلم میں اہمیت رکھتا ہے اس لئے کہ زیادہ تر فلموں میں یہ کردار معاشرتی نظام میں کسی نہ کسی قسم کے ٹکراؤ سے دوچار رہتے ہیں اس لئے ان کا سماجی پس منظر پیش نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ کردار کا سماجی پس منظر اگر گڑبڑا جائے تو کہانی میں جھول پیدا ہونے کا اندیشہ رہتا ہے جس کے فلم پر منفی اثرات ہوتے ہیں۔ ان سماجی پہچانوں میں سے چند اہم چیزیں مندرجہ ذیل ہیں۔

1۔ خانگی زندگی: کردار شادی شدہ ہے یا غیرشادی شدہ؟ ، طلاق شدہ ہے یا اس کا شریک سفر اسے داغ مفارقت دے چکا ہے؟ ، اگر وہ کم عمر ہے تو اس کے بہن بھائی، ماں باپ ہیں یا نہیں؟ ، کیا اس پر اپنی جوان بہنوں کی شادی کا ذمہ ہے؟ ، کیا وہ گھر میں سب سے چھوٹا ہے اور ہر فکر سے آزاد ہے؟ ، کیا اس کے ماں باپ میں سے کوئی ایک یا دونوں ہی کا انتقال ہو چکا ہے؟ ، یا پھر کیا وہ دونوں ہی زندہ ہیں لیکن بستر مرگ پر ہیں؟ ان جیسے سوالات کی مدد سے کردار کی خانگی زندگی کا ایک واضح خاکہ ذہن میں بنتا ہے۔

2۔ سماجی درجہ بندی: کردار کی مالی حالت کیا ہے؟ ، کیا وہ غریب ہے؟ ، کیا وہ امیر باپ کی اکلوتی اولاد ہے؟ ، کیا وہ بے روزگار ہے؟ ، کیا وہ برسرکار ہے؟ ، کیا وہ مزدور ہے جسے مالک کی بیٹی سے عشق ہے؟ ، کیا وہ ایک ایسا نوجوان ہے جس کے پاس ڈگریاں ہیں لیکن پائی پائی کو محتاج ہے؟ اس قسم کی باتوں کے واضح ہونے سے کردار کی سماجی حیثیت کے تعین میں مزید مدد ملتی ہے اور ایک موثر فلمی کردار کی تشکیل میں آسانی ہوتی ہے۔

3۔ تعلیم و پیشہ: کردار کی تعلیمی سطح اور اس کے پیشے کے بدلتے ہی چیزیں بھی تبدیل ہونے لگتی ہیں۔ اس لئے کردار کی تعلیمی حیثیت اور اس کے پیشے کا واضح تصور سامنے رکھ کر ہی کردار کی تشکیل کی جا سکتی ہے۔ مثلا ایک عالم دین اور ایک چور کے کرداروں کے طرز عمل میں تبدیلی کا سبب دونوں کا پیشہ ہی ہے۔

4۔ شہریت اور نسل: کردار کی قومیت اور اس کینسل سے متعلقہ تفصیلات بھی سماجی طور پر اس کو متاثر کرتی ہیں۔ کردار کی شہریت کس ملک کی ہے؟ ، وہ اپنے وطن میں ہی رہتا ہے یا غریب الوطن ہے؟ ، کیا اسے غیر ملک میں نسلی تبصروں کا شکار ہونا پڑ رہا ہے؟ ، کیا اس کی تعظیم اسی لئے کی جاتی ہے کہ اس کا تعلق فلاں ملک سے ہے؟ ان جیسے سوالات کی مدد سے فلم میں کردار کی سماجی پوزیشن کا تعین آسان ہو جاتا ہے۔

ج۔ نفسیاتی پہلو: کردار کا نفسیاتی پہلو بھی کم اہمیت کا حامل نہیں ہے۔ ہمیں کسی بھی فلمی کردار کی تشکیل کرتے وقت اس کی نفسیاتی پوزیشن کو واضح طور پر سمجھنا چاہیے تاکہ ہم اس کردار کو خوبصورت انداز میں قائم کر سکیں۔ کردار کے نفسیاتی پہلوؤ ں میں اس کی عادات و اطوار، اس کا غصہ والا یا صابر ہونا، اس کا اخلاقی درجہ، چیزوں کے تئیں اس کی سوچ، اس کیذہنی سطح، اس کے نفسیاتی خصائص جیسے شکی یا بہت زیادہ اعتبار کرنے والا ہونا، دل پھینک یا سنگ دل ہونا وغیرہ شامل ہیں ان سب چیزوں کو سامنے رکھے بغیر کردار کی تشکیل کی جائے تو اس میں خامی اور کجی صاف جھلکنے لگے گی۔

کردار کی تشکیل میں نفسیاتی، سماجی اور ظاہری پہلوؤں کا صحیح صحیح علم صرف فلمی ہی نہیں کسی بھی قسم کی کہانی کے کردار کی تشکیل کے لئے سود مند ہوتا ہے لیکن اس کا اطلاق فلم پر سب سے زیادہ اس لئے ہے کیونکہ سیلولائڈ پر آنے کے بعد کردار ہماری حقیقی زندگی کے کرداروں سے بہت زیادہ قریب ہو جاتا ہے اور ناظرین اس میں خود یا کسی اور کو تلاش کرنے لگتے ہیں اس لئے فلمی کردار کی صحیح صحیح تشکیل بہر حال لازمی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مالک اشتر

مالک اشتر،آبائی تعلق نوگانواں سادات اترپردیش، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ترسیل عامہ اور صحافت میں ماسٹرس، اخبارات اور رسائل میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لکھنا، ریڈیو تہران، سحر ٹی وی، ایف ایم گیان وانی، ایف ایم جامعہ اور کئی روزناموں میں کام کرنے کا تجربہ، کئی برس سے بھارت کے سرکاری ٹی وی نیوز چینل دوردرشن نیوز میں نیوز ایڈیٹر، لکھنے کا شوق

malik-ashter has 35 posts and counting.See all posts by malik-ashter