موٹرسائیکل پر ایک کروڑ کا سود اور پھر چار قتل


پشتونوالی پشتون قوم کی وہ روایات ہیں جو پشتون سماج کی معاشرتی، سماجی، معاشی اور قبائلی زندگی پر ملکی قوانین کے باوجود آج بھی نافذ ہیں جس کی پاسداری جدید ریاستی قوانین کے نسبت زیادہ ہوتی رہی ہے گو کہ ذولفقار علی بھٹو کے دور میں قبائلی نظام کا خاتمہ کیا گیا اور ملکی قوانین کا اطلاق بلوچستان کے تمام قبائلی علاقوں پر کیا گیا لیکن پیچیدہ ملکی قوانین کے ہوتے ہوئے لوگ اپنی روزمرہ کے مسائل کو اپنی قبائلی روایات کے تحت حل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ قلعہ سیف االلہ کو یہ تاریخی اور انفرادی حیثیت حاصل رہی ہے کہ یہ پشتون نوابوں مسکن او ر روایات کا امین رہا ہے یہاں کے مکینوں نے نہ صرف اپنے روایات پرعمل کیا ہے بلکہ ان روایات کی پاسبانی کی ہے۔ پشتون معاشرے میں جہاں کہیں بھی قبائلی تنازعات ہوں قتل کے تصفیے ہوں اراضی کے تنازعات ہوں حتا کہ خاندانی رنجشیں ہوں قلعہ سیف االلہ کو روایات کی پاسبانی کی وجہ سے ایک موثر ترجیح سمجھا جاتارہا ہے۔

آج شام روایات کے اس امین شہر کے دلخراش وا قعہ پر یوں محسوس ہوا کہ نہیں قلعہ سیف االلہ اب روایات کا پاسبان اور جائے پناہ نہیں رہا۔ جس قسبے کی شناخت اس کی روایات اور جائے پناہ ہو وہاں کسی کو پناہ ملے اور نہ ہی کسی ظلم پر اس کی نگہبان کوئی رد عمل دکھائیں تو کہا جاسکتا ہے کہ نہیں اب ایسا نہیں ہے۔ یہ واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے پہلے بھی قلعہ سیف االلہ میں سود یا پے منٹ مافیا سے تنگ آکر ایک دو نوجوانوں نے خود کشی کیں لیکن نہ ہی روایات کی پاسبانی ہوئی اور نہ ہی قانون کے رکھوالوں نے قانون کی رکھوالی کی۔

اپنی نوعیت کا بدترین واقعہ جو اس علاقے میں پیش آیا کہ ایک نوجوان فٹبالر تاج محمد جو قلعہ سیف االلہ میں مہاجرت کی زندگی گزار رہا تھا آ ج شام جب وہ گھر پہنچا اور کلاشنکوف اٹھا کو خود کو مارنے ہی والا تھا کہ بیوی نے االلہ اور رسول کا واسطہ دے کر خود کشی نہ کرنے اور ہاتھ سے کلاشنکوف چھیننے کی کوشش کی کو تو تاج محمد جس کے اعصاب جواب دے گئے تھے۔ ان کے لئے قلعہ سیف االلہ جائے پناہ کے بجائے جائے زندان بن چکا تھا نے ٹریگر دبا یا گولی بیوی کے سینے سے پار ہوگئی تب اس نے اپنے چھوٹے بچوں کو دیکھا اور فورا ان پر بھی برسٹ کردی اور آخری گولی خود کو مار کر پورے خاندان کی زندگی کا چراغ گھل کردیا۔ واقعہ میں تاج محمد اس کی بیوی اور دو بچے موقع پر جان بحق ہوگئے جبکہ دو تشویشناک حالت میں سول ہسپتال میں داخل کردئے۔ تاج محمد نے آخر ایسا کیوں کیا کہ وہ مجبور ہوا اور اپنے جگر کے ٹکڑوں کو گولیوں سے بھون ڈالا؟ تاج محمد نے کسی سود خور سے محدود مدت کے لئے ادھار پر موٹر سائیکل خرید لیا وقت پر پیسے ادا نہ کرسکا اور ایک اور سود خور سے موٹر سائیکل خرید کر اس کے پیسے ادا کیے اور یوں ادھار بڑھتا گیا اور تاج محمد کے ذرائع ختم ہوگئے اور وہ سود در سود لیتے اور چکاتے ایک کروڑ روپے کا مقروض ہو گیا۔ سود خوروں یا پیمنٹ مافیا نے ان کی زندگی اجیرن کردی۔ تنگ آکر زندگی کی خاتمے میں عافیت سمجھی۔ بیوی آڑے آئی تو اسے بھی مارڈالا جب بچوں کے طرف دیکھا کہ ان کی ماں کو مار دیا اور باپ بھی مرنے جارہا تو انھیں بھی مار ڈالا کہ معاشرے کو آئینہ دیکھا سکیں کہ میرے بعد میرے بچوں کا کوئی والی وارث نہیں ہو گا۔ وہ در در کی ٹھوکر کھا ئیں گے کوئی ان کی مدد نہیں کرے گا تو بہتر یہی ہے کہ انھیں بھی ساتھ لے جائے۔

اسی بارے میں: ۔  بنام مرشد نازک خیالاں ....

سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ ایسے واقعات کیوں ہوتے ہیں؟ اس مافیا کے پیچھے کون لوگ ہیں؟ ان کا تدارک کیسے کیا جائے؟ اس واقعہ کا نوٹس حکومت علاقے کے لوگ پشتون روایات کے نگہبان نواب ایاز جوگیزئی اور عدلیہ کو لینا چاہیے کیونکہ پیمنٹ اور سود مافیا نے پورے پشتون بیلٹ کو ہی نہیں پورے معاشرے کو جھکڑ کر رکھا ہے جس کے سب بڑے شکار مسیح برادری کے لوگ بھی ہیں جن کے ذرائع آمدن بہت قلیل ہیں۔ اس مافیا نے مسیح برادری کو بحیثیت کمیونٹی پھنسا کر رکھا ہے۔ سیاسی جماعتوں سول سوسائٹی قبائلی رہنماؤں کا یہ فرض بنتا ہے کہ اس واقعہ پر خاموشی اختیار نہ کریں اور اس واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور اس قبیح عمل کے تدارک اور روک تھام کے لئے موثر قانون سازی اور اس کے نفاذ کے لئے قبائلی سطح پر ایک با اختیار کمیٹی کا قیام جس میں حکومتی نمائندے، علما کرام، قبائلی مشران، سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کے ارکان کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جائے جو سود یا پیمنٹ سے متعلق کیسز کی معلومات اکھٹی کرے اور حکومت کو سفارشات دے اور ان سفارشات کی روشنی میں موثر قانون سازی کے لئے تجاویز اور سفارشات دیں تاکہ سود اور پیمنٹ مافیا کی حوصلہ شکنہ ہو اور اس گھناونے کاروبار پر فوری پابندی عائد کی جاسکے۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔