مغرب کی جنسی بے راہروی اور ہماری تباہی کی سازش


کون ذی شعور اور منکسر المزاج عالم شخص ایسا نہیں ہو گا جس نے مغرب کی اخلاقی تباہی کے اسباب جان کر اپنی اخلاقی برتری پر فخر نہیں کیا ہو گا؟ ہر ایسا سوچنے والا انسان حیرت کرتا ہے کہ سو برس پہلے ہم سے بھی زیادہ پردے اور خاندانی نظام کا قائل مغرب اچانک ایسا بے راہرو کیوں ہو گیا کہ نہ صرف اپنا لباس اتار پھینکا، بلکہ خاندانی نظام کا ہی منکر ہو گیا۔ ایک طرف شادی کرنے سے انکاری بن بیاہے جوڑے اس مقدس رشتے کے بغیر اکٹھے رہنے لگے اور بچے پیدا کرنے لگے اور دوسری طرف ہم جنس پرست افراد شادیاں رچانے لگے۔

حرام حلال کی تمیز ختم ہو گئی۔ نہ وہ شراب پیتے ہوئے کچھ سوچتے ہیں اور نہ خنزیر کھاتے ہوئے حالانکہ حضرت موسیؑ کی شریعت میں تو حرام حلال کی ایسی سختی تھی کہ اونٹ بھی حرام جانور قرار پایا تھا۔

مغرب کے بڑے بڑے مفکر اپنے معاشرے کی اس اخلاقی تباہی کا سبب نہ جان پائے۔ ان کے پاس ویسا دماغ ہی کہاں تھا جو ان چیزوں کو جان پاتا۔ وہ تو یہی سمجھتے رہے کہ اس کا سبب انسانی حقوق، فرد کی آزادی، لبرل ازم، صنعتی انقلاب، بڑھتی ہوئی آمدنی، اور ایسے دوسرے موجب فساد عناصر ہیں۔

لیکن ہم اہل مشرق کو ان کی تباہی کا سبب جاننے میں دقت نہ ہوئی۔ حکیم الامت تو بس ایک اشارہ کر کے ہی گزر گئے تھے کہ مغرب کی شاخ نازک ہے اور اس کا آشیانہ سلامت نہیں رہے گا اور آخر میں اس کی تہذیب خود اپنے خنجر سے خودکشی کر لے گی۔ لیکن اس معاملے کو کھول کر بانو قدسیہ نے بیان کیا تھا۔ اپنے لافانی ناول ”راجہ گدھ“ میں انہوں نے تفصیل سے بیان کر دیا تھا کہ حرام اشیا کھانے کے سبب مغرب اخلاقی قدروں سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔ ہر حرام لقمے کے ساتھ وہ حرام کاری کی طرف راغب ہوتا چلا گیا ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ مغرب کے علما اور مفکرین اس اہم کتاب سے غافل ہیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ یونیورسٹی آف جارج ٹاؤن کے شعبہ معاشرتی علوم کی ایک بڑی ٹیم پروفیسر ٹام فری میسن کی قیادت میں گزشتہ تیس برس سے ”راجہ گدھ“ پر تحقیق کر رہی ہے۔ یہ پراجیکٹ سیموئیل ہنٹنگٹن کی شہرہ آفاق کتاب ”تہذیبوں کا تصادم“ شائع ہونے کے بعد شروع کیا گیا تھا جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ اب مغربی تہذیب کا مقابلہ اسلامی اور چینی تہذیب سے ہو گا۔

اسی بارے میں: ۔  مسلم ممالک کے دائیں بازو کی فکری تقسیم میں برطانیہ کا کردار

اس تصادم میں فتحیاب ہونا مغرب کو ناممکن دکھائی دیا۔ ورجینیا میں سی آئی اے کے ہیڈ کوارٹر لینگلے میں اس اس سلسلے میں ایک بڑی مشہور خفیہ ترین کانفرنس ہوئی جس میں امریکہ اور یورپ کے چوٹی کے دماغ سر جوڑ کر بیٹھے۔ یہ تو وہ جان چکے تھے کہ برتر ہتھیاروں اور علم کے باوجود وہ مسلمانوں کو شکست نہیں دے سکتے ہیں۔ افغانستان اور عراق میں ان کے پانچ ہزار فوجی مرے تھے اور لاکھوں مسلمان شہید اور کروڑوں بے گھر ہوئے تھے مگر اہل مغرب کو یہ احساس تھا کہ شکست خود انہیں ہوئی تھی۔ وہ مسلمانوں کے جذبہ ایمانی سے ہار گئے تھے۔

ایسے میں جب وہ سوچ سوچ کر مایوس ہو چلے تھے اور کوئی حل ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا تو پروفیسر ٹام فری میسن نے کانفرنس ٹیبل پر زرد رنگ کی ایک کتاب بلند آواز سے پٹخی اور کہا کہ ”مجھے وہ حل مل گیا ہے جس سے ہم مسلمانوں کو شکست دے سکتے ہیں۔ ہم ان میں ایسی جینیاتی تبدیلی پیدا کر دیں گے کہ وہ ہم جیسے ہو جائیں گے اور پھر ہم اپنے لیول پر لا کر ان کو اپنے جدید ہتھیاروں سے شکست دے ڈالیں گے“۔

کانفرنس کے شرکا کو اس بات پر یقین نہ آیا کہ وہ اربوں مسلمانوں میں جینیاتی تبدیلی لا سکتے ہیں مگر جب پروفیسر ٹام فری میسن نے ان کو ”راجہ گدھ“ پڑھ کر سنانی شروع کی اور یہ حقیقت واضح کر دی کہ حرام کھانے سے کیسی بھِیانک جینیاتی تبدیلی آتی ہے تو وہ اچھل پڑے۔ یہ کانفرنس شیڈول سے تین دن زیادہ چلی اور اس وقت ختم ہوئی جب راجہ گدھ کا آخری صفحہ بھی پڑھ لیا گیا۔ پروفیسر ٹام فری میسن کے منصوبے کی اسی وقت صدر امریکہ نے منظوری دے دی۔

شروع شروع میں تو امریکہ میں مقیم مسلمان طلبا پر یہ تجربہ کیا گیا اور نتائج کو لیبارٹری میں چیک کیا گیا۔ جب یہ ثابت ہو گیا کہ واقعی حرام کھانے سے جینیاتی تبدیلی آ جاتی ہے تو پھر مسلم ممالک میں یہ منصوبہ شروع کیا گیا۔ بعض مسلم ممالک میں ملٹی نیشنل کمپنیوں نے چاکلیٹ، دودھ اور برفی میں حرام اجزا کو ای۔ کیمیکل کے نام کے پردے میں چھپا کر کھلانا شروع کیا لیکن پاکستان سے ان کو زیادہ خطرہ تھا اس لئے یہاں دوسرا طریقہ اختیار کیا گیا۔

چار ستمبر 2017 کے دن یہ خبر آئی تھی کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے فیصل آباد کے علاقے مرضی پورہ میں چھاپہ مار کر 25 ہزار لیٹر تیار تیل برآمد کیا جو مردار اور حرام جانوروں کی آلائشوں سے بنایا گیا تھا۔ مردہ چوہے، بلیاں، کتے، گھوڑے، گدھے نہ جانے کیا کیا تھا جس سے یہ تیل بنایا گیا تھا۔ اس چھاپے میں مختلف برانڈ کے تیل کے خالی ڈبے بھی برآمد کیے گئے تھے جن میں بھر کر یہ تیل مارکیٹ میں بیچا جاتا تھا۔

اسی بارے میں: ۔  ملا کا مذہب اور مردانہ کمزوری

ہم جانتے ہیں کہ کوئی مسلمان اور پاکستانی ایسا مکروہ کام نہیں کر سکتا ہے۔ حکومت تفصیلات بتانے سے انکاری ہے مگر ایجنسیاں تحقیقات کریں تو اس فیکٹری کے مالکان کے ڈانڈے سی آئی اے سے ہی ملیں گے۔ نہ جانے کتنے ریمنڈ ڈیوس یہاں کام کر رہے ہیں اور ہم پاکستانیوں کو حرام کھلا کھلا کر جینیاتی تبدیلی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

اس جینیاتی تبدیلی کے آثار ہر طرف دکھائی دینے لگے ہیں۔ نوجوان طلبا و طالبات میں بڑھتا ہوا رومانس، شرم و حیا کی رخصتی، ان کے ہیجان خیز ہوشربا لباس، مہنگے ترین مغربی کھانوں اور فاسٹ فوڈ کا شوق، الیکٹرانک میڈیا پر محزب اخلاق ڈراموں کی مقبول ترین نشریات، یہ سب وہ علامات ہیں جو ہماری قوم کی جینیاتی تبدیلی کا ثبوت ہیں۔ لیکن سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ قوم نیک، دیندار اور ایماندار قیادت منتخب کرنے کی بجائے کرپٹ سیاسی لیڈروں کو ووٹ دیتی ہے۔

حکومت تو اب مغرب کی غلام بن چکی ہے۔ ہم اگر اپنے گھروں کو بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں خود ہی اپنی خوراک کا بندوبست کرنا ہو گا۔ یہ بھیانک مغربی سازش ناکام بنانے کا بس یہی ایک طریقہ ہے کہ اپنی بھینس پالی جائے اور گھر کا دودھ دہی استعمال کیا جائے۔ چھت پر مرغیاں پالی جا سکتی ہیں جن کو ہم حلال دانہ ڈال سکتے ہیں، صحن میں اپنی سبزیاں کاشت کی جا سکتی ہیں اور بچوں کو اپنی علمی استعداد کے مطابق اپنے اپنے گھر کے اندر پڑھایا جا سکتا ہے۔ اب فیصلہ ہمارا ہے کہ ہم مغربی سازش کا شکار ہوں گے یا نہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ ”راجہ گدھ“ ہماری ملک میں لکھا گیا لیکن اس کی دانش سے فائدہ مغرب اٹھا کر ہمارے ہی خلاف استعمال کر رہا ہے۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 736 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar