ریاست کے اندر ریاست میں وزیر داخلہ کا داخلہ منع ہے


کتنے دکھ کی بات ہے کہ آج صبح سابق وزیراعظم نوازشریف احتساب عدالت میں پیش ہوئے تو وہاں موجود رینجرز اہلکاروں نے نوازشریف کے ساتھ آنے والے متعدد وزراء کو کمرہ عدالت میں داخل ہونے سے روک دیا، اوراس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ جن وزراء کو عدالت میں داخلے سے روکا گیا ان میں خود وفاقی وزیرداخلہ بھی شامل تھے۔ عوام الناس کے ساتھ تو یہ سارا عمل مختلف مقامات پر بارہا دہرایا جاتا ہے لیکن وزیرداخلہ احسن اقبال کوجب رینجرز کے اہلکاروں نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر عدالت میں داخلے سے روکا تو وہ برہم ہوگئے۔ اب انہیں کون بتائے کہ سابق وزیراعظم سمیت تمام اہم شخصیات کی جانوں کی حفاظت کرنا بھی ان اداروں کی ذمہ داری ہے جنہیں ہم ملکی سلامتی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ وزیرداخلہ نے جب اس صورت حال پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے رینجرز کے کمانڈر کو طلب کیا تو انہوں نے وزیرداخلہ کے روبرو پیش ہونے سے انکار کر دیا۔ میڈیا کو تو موقع چاہیے تھا، صحافیوں کو بھی چونکہ عدالت کی اجازت کے باوجود کمرہ عدالت سے نکال دیا گیا تھا لہٰذا تمام چینلزوالے مائیک لے کر احسن اقبال صاحب کے گرد جمع ہوگئے اور پھر ہم نے ان کا وہ انداز گل فشانی گفتار دیکھا جو اس سے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔

احسن اقبال صاحب رینجرز پر برس پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کے اندر ریاست قائم کردی گئی ہے۔ رینجرز میرے ماتحت ہیں تو انہیں حکم بھی میرا ہی ماننا چاہئے تھا۔ وزیرداخلہ نے کہاکہ میں کٹھ پتلی وزیر نہیں بننا چاہتا اور اگر رینجرز کے ذمہ دار افسروں کے خلاف کار روائی نہ ہوئی تو میں استفعیٰ بھی دے دوں گا۔ ہمارے بعض سادہ لوح دوست اس وقت سے ان کے استفعے کے منتظر ہیں۔ استفعیٰ وہ دیتے ہیں یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے اور اس پر بات کرنا بھی قبل ازوقت ہوگا۔ لیکن ہمیں حیرت یہ ہے کہ وزیرداخلہ کو آج پہلی بار معلوم ہوا کہ ریاست کے اندر بھی کوئی ریاست ہوتی ہے۔ احسن اقبال صاحب کا جس خاندان سے تعلق ہے اور وہ جس مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے ہیں انہیں تو بہت پہلے سے معلوم ہو گا کہ ریاست کے اندر ریاست کیسے بنتی ہےاور کون بناتا ہے۔ جنرل ضیاء الحق نے جب 1985ء میں غیرجماعتی انتخابات کرائے تھے تو احسن اقبال صاحب کی والدہ محترمہ نثار فاطمہ کو خواتین کے کوٹے میں اسمبلی کا رکن بنایا گیا تھا۔ محمد خان جونیجو اسی اسمبلی کے ذریعے وزیراعظم منتخب ہوئے اور خود کو وزیر اعظم سمجھ بھی بیٹھے۔ جنرل ضیاء نے محمد خان جونیجو کی حکومت کو اس وقت ختم کردیاتھا جب انہوں نے ریاست کے اندر موجود ریاست کو اوجڑی کیمپ سانحہ کی تحقیقات کے دوران اور بعد ازاں جنیوا معاہدے کے موقع پر چیلنج کرنے کی کوشش کی تھی۔ احسن اقبال کی والدہ محترمہ نے اس سارے عمل میں ریاست کے اندر موجود ریاست کا ہی ساتھ دیا تھا۔

اسی بارے میں: ۔  کیا آپ گیبو سے حسد کرنا پسند کریں گے

احسن اقبال صاحب نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں جمعیت کے پلیٹ فارم سے کیا۔ اور 80ء  کے عشرے میں وہ جنرل ضیاء  ہی کی اشیر باد سے سیاست میں آ گئے۔ 1988ء میں جب ریاست کے اندر موجود ریاست نے مسلم لیگ کے دوٹکڑے کیے تو احسن اقبال نے محمد خان جونیجو کی بجائے مسلم لیگ (ن)میں شمولیت اختیار کی۔ وہ پہلی بار نارووال سے 1993ء میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور اسی حلقے سے وہ کبھی الیکشن جیتتے اور کبھی ہارتے ہیں۔ مشرف دور میں انہوں نے وفاداریاں تبدیل کرنے سے گریز کیا اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ وابستہ رہے۔ یوسف رضا گیلانی کے دور حکومت میں وہ کابینہ کا حصہ بھی رہے لیکن اس کے باوجود ریاست کے اندر موجود ریاست نے جب بھی حکومت کو غیرمستحکم کرنے کی کوشش کی احسن اقبال نوازشریف کی قیادت میں اس عمل کا حصہ بنتے رہے۔ آپ کو یہ سن کر بھی حیرت ہوگی کہ جس عمل پر وزیرداخلہ احتجاج کر رہے ہیں خود احتساب عدالت نے اس عمل کو سراہا اور عدالت میں امن وامان کے قیام اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے رینجرز کی تعیناتی پر اطمینان کااظہارکیا۔ سابقہ ادوار میں ایسی ہی کنگرو کورٹس کے فیصلوں اور ریمارکس کی احسن اقبال صاحب تائید کیا کرتے تھے۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ ریاست کے اندر موجود ریاست جمہوریت کاحسن ہے یا نہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں نام نہاد جمہوری ادارے ہمیشہ سے اسی ماحول میں کام کرتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ حکمران اس عمل پر احتجاج کرتے دکھائی دیتے ہیں اور اپوزیشن عموماً خاموشی اختیار کیے رکھتی ہے۔ آج کے عمل کے بعد اور آنے والے دنوں میں سیاست دانوں کا رویہ خود بتائے گا کہ انہوں نے ماضی سے کوئی سبق سیکھا ہے یانہیں؟ اور اگر انہوں نے ماضی سے واقعی کچھ سبق سیکھا ہے تو پھر طاقت ور ریاستی اداروں کو ان کی حدود میں رکھنے کے لیے عملی اقدامات بھی خود انہی کو کرنا ہونگے۔ لیکن یہ راستہ کٹھن ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ آمریت کے سائے میں پروان چڑھنے والی سیاسی قوتیں اس کٹھن راستے سے ثابت قدمی سے گزرپائیں گی یا اسی تنخواہ کام کرتی رہیں گی ؟اگر انہوں نے اب بھی سبق نہ سیکھا آنے والے دنوں میں بھی رینجرز کا کوئی اہلکار کسی بھی وقت وزیرداخلہ کو کہہ دے گا جناب آپ وزیرداخلہ توضرور ہونگے لیکن حضور والا ہماری حدود میں آپ کا داخلہ منع ہے۔ اور جناب احسن اقبال کو یہ تو معلوم ہی ہو گا کہ وزیرِ اعظم ہاﺅس پر قبضے کے لئے ایک بریگیڈ کی ضرورت پڑتی ہے لیکن وزیرَ داخلہ کا راستہ روکنے کے لئے تو ایک بریگیڈیئر ہی کافی ہوتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  غیرت کے نام پر قتل کے حامی قدامت پسند

(بشکریہ گرد و پیش)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔