مجھے میرے میسیجز سے بچاؤ!


جب موبائل شروع شروع میں آئے تو ایک وقت ایسا تھا جب پرومو پیکیج میں ٹیکسٹ میسیج بالکل مفت ہو گئے۔ انہیں دنوں ان کمنگ فون پر لگنے والے چارجز بھی ختم ہوئے تھے۔ یہ دونوں فیصلے اس طرح کا انقلاب لائے کہ موبائل پھر ٹکے ٹوکری ہو گیا۔ عام آدمی فون کرے یا نہ کرے، وہ سن ضرور سکتا تھا اور میسیج کرنا تو ویسے ہی فری تھا، ہر چھڑے چھانٹ کی زندگی میں انقلاب آ گیا۔

ہم دوست ان دنوں مل کر ایک ٹیوشن سینٹر چلاتے تھے۔ خود شاید گریجوایشن کر رہے تھے اور ساتھ ساتھ یہ شغل بھی جاری تھا۔ اب موبائل کی یہ موج لگی تو سب نے جیسے تیسے جوڑ توڑ کیا اور ایک ایک ہتھوڑا خرید لیا۔ اس زمانے کے موبائل جیبوں میں رکھنے کے لیے دل بڑا کرنا پڑتا تھا ورنہ جیبیں بہرحال تنگ دہنی کا گلہ کرتی تھیں۔ تو وہ بھاری بھرکم موبائل باقی سارا وقت تو ڈرپ کی طرح چارجر لگائے توانائیاں جمع کرتے رہتے، جیسے ہی ٹیوشنیں ختم ہوتیں ہم سب آمنے سامنے بیٹھ جاتے۔

اب ایک کمرہ ہے جس میں چھ سات کرسیاں ہیں اور پانچ لوگ ہیں۔ سب کے سب موبائل پر جھکے ہیں اور دیوانوں کی طرح ایک دوسرے کو میسیجنگ ہو رہی ہے۔ پاگل پن لگتا ہے لیکن اس وقت یہ بھی تفریح تھی۔ روز رشتہ داروں کو میسیج کر کے حال چال لیا جاتا تھا، دور دراز کے جاننے والوں سے بھی گپ شپ لگتی تھی، جن بے چاروں کو ساری زندگی کوئی کبھی نہیں پوچھا تھا‘ ان سے بھی لطیفوں کا تبادلہ ہوتا تھا۔ باقی کچھ عمر کے تقاضے بھی نبھانے ہوتے تھے لیکن اس کے لیے رات اپنی تھی، دن میں باؤلا پن کسی کسی کو راس آتا ہے۔ تو خیر یہ اس وقت ایک بہت بڑی تفریح تھی۔

وقت گزر گیا، میسج پہلے تو پیسوں کا ہوا، پھر روپوں کا ہو گیا۔ پھر پیکیج چلے تو وہی آندھی دوبارہ چل پڑی۔ اپنی بس ہو گئی تھی، بندہ کتنے میسیج بھیج اور دیکھ سکتا ہے؟ تو آہستہ آہستہ کنارہ کر لیا۔ دنیا مگر ایسی ڈوبی ایسی ڈوبی کہ آج تک نہیں نکل سکی۔ ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ موبائل میں پہلے میسینجرز آئے اور پھر آخر کار واٹس ایپ کا دور شروع ہو گیا۔ واٹس ایپ مفت میسیجنگ کی معراج ہے۔ بھلے فون کیجیے، میسج کیجیے، ویڈیو کال کریں، آڈیو فائل بھیج دیجیے، سب کچھ اتنا شدید مفت ہے کہ بعض اوقات وہ دن یاد آ جاتے ہیں جب دوسرے شہر فون کرنے کے لیے بھی ٹرنک کال بک کروانی پڑتی تھی۔ تین منٹ کا فون چالیس پچاس روپے میں پڑتا تھا اور تیس دن ٹھنڈ رہتی تھی کہ یار اتنے پیسے لگ گئے، دو سو ڈال کر خود ہو آتے۔ لیکن یہ مفتا اب ایک عذاب بن چکا ہے۔

ایک انسان جو ذرا سا بھی سوشل ہو اور ساتھ ساتھ تین چار نوکریاں بدل چکا ہو تو اس کا فون نمبر اچھے خاصے لوگوں کے پاس ہوتا ہے۔ اب ان لوگوں میں ہر طرح کے بندے ہوتے ہیں، سب دوست یار ہیں، بھئی ہیں تبھی تو نمبر ان کے پاس ہے۔ تو کم از تیس ان میں سے ایسے ہوں گے جنہوں نے واٹس ایپ پہ اپنا گروپ بنایا ہوا ہو گا۔ اس کام میں وقت ایسا فنا بالجبر ہوتا ہے کہ سوچ ہو گی یاروں کی۔ مسئلہ یہ ہے کہ کسی بھی گروپ میں ایڈ کرتے ہوئے آپ سے بالکل ویسے ہی نہیں پوچھا جاتا جیسے آپ اس دنیا میں ایڈ ہوئے تھے۔ بغیر مرضی، بغیر ارادے، بغیر خواہش، بغیر خوشی کے آپ کسی بھی گروپ میں شامل کر لیے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  انتہا پسندی، رد عمل کی نفسیات اور ذہنی پیچیدگیاں (2)

اب جس نے یہ حرکت کی ہے، ٹیلی فون ایتھکس کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے جذبات کا احترام کیا جائے۔ آپ نہ گروپ میں سے نکل سکتے ہیں اور نہ اس خواہش کا اظہار تک کر سکتے ہیں۔ یہ عین ویسا ہو گا جیسے کوئی عزیز دوست اپنی شادی میں آنے کی دعوت بہت خلوص سے آپ کو دے۔ آپ ظاہری بات ہے قبول کریں گے۔ تو آپ قبول کریں اور وہاں جائیں تو آپ بہت سی عجیب و غریب رسومات دیکھیں، آپ کو شدید کوفت ہو لیکن آپ اُٹھ بھی نہ سکیں۔ کیوں؟ کیوں کہ آپ سٹیج کے سامنے ہوں گے اور اتنے بہت سارے بیٹھے ہوؤں میں سے اٹھ کے جاتے ہوئے آپ صاف نظر آ جائیں گے اور عمر بھر کی ناراضی اس کے بعد آپ کا مقدر ہو گی۔ تو آپ بیٹھے رہیں گے، پہلو پہ پہلو بدلیں گے، فنکشن ختم ہونے کا انتظار کریں گے اور جیسے تیسے فارغ ہو کے گھر آ جائیں گے۔ یہاں تو کمبخت ختم ہونے کا سین ہی نہیں ہے۔ ایڈ ہیں تو تاحیات ایڈ ہیں، جب بھی نکلنے کی کوشش کیجیے گا وہاں ڈھائی سو بندہ دیکھے گا، ”حسنین جمال لیفٹ!‘‘ اب حالانکہ حسنین جمال رائٹ ہو گا لیکن لیفٹ کرنے کی وجہ کوئی نہیں جانتا اس لیے سو طرح کی باتیں سننا پڑیں گی۔

وضع داریاں نبھاتے نبھاتے ایک دن ایسا آ جائے گا جب آپ شام کو گھر آ کے دیکھیں گے تو واٹس ایپ آٹھ سو بتیس میسیج ایسے دکھا رہا ہو گا جو آپ نے نہیں پڑھے۔ ان میں سے بمشکل چار میسیج اور دو ویڈیوز ایسے ہوں گے جو آپ دیکھنا چاہیں گے لیکن وہ بھی اس چکر میں رہ جائیں گے۔ سب سے زیادہ ظلم ان بے چاروں کے ساتھ ہو گا جنہوں نے واقعی میں کوئی کام کی بات پوچھی ہو گی لیکن اس ہڑاہڑی میں وہ بھی رگڑے جائیں گے۔ کل ملا کر مہینے کے آخر میں اندازہ ہو گا کہ جمعہ مبارک کی تصویروں اور دنیا جہان کی ویڈیوز نے آدھے سے زیادہ انٹرنیٹ ڈیٹا پلٹا دیا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  نئے حالات‘ نیا مکالمہ

کسی دن حساب لگایا جائے تو اندازہ ہو گا کہ ایک دن میں یہ گروپ مجموعی طور پہ جتنی ویڈیوز یا تحریریں شئیر کرتے ہیں اگر بندہ سب کی سب دیکھنے بیٹھ جائے تو شاید چوبیس میں سے چھتیس گھنٹے اسی دھندے میں لگانے پڑیں۔ بس کر دو بس!

ایک نارمل ذی ہوش‘ جو تھوڑا بہت رابطے رکھنے کا شوقین ہو‘ اسے دو طرح کے گروپس بہت کافی ہیں۔ ایک گروپ تو رشتہ داروں کا ہے، کلوز فیملی سرکل، اور وہ کئی لحاظ سے عظیم ترین نعمت بھی ہے۔ پہلے کہیں زلزلہ، طوفان یا بم دھماکے کی خبر آتی تھی تو دبا دب فون کھڑکنے شروع ہو جاتے تھے، اب متاثرہ علاقے والا خود ہی ”آل فائن الحمدللہ‘‘ کا میسیج کر دیتا ہے، اللہ اللہ خیر سلا، زیادہ دیر پریشانی نہیں اٹھانی پڑتی، گروپ میں جائیں تو سب معلوم ہو جاتا ہے بلکہ جملہ ولادتیں، سالگرہیں، نکاح گرہیں سبھی کچھ یہ بالکل سامنے سکرین پر! ہاتھ کے ہاتھ مبارک دیں اور پتلی گلی سے نکل جائیں۔ نہ کارڈ بھیجنے، نہ فون کرنا، ”ہیپی برتھ ڈے فلاں بھائی‘‘ گل ختم، ساتھ بہت احسان کیجیے گا تو ایک 🙂 اس طرح کی سمائیلی بھی چلی جائے گی۔ واہ رے زمانے تیری حد ہو گئی!

دوسرا گروپ قریبی دوستوں کا ہے جہاں آپ وہ سب کچھ شیئر کرتے ہیں‘ جس کے لیے آپ فون کو پاس ورڈ لگائے ہوتے ہیں۔ نہ ہرگز نہیں، یہ کوئی بری بات نہیں، اصل مسئلہ تو اس وقت ہے جب کسی شخص کا فون اس کے کردار سے زیادہ صاف ستھرا اور ایک دم کھلا ہو، نو پاسورڈ، نو لاک! اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، یا تو دوسرا فون وہ دفتر چھوڑ کر آتا ہے، یا وہ شدید بیمار ہے اور اب گیا کہ تب گیا۔ فون کھلا اسی لیے چھوڑا کہ لواحقین کو زحمت نہ ہو۔ تو دونوں باتیں ہی کچھ زیادہ اچھی نہیں، خدا ہر صاحب فون کو صحت و تندرستی عطا کرے۔ باقی جہاں تک واٹس ایپ گروپس کا تعلق ہے تو ان دو گروپس کے علاوہ تیسرے اور چھوتھے، پانچویں، چھٹے گروپ میں پھنسنا خود اپنے آپ سے ایک زیادتی ہے۔ ایسے تمام گروپ مالکان سے گزارش ہے کہ بھائی جو ممبر بالکل سن ہوں، کوئی سوال جواب یا شئیرنگ نہ کرتے ہوں انہیں تیس دن بعد اٹھا کر باہر پھینک دیا کیجیے، قسم بہ خدا اس سے آپ کا گروپ بھی ایکٹیو رہے گا اور سب کا بھلا سب کی خیر بھی ہو جائے گی۔ بن کہے بات سمجھ لو تو عنایت ہو گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 335 posts and counting.See all posts by husnain