گنز نہیں گٹار


گزشتہ پیر کو امریکہ کے شہر جسے میرا دوست آغا پیر محمد ’’جادوئی شہر‘‘ کہتا ہے وہاں ایک قاتل شخص نے شہر کی مشہور و مصروف ترین پٹی پیر کی پیر رات ہونے والے کنسرٹ یا موسیقی کے پروگرام میں بائیس ہزار شریک لوگوں پر ایک ہزار فٹ اور اپنے ہوٹل کی بتیسویں منزل سے گولیاں برساکر انسٹھ افراد کو ہلاک اور تین سو پچھتّرکو زخمی کردیا۔ اس واردات کو امریکہ کی جدید تاریخ کا سب سے بڑا قتل عام کہا جار ہا ہے۔ اس سے قبل امریکہ میں لوگوں کو اس طرح اندھادھندہ گولیاں چلا کر اتنی بڑی تعداد میں قتل کرنے اور زخمی کرنے کی نظیر نہیں ملتی۔ لیکن ایسی کئی سینکڑوں نہیں تو متعدد اور درجنوں وارداتیں ملتی ہیں جن میں مہلک ترین اور خطرناک ترین ہتھیاروں سے لوگ بشمول بچے، عورتیں اور بوڑھے اندھا دھند فائرنگ سے قتل ہوتے رہے ہیں۔ چاہے وہ اسکولوں، بازاروں یا شاپنگ مالز میں ہونے والی اندھا دھند بندوق بازی کی واراداتیں ہوں کہ عبادتگاہوں، پارکنگ لاٹس، سینما ہال یا تھیٹرز ہوں کہ مسلمانوں کی مسجدوں اور سکھوں کے گردواروں، یہودیوں کے سیناگوگ، یا عیسائیوں کے گرجا گھر، ریستوران ہوں کہ اسپتال یا فوجی مراکز۔ میں آج سے بیس برس قبل جب امریکہ آیا تھا تو اس دن بھی کولمبائین ہائی اسکول جیسا سانحہ ہو چکا تھا۔ میرے امریکہ پہنچنے والے پہلے دن میں نے کولمبائین اسکول کے کلاس روموں میں بچوں کے ساتھ اسوقت کے صدر بل کلنٹن کو بیٹھے اور ان کی دلجوئی کرتےدیکھا تھا۔

میں جس امریکہ کو جانتا تھا وہ گٹار والا امریکہ تھا اور یہ میں گن یا بندوق والا کیسا امریکہ دیکھ رہا ہوں؟ ایک وہ کنٹری سانگز یا امریکی لوک گیتوں والا امریکہ تھا۔ کینی روگ یا کینی راجر ، ولی نیلسن ، بوب ڈیلن اور فرینک سناترا والا امریکہ (آئی ہٹ دا بینگ بینگ‘‘ والا وہ گیت یاد ہے کسی کو؟)، جانی کیش اور اسٹیو ونڈر والا۔ جان لینن والا امریکہ ۔وہ امریکہ شاید اب بھی ہے لیکن بہت کچھ بدل چکا ہے۔ دنیا بدل چکی ہے۔ اس طرح امریکہ کی دنیا بھی۔ انیس سو اسی کی دہائی میں میں اور میرے ہم عمر عزیز کتنے شوق سے اسٹیریو ٹیپ ریکارڈر پر امریکی کنٹری سانگز سنا کرتے تھے۔

گزشتہ پیر کو جب جدید امریکی تاریخ کا سب سے بڑا قتل عام جس جگہ اور جس وقت ہوا تو اس جگہ بھی امریکہ میں آج کے مغربی ساحلی کنارے کے مشہور کنٹری سنگر جیسن ایلڈیئن کا کونسرٹ ہو رہا تھا جسے سننے اور دیکھنے ہزاروں افراد امریکہ کے دور دراز علاقوں سےآئے ہوئے تھے۔ ویسے بھی جادوئی شہر لاس ویگاس میں دن رات ایک میلے کا سماں ہوتا ہے۔ کرتب ہی کرتب، روشنی اور رنگ ہر طرف۔ آج کسی کی ہار ہوئی ہے اور کسی کی جیت والے انڈین فلمی گانے جیسا شہر۔ یہی وہ شہر ہے جہاں دن کو راج راہبوں کا اور رات کو رات کے راجائوں اور رانیوں کا ہوتا ہے۔ یہاں ناصح اور گناہگار ایک ساتھ اترے ہوئے ہوتے ہیں۔ وقت یہاں ہارے ہوئے جواری کے قدموں کی طرح چلتا ہے تو کبھی الیکٹرک تنبولوں کی طرح۔ یہاں کیسے کیسے لوگ اپنی قسمت آزمانے آتے ہیں۔ وہ بھی جو اپنی بگڑی قسمت پھر بنانے آتے ہیں۔ یہاں پاکستانیوں کی بھی اچھی خاصی تعداد بستی ہے۔ کافی عرصہ قبل لاس ویگاس میں کراچی کی تاریخ کی اپنے زمانے کی سب سے جدید مشہور ڈرائیو ان سنیما کا مالک بھی آکر ٹیکسی چلانے لگا تھا۔ اور اس میں کوئی عیب بھی نہیں۔ یہ ایک ایسا شہر ہے جس میں ہر قسمت آزمانے والے، کیب ڈرائیور، ڈانسرز،، جواری ، ہر طرح کے کارکن اور مبلغ ساتھ ساتھ آتے ہیں۔

تو پس عزیزو!جب گلوکار جیسن ایلڈیئن اپنے گیتوں کے آخری حصے پرتھا تو ہزاروں کے اس مجمعے کے سروں پر گولیاں برسنے لگیں۔ اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، مجمع میں جب بھگدڑ مچی اور فطری ہے کہ کنٹری سنگر جیسن بھی بھاگا تو ہجوم میں کچھ لوگوں نے بھاگنے والے ہجوم کو رکنے کا کہا کہ ’’کچھ نہیں کچھ نہیں آتش بازی ہے‘‘ لیکن کاش ایسا ہوتا! لوگ تھے کہ سرپٹ سر بچانے بھاگے۔ سیکنڈوں میں نورو رنگ کا یہ سیل رواں، یہ ایل وی پٹی یا لاس ویگاس اسٹرپ ایک خون کی جھیل میں ایک گہرے غم و غصے کےاندھیرے میں ڈوب گئی۔

اس قتل عام کی جگہ سے ہزارفٹ کی فاصلے پر کثیرمنزلہ ہوٹل کی بتیسویں منزل کے ایک کمرے سے، جیسا کہ امریکی میڈیا اور پولیس نے بتایا، مہلک ہتھیار تھے جن میں اے کے فارٹی سیون بھی تھی جس سے نو سیکنڈ میں کئی ہزار رائونڈ چلائے گئے برآمد ہوئی۔ پولیس کی نشانہ باز ٹیم جب قاتل کے کمرے تک پہنچی تو کہتے ہیں اس نےمبینہ طور پرخود کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ پولیس اسے قتل عام میں مرنے والے لوگوں میں ظاہر ہے کہ شمار نہیں کرتی۔ بندوق باز مبینہ قاتل کے کمرے سے دس کے قریب اسالٹ رائفلیں بھی بر آمد ہوئیں۔ اور اس سے دگنی ایریزونا کی سرحد پر اسکے گھر سے بر آمد ہوئی ہیں ۔ چونسٹھ سالہ مبینہ قاتل اسٹیون پیڈاک کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ وہ ’’سائیکو‘‘ یا ذہنی مریض ہےلیکن بڑی بازی کھیلنے والا جواری تھا۔ عظیم روسی ناول نگار و مصنف دوستو سکی اگر آج کے دور میں ہوتا تو آج کے لاس ویگاس اور امریکہ کے گن کلچر پر اپنی تخلیقات لکھتا۔ لیکن امریکی بڑھیا لکھاری تھامس ہنٹر نے ’’فیئر اینڈ لوتھنگ ان لاس ویگاس‘‘ (لاس ویگاس میں خوف اور نفرت) ضرور لکھا تھا۔ تھامس ہنٹر، جس نے کچھ سال گزرے کہ ایک شراب خانے میں خود کو گولی مار کر ہلاک کیا تھا۔ میں اسکی تحریروں اور ذاتی زندگی کے حوالے سے تھامس ہنٹر کو امریکہ کا دوستوسکی کہوں گا۔

مبینہ قاتل نے یہ خطرناک اور غالباً خودکار ہتھیاروں کی ایک بڑی تعداد لاس ویگاس کے مشہور ’’ گٹار اینڈ گنز‘‘ نامی اسٹور سے خریدی تھیں۔ امریکہ عجیب ملک ہے جہاں گن کلچر یا بندوق کا کلچر پاکستانی فاٹا و دیگر قبائلی علاقوں سے اس صورت کم نہیں کہ یہ فقط ماضی کی کائو بوائے فلموں میں نہیں بلکہ لوک گیتوں میں بھی ہے۔ شہری حقوق میں ہے۔گن کلچر کو آئین میں دوسری ترمیم کے ذریعے اتنا تحفظ شاید مبالغہ آرائی کے قریب ہو، پر گن لابی یا این آر اے یعنی نیشنل رائفل ایسوی ایشن بہت اثر رسوخ رکھتی ہے۔ اتنا کہ نہ صرف بندوق سازی کی صنعت کو بڑھاوا دیا ہوا ہے بلکہ ریپبلکنز کی معاشی مدد کرتی ہے اور انتخابات میں ان کے امیدواروں اور صدر کی۔ ڈیموکریٹک صدر اوباما اور ان کے ساتھی گن کنٹرول قوانین کو سخت کرنے کے ضمن میں آخر تک برسرپیکار رہے پر گن لابی پر فتح حاصل نہ کرسکے۔ اسی لئے تو کسی بھی بالغ امریکی کے لئے بغیر کسی سخت قوانین کے انتہائی خطرناک اسالٹ ہتھیاروں تک رسائی نے بار بار ایسے سانحوں کو جنم دیا ہے جس کی بدترین مثال لاس ویگاس کا قتل عام ہے۔ جس میں لگتا ہے کہ نہ فقط ایسے ہتھیار ان پر،بقول ہیلری کلنٹن سائلنسر کا بھی شاید حصول قتل عام میں ملوث اس شخص کے لئے آسان تھا۔ بدقسمتی ہے کہ یہاں گٹار اور گن ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ امریکہ بہت خوبصورت ہے لیکن:
جیسے نیویارک کی شاعرہ قانع ادا پھر یاد آئیں
’’اس نے کہا تھا دنیا کتنی اچھی ہے
میں نے کہا تھا
جب تک نہ ہتھیار چلے۔‘‘

یہ بحث عبث ہے کہ اگر کسی خاص کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے نے یہ قتل عام کیا ہوتا تو اسے ’’دہشت گردی‘‘ کہا جاتا اور اگر اب مقامی شخص نے کیا تو اسے ’’پاگل‘‘ قرار دیا جا رہا ہے، میں کہتا ہوں کہ دہشت گردی بھی تو خطرناک پاگل پن ہی تو ہے چاہے کسی بھی نام پر ہو۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔