یوم اساتذہ اور ہماری ذمہ داریاں


1994ء سے دنیا بھر میں 5 اکتوبر یوم اساتذہ کے طور پرمنا یا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد اسا تذہ کی ملک و قوم کی ترقی اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لئے نمایاں خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔ عالمی یوم اساتذہ 2017ء کا عنوان ’’ آزادانہ ماحول میں تدریس اور اساتذہ کو با اختیار بنانا ہے ‘‘۔ اس سال عالمی یوم اساتذہ کی اہمیت اس وجہ سے بھی زیادہ ہے کہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کی اعلی تعلیم کے شعبہ میں اساتذہ کی حالت زار پہ سفارشات کو 20 سال مکمل ہور ہے ہیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہم اپنی پالیسیوں اور روزمرہ کی بات چیت میں پرائمری سیکنڈری تعلیم کے ساتھ ساتھ اعلی تعلیمی شعبہ میں بھی اساتذہ کے اہم کردار اور ان کی گراں قدر خدمات کو نظر انداز کرر ہے ہیں۔ ہمیں ان وجوہات کا بھی جائزہ لینا چاہیے کہ ہم آج تک معیاری تعلیم کیونکر فراہم نہیں کر پار ہے اور اس سلسلے میں جامعات کی خود مختاری اور یونیورسٹی اساتذہ کی پیشہ وارانہ تربیت اور ترقی کیوں ضروری ہے۔ 2014۔ 15کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں مستقل یونیورسٹی اساتذہ کی تعداد 37397 ہے جن میں سے 10214 یعنی 27 فیصد یونیورسٹی فکلیٹی پی ایچ ڈی ڈگری کی حامل ہے۔ پرائیوٹ سیکٹر میں اساتذہ کی تعداد 11034 جبکہ پبلک سیکٹر میں اساتذہ کی تعداد 25098 ہے۔

اعلی تعلیم کو فروغ دینے کے لئے 2002ء میں ممتاز ماہر تعلیم ڈاکٹر شمس لاٹھا کی سربراہی میں میرٹ پر مبنی تعیناتیوں، یونیورسٹی اساتذہ کو با اختیار بنانے، اساتذہ کی تمام اہم امور کی فیصلہ سازی میں شمولیت، کارکردگی کی بنا پر مراعات اور اساتذہ کی پیشہ وارانہ ترقی کے لئے سازگار ماحول کی فراہمی جیسی اہم سفارشات پیش کی گئیں لیکن 15 سال گزرنے کے باوجود یہ اہم سفارشات موثر عملدرآمد کی منتظر ہیں۔ کمیٹی نے اعلی تعلیمی شعبہ میں اصلا حات کو کامیاب کرنے کے لئے سکالرز کی اکیڈمی کے قیام اور سٹیک ہولڈرز کے دو موجودہ اداروں وائس چانسلرز کانفرنس اور یونیورسٹی اساتذہ کی نمائندہ تنظیم فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹی ایکڈ یمک سٹاف ایسوسی ایشن کے کردار کو مضبوط بنانے کی کلیدی سفارش بھی پیش کی تھی۔

اساتذہ قوموں کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اچھے افراد کی موجو دگی سے اچھا معاشرہ جنم لیتا ہے اور اچھے معاشرے سے ہی ایک بہترین قوم تیار کی جاسکتی ہے۔ یہ ایک استاد کا ہی وصف ہے کہ وہ مقدس فرض کی تکمیل کے ذریعے نوع بشر کے بہتر مستقبل کے لئے سعی کرتا ہے۔ جد ید تحقیقی علوم اور فنی سائنسی علوم کے ماہرین اور تاریخ کا دھارا بدلنے اور دنیائے افق پر تاریخ رقم کرنے والی شخصیات خواہ وہ کسی بھی طبقہ، رنگ، نسل سے تعلق رکھتے ہوں استاد کی فطری محبت اور روحانی تسکین اور رہنمائی کی محتاج نظر آتی ہیں۔ دیگر ممالک بھی یوم اساتذہ محبت، خلوص اور عقیدت سے مناتے ہیں اور اس عزم کی تائید کی جاتی ہے کہ آنے والی نسل کی پرورش کے لئے بھی اساتذہ کے کلیدی کردار کی ضرورت ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے خود معلم ہونے پر فخر کیا۔

ابن انشاء نے بیرون ممالک میں استاد کی تکریم پر یہ واقعہ کسی مقام پر قلمبند کیا تھا کہ مجھے ایک بار ٹوکیو کی ایک یونیورسٹی میں جانے کا اتفاق ہوا جہاں میری ملاقات اس یونیورسٹی کے ایک استاد سے ہوئی۔ ملاقات کے بعد وہ مجھے صحن تک الوداع کرنے آئے، میں نے دیکھا کے ہر گزرنے والا طالبعلم ہمارے عقب میں اچھل کر گزر رہا ہے ابن نشاء نے کہا کہ میں نے ٹوکیو یونیورسٹی کے اس استاد سے وجہ دریافت کی تو جواب ملا کہ ’’سورج کی روشنی کی وجہ سے ہمارا سایہ ہمارے پیچھے پڑا رہا ہے اور کوئی طالبعلم نہیں چاہتا کہ سایہ اس کے پاؤں تلے آئے لہذا یہ طلباء اچھل اچھل کر گزر رہے ہیں۔ ‘‘ یقینا ترقی، خوشحالی اور امن کے مراکز یہ ممالک اساتذہ کی عزت و تکریم کی ہی بدولت ہیں۔

اعلی تعلیم اداروں میں تشدد پسند رجحانات کا خاتمہ اور امن رواداری کے کلچر کافروغ اساتذہ کے تعاون اور شمولیت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ بد قسمتی سے ہمارے ملک میں اساتذہ کی اہمیت و احترام نہ ہونے کے برابر ہے۔ معماران قوم کی تنخواہیں بمشکل ان کی گھر یلو ضررویات پورا کرتی نظر آتی ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اپنی تمام عمر طلباء کی نشو ونما اور تربیت پر صرف کرنیوالا پروفیسر جب پنشن کے لئے سررکاری دفاتر کے چکر لگاتا ہے توبے حس معاشرے کی اصلیت سامنے آجاتی ہے۔ آئے روز اساتذہ اپنے حقوق کے لئے سڑکوں پر تو آتے ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوتی اور انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر گھر بھیج دیا جاتا ہے۔ اساتذہ کے حقوق کا تحفظ اور انہیں با اختیار بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ہم اس وقت تک پر امن اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد نہیں رکھ سکتے جب تک اساتذہ کی اہمیت و احترام کو اپنا شعار نہیں بنا لیتے۔

یونیورسٹی اساتذ ہ کو اس وقت تک با اختیار نہیں بنا یا جا سکتا جب تک ان کے اہم مسائل کا فوری حل ممکن نہیں ہوتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جامعات میں بیرونی مداخلت کا خاتمہ، فیصلہ سازی کے امور میں مو ثر شمولیت، اساتذہ کے مسائل کے حل کے لئے قومی اور صو بائی سطح پر خصوصی ٹا سک فور س، میرٹ پر مبنی تقرریاں، یونیورسٹی اساتذہ کے لئے ٹیکس کی ادائیگی میں خصوصی رعایت اور تدریسی مقاصد کے لئے ریٹائر منٹ کی مدت میں 65 سال تک کا اضافہ کرنے کے اہم مطالبات اور مسائل کا فوری حل دیا جائے اور ان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ تعلیم دوست اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دیا جاسکے۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

محمد مرتضی نور کی دیگر تحریریں
محمد مرتضی نور کی دیگر تحریریں