کیا مائی گارڈ نہ آنے کا اعلان کریں گے؟


ایک چینی کہاوت ہے کہ جب دشمن کو گھیرا ڈالو تو اس کے بھاگنے کے لیے ایک راستہ ضرور کھلا رکھو۔ ہو سکتا ہے اسی راستے سے پھر تمھیں بھاگنا پڑا۔ ہم جگاڑی قوم تو ہیں نہیں پکا کام کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ پکا کام کر بیٹھے ہیں سب نے ہی سب کو بڑا ٹھیک گھیر لیا ہے۔

ہمیں ہمارے بے وثوق نے آٹھ سال پہلے مینگنی مکس خوشخبری سنائی تھی کہ آئندہ فوج کبھی ٹیک اوور نہیں کرے گی۔ اس کا کہنا تھا تجربہ ناکام ہو گیا۔ سیاستدانوں کو اچھی طرح بزت کر کے نکالتے ہیں۔ یہ نکل جاتے ہیں پانچ چھ سال بعد پھر پہلے سے دگنے زور کے ساتھ واپس آ جاتے ہیں۔ اب زرداری گیلانی حکومت کو پہلے نکالیں پھر پکڑیں اندر ڈالیں یہ پھر ہیرو بنے پھر رہے ہوں گے تھوڑے وقت میں تو یہ پالیسی چھوڑ دی گئی ہے۔ بے وثوق نے کہا پیچھے بہہ کر حکومت کو رگڑنے کا سواد ہی الگ ہے پی پی حکومت کی ککھ کارکردگی نہیں ہے۔ ووٹر ان کا حشر نشر کر دے گا جو بعد میں ہو بھی گیا۔

پی پی کو پیچھے بیٹھ کر رگڑنے کی ایک سکیم کا حصہ تو نوازشریف بھی بن گئے تھے۔ وہ کالا کوٹ پہن کر میمو گیٹ کیس لڑنے سپریم کورٹ پہنچ گئے تھے۔ ان کے ایسا کرتے ہی پی پی حکومت اپنے انجن سے ساری گیس نکلوا کر ناکارہ ہو گئی تھی۔ پی پی حکومت کا حشر کرنے میں خواہ مخواہ کا حصہ ڈالنے کے باوجود یہی پی پی دھرنے کے دنوں میں نوازشریف حکومت بچانے کے لیے مددگار بنی۔ اس مدد کی تعریف کرنی بنتی ہے۔

دھرنا سپانسرڈ تھا۔ اب تو دھرنے پر پیسے لگانے والے بھی نوازشریف کو وضاحتیں دے کر معافیاں مانگ چکے۔ جلسہ جلوس بغیر سرمائے کے نہیں ہوتا۔ کوئی تو تھا جو سرمایہ فراہم کر رہا تھا کسی کے کہنے پر۔ ہمارے سیٹھ حاتم طائی کو ککیں مار رہے تھے پرائم ٹائم میں دھرنے کو مفت کی کوریج دے کر۔ حکومت بے بسی سے دیکھتی تھی کہ پنڈی سے افسروں کی گاڑیوں میں ان کی فیملیاں دھرنے میں نواں پاکستان بنانے آتے تھے۔ کپتان کی شان ہی اور تھی اسے کوئی کچھ بتاتا تھا وہ مائک پر سنا دیتا تھا۔

اسی بارے میں: ۔  غازی صاحب کا شہد کا چھتّا

بے خبر کا کہنا ہے کہ کپتان ایک عام سیاستدان سے زیادہ سمجھدار ہے۔ وہ با آواز بلند سوچتا ہے ہر خفیہ بات مائک پر بول کر عوام کے استفادے کے لیے محفوظ کر لیتا ہے۔ یاد کریں خبر پہلے آتی تھی کہ آج ریڈ زون پہنچیں گے کپتان قدم بعد میں اٹھاتا تھا۔ ٹی وی سٹیشن پر حملہ ہو گا پھر ہو بھی گیا۔ راحیل شرف ملاقات کے لیے بلائیں گے بلا بھی لیا۔ سابق چیف جسٹس اپنے آدمی ہیں وہ حکومت کا گھونٹ بھریں گے نہیں بھرا۔ اس کام میں سال لگ گیا خیر۔ رپوٹروں کو شاباش دینے کا بالکل دل نہیں کر رہا کپتان کو ویری گڈ دینا چاہیے۔ ویسے ہی خیال سا آیا ہے کہ پانامہ کیس میں چیف جسٹس کیوں نہیں بیٹھے سال پرانی خبریں، ہیں جی اچھا جی چھوڑو جی۔ کپتان کو ہم جو مرضی کہیں وہ اب ایک حقیقت ہے۔ اس کی ایک پبلک سپورٹ ہے۔ وہ اللہ کے فضل و کرم سے اب ان کے ہاتھ سے بھی نکل چکا جنہوں نے اسے بڑے جوش سے لانچ کیا تھا۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کپتان نے حکومت کو پوری طرح ٹھیک جگہ سے پکڑ رکھا۔ حکومت نے مائی گارڈ کو پکڑ نہیں رکھا تو ان سے متھا فل لگا رکھا۔ مائی لارڈ قانون کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ سب پوری طرح پھنس چکے ہیں۔ کسی نے کسی کے لیے بھاگنے کا چینی کہاوت والا راستہ نہیں چھوڑا۔ کسی کے پاس کوئی حل نہیں ہے کوئی نہ آگے جانے کے قابل ہے نہ پیچھے جا سکتا۔

فرض کریں کپتان نا اہل ہو جاتا ہے۔ کیا پاکستان میں وہ لوگ جو اس کے پیچھے ہیں، وہ اس فیصلے کو قبول کریں گے؟ تو جواب ہے بالکل بھی نہیں۔ سوشل میڈیا پر وہ اک کونے سے دوسرے کونے تک چیکیں مارتے پھریں گے۔ مائی لارڈ کرسی پر چپ چاپ کروٹیں بدلتے رہیں گے۔ کپتان بری ہو جاتا ہے تو پھر ہر طرف لالالا نون لیگی کرینگے۔ اس قوالی کی تان ہی الگ ہو گی وزیر داخلہ ابھی ابھی تو اپنے ماتحت ادارے رینجر کے ساتھ گھلتے پائے گئے تھے۔

اسی بارے میں: ۔  لالچ مستقل غلامی ہے !

کسی کے پاس کوئی پلان نہیں ہے۔ چلیں سیدھا نام لیتے ہیں فوج نہیں آ رہی۔ آ نہیں رہی تو جا بھی کہیں نہیں رہی۔ جاری صورتحال میں سب الجھ کر رہ گئے ہیں۔ نوازشریف کو نکالنے کی ساری سکیمیں فیل ہو گئی ہیں۔ کپتان پوری طرح موجود ہے۔ اگلا الیکشن جو بھی ہارے گا وہ گلی گلی روئے گا۔ امریکیوں کو اس وقت زور سے خطے کا امن یاد آیا ہوا ہے۔ ٹکے ٹکے کا سفارتی افسر سب سے پوچھتا پھر رہا کہ چیف صاحب کیا واقعی اتنا کنٹرول رکھتے ہیں جتنا مشہور ہے؟

حالت یہ ہے کہ کم از کم اگلے دس مہینوں تک کسی بڑے پراجیکٹ کے اعلان کا چینیوں کی طرف سے کوئی امکان نہیں۔ یو ایس ایڈ نے اپنی اسی فیصد فنڈنگ پر کٹ لگا دیا ہے۔ امدادی ادارے اجلاس کر کے صلاح مشورہ کر رہے ہیں کہ انارکی کی صورتحال میں انہیں کیا کرنا ہو گا۔ لوگوں کے اعصاب جواب دے رہے ہیں۔ ہر بندہ اپنی ذات میں رپوٹر کم سیاستدان کم جہادی کم سائنسدان بنا پھر رہا ہے۔ صورتحال کو غور سے دیکھا جائے تو سب نارمل ہے۔ ادارے عدالت حکومت سب موجود ہیں اپنا کام کر رہے ہیں۔ کنفیوژن ہے کہ ختم ہونے میں نہیں آ رہی کیسے ہو کہ اینکر حضرات روز افواہیں پھیلاتے ہیں۔

اس کنفیوژن کی قیمت ہم مالی نقصانات کی صورت میں ادا کر رہے ہیں سٹاک ایکسچینج گر رہی ہے۔ سب کچھ اک دم سے سیدھا لائین پر آ جائے اگر اک چھوٹی سی وضاحت آ جائے۔ مائی گارڈ وضاحت تو کر دیں کہ ہم جمہوریت کے ساتھ ہیں، سسٹم چلے گا۔ کنفیوژن دور ہو گئی تو سب سیدھے ہو جائیں گے۔ رہ گئے سیاستدان تو ان کا علاج ووٹر ستھرا کر دے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 260 posts and counting.See all posts by wisi