اندلس کے ظالم پادری اور شکست خوردہ مظلوم مسلمان


جب اندلس میں انتہا پسند صلیبی جنگ کے نتیجے میں مسلمانوں کو شکست ہوئی تو ادھر چرچ بہت زیادہ طاقتور ہو گیا۔ سب سے پہلے تو مسلمانوں اور یہودیوں کو یہ حکم دیا گیا کہ سپین میں رہنا ہے تو مسیحیت قبول کرو، ورنہ ملک چھوڑ دو۔ بہت سے مسلمانوں اور یہودیوں نے اپنے اپنے مذہب کی محبت میں اپنے پرکھوں کی دھرتی چھوڑ دی لیکن دھرتی سے محبت کرنے والے مسیحی بن کر ادھر ہی آباد ہو گئے۔

اگر کوئی یہودی، عرب یا بربر نسل والا اپنے وطن کی محبت کو اپنے مذہب پر ترجیح دیتے ہوئے مسیحی ہو جاتا تھا تو اس کا ہرگز بھی یہ مطلب نہیں تھا کہ اس کی یا اس کی اگلی چار چھے نسلوں کی بات پر اعتبار کر لیا گیا ہے۔ ان کا ایمان کسی بھی وقت پرکھا جا سکتا تھا۔ اندلس میں پادری کسی بھی ایسے نسلی مسلمان یا یہودی کو پکڑ کر اس سے قسمیں وعدے لیتے تھے کہ وہ پکا مسیحی ہے جو قسمیں کھا کر حلفیہ مسیحیت قبول کر چکا ہے اور صدق دل سے اس پر ایمان رکھتا ہے۔ یوں ایک اقلیت مسلسل شبہات کی زد میں رہتی تھی۔

پادریوں کو شبہ ہوتا تھا کہ کوئی ایسا شخص مکر کر رہا ہے اور اس کا ایمان پکا نہیں ہے تو وہ جدید سائنسی طریقہ کار اور آلات کے استعمال سے اس کا ایمان ویسے ہی چیک کرتے تھے جیسے آج کل ڈاکٹر تھرمامیٹر سے بخار چیک کرتے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے پادریوں نے جدید عصری علوم کا استعمال کرتے ہوئے طرح طرح کی جدید مشینیں بنوا لی تھیں۔ کسی میں مشکوک ایمان والوں کو ایسے جکڑ کر کھینچا جاتا تھا کہ اب کے جسم کے سارے جوڑ نکل جاتے تھے تو کئی ایسی کیل دار مشینیں تھیں جن میں مشکوک افراد کو سینڈوچ کی طرح بھر کر بند کر دیا جاتا تھا اور کیلیں جسم کے آر پار ہو جاتی تھیں۔

چرچ کے سارے حلقے کے افراد سے پکا قول قرار تو ہر اتوار کو لیا ہی جاتا تھا تاکہ پتہ چلتا رہے کہ یسوع مسیح اور چرچ سے وہ کتنی محبت کرتے ہیں۔ بعض روایات کے مطابق اس محبت کو ماپنے کے لئے نذرانے میں وصول کیے جانے والے سونے کے سکے گنے جاتے تھے یا پھر یہ دیکھا جاتا تھا کہ ایسے لوگ کتنی محبت سے پادری کے حکم پر دوسرے شہریوں کا ایمان مشین پر جانچتے ہیں۔

ادھر خواتین کا معاملہ بھی اہم تھا۔ اگر کسی نیک شخص کو یہ لگتا تھا کہ کوئی حسینہ بداخلاقی پر اتری ہوئی ہے اور اسے ہاں کہنے پر راضی نہیں ہے تو وہ پادری صاحب کی موجودگی میں اس کافر صنم کی شان میں چند کلمات کہہ ڈالتا تھا۔ اس کے بعد پادری صاحب خود اس سے نمٹ لیتے تھے کہ یہ کافر جادوگرنی رپورٹ ہوئی ہے۔ اسے کرسی سے باندھ کر پانی میں ڈبویا جاتا تھا۔ اگر وہ ڈوب کر مر جاتی تو اسے باعزت بری کر دیا جاتا تھا اور بچ جاتی تو جادوگرنی قرار دے کر زندہ جلا دیا جاتا تھا۔

بہرحال ادھر اندلس میں مسلمانوں کے شکست کھانے کے بعد اقلیتوں اور خواتین کے لئے حالات نہایت خراب تھے۔ اقلیتی نسلوں کو بار بار حلف دینا پڑتا تھا کہ وہ خدا اور سلطنت کے وفادار ہیں۔
خدا کا شکر ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ایمان پر شبہ کر کے انہیں ٹکٹکی پر نہیں چڑھایا جاتا۔ اقلیتی شہریوں سے ان کے دین مذہب کے بارے میں ہم ایسے حلف نہیں لیتے ہیں۔ اکثریت سے لیتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 696 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar