ہماری چوکس پولیس اور پاکستان کا خوار مستقبل


مَیں پنجاب یونیورسٹی کے گیٹ نمبر 2 پر کھڑی تھی۔ پوائنٹ مس ہو گیا تھا اور مَیں سٹی بس کا انتظار کر رہی تھی۔ میرے ساتھ مختلف شعبہ ہائے تعلیم سے تعلق رکھنے والے طالب علم بھی اپنی اپنی مطلوبہ بس کے انتظار میں تھے۔ ایک طرف خاکروب مٹی و دھول کے بادل اُڑانے میں مصروف تھے۔ مَیں نے پہلے کبھی خاکروبوں کو اِتنی عجلت میں کام کرتے نہیں دیکھا تھا۔ بس کا انتظار کرتے کرتے بیس منٹ گزر چکے تھے۔ گرمی کی وجہ سے کھڑا ہونا مشکل ہو رہا تھا، لیکن ٹریفک تھی کہ لمحہ بہ لمحہ کم ہوتی جا رہی تھی۔ اچانک کہیں سے دس بارہ ٹریفک وارڈن وارد ہوئے اور جو اِکا دُکا گاڑیاں آ رہی تھیں اُن کو بھی روک دیا گیا۔

یونیورسٹی کے بیرونی جنگلے کے باہر چند ٹھیلے والے بھی کھڑے ہوتے ہیں جو کھانے پینے کی مختلف چیزیں بیچتے ہیں۔ اِن ٹھیلے والوں پر مجھے بہت پیار آتا ہے جو گرمی سردی اور دھوپ چھاؤں کی پرواہ کیے بغیر رزقِ حلال کماتے ہیں۔ ایک پولیس والے نے آتے ہی ایک ٹھیلے والے کو جو لیموں پانی بیچ رہا تھا، ڈانٹنا شروع کر دیا۔ ٹھیلے والے نے جلدی کی اور جنوب کی جانب چل دیا۔ ٹریفک وارڈن کے ساتھ ساتھ پولیس کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ اُن دنوں پنجاب یونیورسٹی کو دہشت گردوں کی ایک تنظیم کی طرف سے دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں۔ مَیں پولیس کو دیکھ کر فخر محسوس کر رہی تھی کہ اِن کو ملک کے مستقبل (طالب علموں کی) کی کتنی فکر ہے۔ مَیں نے اپنے پاس کھڑی لڑکی سے کہا کہ ’’ضرور کہیں دھماکا ہوا ہے یا پھر مخبری ہوئی ہے‘‘۔

گرمی میں کھڑا ہونا جب مزید مشکل ہوا تو دو منٹ کی پیدل مسافت طے کر کے مَیں شیخ زید ہسپتال کے سٹاپ پر آ گئی کیونکہ یہاں سائے میں کھڑی ہو سکتی تھی۔ اب مَیں واقعی پریشان ہو گی کیونکہ ٹریفک کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ پھر مَیں نے سوچا چلو یہ ایک انوکھا تجربہ ہو گا۔ گھر جا کر بتاؤں گی کہ ہماری پولیس کتنی چوکس ہے۔ پاس کھڑے لڑکے سے پوچھا کہ مسٔلہ کیا ہے۔ وہ بتانے ہی لگا تھا کہ اچانک پولیس کی گاڑیاں ہارن بجاتے ہوئے گزریں۔ اُن کے پیچھے چند اعلیٰ نسل کی کالی گاڑیاں بھی تھیں۔ چند منٹوں کے بعد ٹریفک چلنے لگی۔ پولیس اور ٹریفک وارڈن نظروں سے اُجھل ہو گئے۔ جنوب سے ٹھیلے والا بھی واپس آ رہا تھا۔ گیٹ نمبر 2 اور شیخ زید بس سٹاپ پر ٹریفک رکی رہنے کی وجہ سے مسافروں کا اچھا خاصا رش ہو گیا تھا۔ سٹی بس اور ویگن گیٹ نمبر 2 سے سواری اُٹھاتیں اور شیخ زید بس سٹاپ پر رکے بغیر ہی چل دیتے۔

میری مطلوبہ بس میں پائیدان پر پاؤں رکھنے کی بھی جگہ نہیں تھی۔ مَیں نے پیچھے دو اَور بسوں کو دیکھ لیا تھا اِس لئے پہلی اور دوسری میں سوار ہونے کی کوشش نہ کی۔ تیسری بس میں کھڑے ہونے کی مناسب جگہ مل گئی اور بس میں سوار ہونے سے پہلے ٹریفک بلاک ہونے کی وجہ بھی معلوم ہو گئی۔ صدرِ پاکستان کا گزر تھا اور اُن کے لئے سڑک پر سے تمام بد صورتی کو ختم کر دیا گیا تھا، تاکہ اُن کی نظر غریب ٹھیلے والوں اور خستہ حال بسوں پر نہ پڑے جن پر اُن کی رعایا سفر کرتی ہے، جن کے ووٹ سے وہ منتخب ہوتے ہیں، جن کے ٹیکسوں سے اُن کی تنخواہ بنتی ہے اور جب یہ حکومت میں آ جاتے ہیں تو سیکیورٹی کے نام پر یہ چونچلے دِکھاتے ہیں۔ مَیں نے سوچا کہ پاکستان کا حال کس شان سے جا رہا تھا اور مستقبل سڑک کنارے خوار ہو رہا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔