رضا ربانی کی ’’گلی دستور‘‘- نسل نو کے لئے سبق


’’جمہوریت بہترین انتقام ہے ‘‘ کا جملہ آمریت کے تابوت میں وہ کیل ہے جسے نکالنا قدرے نا ممکن، مشکل ہے۔ پیپلز پارٹی کا نام سنتے ہیں آمریت کے خلاف جدوجہد ذہن میں آجاتی ہے۔ یہاں یہ تو کہا جاتا ہے کہ پاکستان پر آمریت کے سائے زیادہ عرصہ رہے اور جمہوریت کو پنپنے نہ دیا گیا۔ یہاں یہ راگ تو الاپا جاتا رہا کہ کسی وزیراعظم کو پانچ سال پورے نہیں کرنے دیے گئے۔ یہاں بوٹوں کی آواز آرہی ہے کی سرگوشیاں نعروں میں بدلتی رہیں، جمہوریت نوازی اور جمہوری چیمپئن ہونے کے دعوے تو ہوتے رہے مگر آمریت کیخلاف سیاہ شبکے مظالم کیخلاف دِن دیہاڑے کوڑے کھانے، تختہ دار پر لٹکا دیے جانے کے دلخراش واقعات رونما ہوئے مگر ’’جمہوریت‘‘ بارے ایک باب نصاب کا حصہ نہ بن سکا۔

بھلا ہو میاں رضاربانی کا جس نے اِس جدوجہد کو اپنے زورِ بازو سے ایک گلی میں سجا کر وہ کارنامہ انجام دے دیا جو کسی اور کے نصیب میں لکھا ہی نہ تھا۔ ’’گلی دستور‘‘ بھی ان نادیدہ قوتوں کو ایک آنکھ نہیں بھا رہی۔ پارلیمنٹ کے اندر آمریت کیخلاف جدوجہد کی مختلف شکلوں اور آمریت کے بھیانک چہرے کو پتھروں، دیواروں، کاغذی فریموں، تصویری ثبوتوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یادگار بنا دینا پیپلزپارٹی کے اِس جیالے کی کاوش ہے۔ پارلیمنٹ کے گیٹ کے باہر جس کے سر سے بہتا خون راقم نے خود دیکھا تھا۔ اُس وقت بھی یہ درویش ’’جمہوریت‘‘ ’’جمہوریت‘‘ کی صدائیں لگا رہا تھا۔ آج بھی یہ آمریت کو للکارنے میں دیر نہیں کرتا۔

سینٹ کو رضا ربانی کی صورت میں توانا آواز مفاہمتی سیاست کے امین اور صبر و تحمل کی انوکھی مثال جناب آصف علی زرداری نے دی۔ رضاربانی نے ہمیشہ حق کی آواز بلند کی۔ وہ سچائی کے علمبردار ہیں وہ حق کا پرچم تھامے ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ ریاستی جبر اور آمرانہ مظالم کے خلاف انسانی جدوجہد تاریخ رقم کرتی ہے اور یہ تاریخ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں صرف پیپلز پارٹی نے رقم کی ہے۔ ایمرجنسی، سنسرشپ، ایبڈو، پی سی او کی شکل میں جمہوریت کا گلہ گھونٹا جاتا رہا۔ آزادی اظہار ِ رائے پر پابندی لگائی جاتی رہی۔ نسلِ نو کو اِن تمام کاوشوں، جدوجہد، مظالم سے روشناس کرانا بھی جمہوریت پسندی ہے۔ بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے حصے میں سیاہ صفحات زیادہ آئے ہیں۔ 70 برسوں کی تاریخ میں پاکستانی عوام نے تین بار براہِ راست اور ایک بار بالواسطہ فوجی حکومت کی بندوق کی ٹھنڈی نالی اپنی گردن پر محسوس کی ہے۔

آمریت کیخلاف ہر دور میں باہر نکلنا ’’جیالوں‘‘ کا مقدر ٹھہرا۔ اعتزاز احسن کی نظمیں گونجیں تو لوگ باہر نکلے، جون ایلیاء نے لکھا تو تہلکہ مچا، فیض نے لب ہلائے تو قید میں ڈال دیا گیا۔ جالب کوہمیشہ سے زہر عتاب رکھا گیا۔ آمریت نے ’’وظیفہ‘‘ لگا کر زبانیں گنگ کرنے کی کوشش کی مگر بے سود۔ لکھنے والے آج بھی لکھ رہے ہیں اور وظیفہ لینے والے اسی قطار میں کھڑے ہیں۔ بھارتی صحافی راجیش جوشی گلی دستور کا مشاہدہ کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ پاکستان نے اپنی تاریخ کے سیاہ صفحات کو موڑ کر خفیہ تہہ خانوں میں گُم نہیں ہونے دیا بلکہ دارالحکومت اسلام آباد میں ایوان پارلیمان کے باہر اور اندر اِن یادوں کو پتھروں اور دیواروں پر کندہ کردیا ہے تاکہ آنے والی نسلیں یاد رکھیں کہ ان کے ملک پر کب کیسا وقت گزرا۔

تصاویر کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ کس طرح اِس ملک میں ہر دور میں شہری حقوق، بولنے کی آزادی اور جمہوری اقدار پر حملے ہوتے رہے اور کس طرح عام لوگوں نے، وکلاء، طلباء، مزدوروں، کسانوں اور شاعروں نے اپنی آواز کو جمہوریت کے حق اور آمریت کیخلاف اُٹھایا۔ ’’گلی دستور‘‘ میں 70 برسوں میں جمہوریت کو بچانے کی جدوجہد کی اندوہناک کہانی بیان کی گئی ہے۔ فوج کی بالادستی کی باتیں ہر دور میں سنی جاتی ہیں۔ اب بھی یہ ڈھکی چھپی بات نہیں رہی اور اِس صورتحال میں پارلیمنٹ کے اندر فن کے ذریعہ جمہوریت کی لڑائی کی تاریخ درج کرنا کوئی معمولی بات نہیں۔

معروف صحافی، کالم نگار نواز رضا کے مطابق میاں رضاربانی نے گلی دستور قائم کرکے پارلیمنٹ کو جمہوریت کا مورچہ بنا دیا ہے۔ گلی دستور نسل نو کو آگہی میں مدد دے دی گئی۔ جمہوریت اور آمریت کے تقابلی جائزہ میں بہت کچھ سامنے آئے گا۔ گلی دستور کے سامنے نسٹ کے طلباء کی جانب سے آرائش کردہ لائبریری بھی قائم کی گئی ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کی پہلی منزل پر قائم ’’گلی دستور‘‘ اب عام سی گلی نہیں رہی بلکہ اب یہ تاریخ پاکستان کے بہت اہم لیکن نظر انداز کیے گئے پہلو کی عکاس ہے۔ یہ موضوعاتی لحاظ سے دستور پاکستان کی تاریخ کو مرتب اور نمایا ں کرنے کا بہت بڑا قدم ہے۔ ’’گلی دستور‘‘ کے پانچ ادوار اپنے اندر پوری تاریخ سموئے ہوئے ہیں۔

میں جمہوریت پسند، فلسفہ بھٹو کا شیدائی ہونے کے ناطے این سی اے کی بارہ رُکنی ٹیم، سی ڈی اے کے پانچ ملازمین، بیس مزدوروں Synergy Dentsu کے چار ورکروں اور سینٹ سیکرٹریٹ کے پانچ افسران کے علاوہ چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی، سیکرٹری سینٹ امجد پرویز ملک کو اِس تاریخی کاوش پر مبارک دیتا ہوں۔ ’’گلی دستور‘‘ میں سجی اخبار کی سرخیاں بتاتی ہیں کہ کس طرح ننگی پیٹھ پر کوڑے برسائے گئے، کس طرح آئین کو پامال کیا گیا، کیسے کیسے طریقوں سے شب خون مارا گیا اور کون کو ن نظریہ ضرورت لانے میں پیش پیش رہا۔ کس کس نے مفاداتی پاسداری کا حلف لیا اور کون کون مہرہ بنا۔

وال پینٹنگ بتاتی ہیں کہ سر اُٹھاکے جینے کی سزا کس طرح دی گئی، آزادی اظہار پر کیا کیا ستم ڈھائے گئے۔ آزادی اور جمہوریت کے گیت گانے والوں کو کس طرح تنگ کیا جاتا رہا۔ رضاربانی نے اِن حریت پسندوں، آزادی کے متوالوں، جمہوریت کے حامیوں کے پورٹریٹ نصب کر کے عزت بخشی ہے۔ خدا کرے کہ میاں رضاربانی کی روشن کردہ مشعل کبھی نہ بجھ سکے۔ میرے ’’عزیز ہموطنو ‘‘کا جملہ پھر کبھی نہ سننے کو ملے، پارلیمنٹ بالادست رہے اور تمام ادارے وطن عزیز کی ترقی و خوشحالی کے لئے کردار ادا کریں نہ کہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وقار فانی کی دیگر تحریریں
وقار فانی کی دیگر تحریریں