خبردار! آگے افغانستان ہے


یہ بات دماغ سے نکال دی جائے کہ امریکہ مستقبل قریب میں افغانستان سے نکل جائے گا۔ چند سال پہلے تک اسی نوع کے کچھ آپشنززیر غور تھے بھی تو اب وہ مکمل طور پر مسترد کیے جا چکے ہیں۔ خطے میں تیزی کے ساتھ بدلتے ہوئے حالات، اقتصادی سپرپاور بننے کی راہ پر سرپٹ دوڑتا چین، وسط ایشیائی ریاستیں، پاکستان اور بھارت جہاں جہاں جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس امر کا متقاضی ہے کہ عالمی تھانیدار اپنے رعب و دبدبے اور مفادات کے تحفظ کیلئے اپنے قدم جمائے رکھے۔ افغانستان میں ایک ہزار ارب ڈالر سے زائد کی معدنیات جس میں انتہائی کارآمد لیتھیم بھی شامل ہے جوامریکیوں کی آنکھیں چکا چوند کیے ہوئے ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ اس لڑائی میں اڑھائی ہزار سے زائد امریکی فوجیوں کے مارے جانے اور اپنی معیشت کو کم و بیش ایک ہزار ارب ڈالر کا نقصان پہنچنے کے باوجود لالچ اور طاقت کے زعم میں کوئی خاص کمی نہیں آئی۔ بہتر آپشن تو یہی تھا کہ عالمی رائے عامہ کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے اس وار تھیٹر کو بند کر دیا جاتا کیونکہ اس طویل جنگ نے جہاں یورپ اور بحرالکاہل کی طاقتوں کو تھکن سے دو چار کر دیا ہے وہیں نیٹو کا عزم بھی متزلزل ہورہا ہے۔ صدر ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کا سب سے نمایاں پہلو یہی ہے کہ اب امریکہ کو افغانستان کے اندر لڑنے کیلئے کسی اور ملک کی فوج درکار ہے۔ بھارت کو افغانستان میں بڑا رول دینے کی آفر جہاں امریکہ کی سٹرٹیجک ضرورت ہے وہیں اس کے ذریعے بھارت کو لبھا کر فوج کے لڑاکا دستے افغانستان بھجوانے کی ترغیب دی جارہی ہے ۔ ابھی چند روز قبل امریکی وزیر دفاع جنرل (ر) جیمز میٹس اسی خواہش کا اظہار کرنے نئی دلی پہنچے۔ بھارتی حکام نے بغیر کسی طویل صلاح ومشورے کے فوری طور پر صاف جواب دے دیا۔ اس سے قبل یہ درست خبریں ایک منصوبے کے تحت عالمی میڈیا کی زینت بنائی گئیں کہ بھارت چونکہ پاکستان کے اندر تخریب کاری کروا رہا ہے اور نہ صرف بلوچ علیحدگی پسندوں بلکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی بھی ہر طرح سے معاونت کررہا ہے۔ اس لیے امریکی وزیر دفاع اس معاملے کو بھارتی حکام کے سامنے اٹھائیں گے۔ ان خبروں کے سامنے آنے کے بعد تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ یہ محض بھارت پر دباﺅ ڈال کر کوئی مطالبہ منوانے کی کوشش ہے۔ ایسا ہی ہوا جنرل(ر) جیمز میٹس نے بھارتی حکام سے اس مسئلے پر کوئی بات کی بھی تو اس کے حوالے سے کوئی سرکاری یا غیر سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔ ہو سکتا ہے سرے سے ذکر ہی نہ کیا گیا ہو۔ ہاں مگر اس کا مدعا بھارتی فوج افغانستان بھجوانے کا تھا جسے گھاگ بھارتی قیادت نے فی الفور مسترد کر ڈالا۔

طویل عرصے سے افغانستان میں ترقیاتی کاموں کے ساتھ ساتھ پاکستان مخالف دہشتگردوں کو سپورٹ فراہم کرنے کے باوجود بھارتی حکام کو بخوبی علم ہے کہ اس کے لڑاکا دستے اس جنگ میں شریک ہوئے تو دلدل سے نکلنا قریب قریب ناممکن ہو جائے گا۔ پر پیچ گھاٹیوں، پہاڑوں اور جنگلوں پر مشتمل اس انتہائی مشکل خطے کو روس اور امریکہ سر نہ کر سکے تو بھارتی افواج کی پیشہ ورانہ اہلیت اور اوقات ہی کیا ہے؟ سو بھارت کو رام کرنے کی امریکی کوشش بھی ناکامی سے دو چار ہو گئی تو پھر آگے کیا راستہ ہے؟ سارا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی انوکھی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔ اگرچہ یہ نیا مطالبہ نہیں مگر اب ایک بار پھر سے اس میں شدت آگئی ہے کہ پاکستان اپنی فوج کو افغانستان کے اندر لڑانے کیلئے بھجوائے۔ امریکہ کا منصوبہ یہی ہے کہ وہاں وہ اور اس کے اتحادی اپنے اپنے چار چار ہزار فوجی افغانستان میں رکھ کر براہ راست لڑائی سے گریز کرتے ہوئے دوسروں کو استعمال کریں۔ اس حوالے سے تمام تر وسائل کی فراہمی اور تربیت کے باوجود افغان فورسز کی حالت بہت پتلی ہے۔ افغانستان میں امریکہ اپنے فوجیوں کی مختصر تعداد علامتی حیثیت میں رکھتے ہوئے بھرپور فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری(سی پیک) کے معاملے پر امریکی تشویش کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ادھر بھارتی ہیں کہ انگاروں پر لوٹ رہے ہیں۔ اس کے باوجود ان کے پاس کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں۔ ایک طرف تو امریکہ کسی طور کابل حکومت پر طالبان کا کنٹرول نہیں چاہتا تو دوسری جانب داعش زور پکڑنا شروع ہو گئی ہے۔ تیسری پیش رفت یہ ہے کہ شمالی افغانستان میں جنگجو سردار بھی تیزی سے مستحکم ہورہے ہیں۔ یہ تاثر بھی موجود ہے کہ اپنا پرانا ادھار چکانے کیلئے روس خصوصاً طالبان کو ہر طرح کی امداد دے رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنی بڑی اور طویل فوجی کارروائی کے بعد بھی آج افغانستان کے تقریباً نصف حصے پر طالبان قابض ہیں اور جہاں ان کا قبضہ نہیں مثلاً کابل وغیرہ ،تو وہ بھی ان کی کارروائیوں کی دسترس سے باہر نہیں۔ اس صورت حال پر اگر یہ تبصرہ کیا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ امریکہ ایک ایسی پیچیدگی کی جانب بڑھ رہا ہے جس کو سلجھانا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مشکل تر ہوتا جائے۔ پاکستان پر دباﺅ بڑھانا بے سود ہے۔ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ جب امریکہ اور اس کے اتحادی خود افغان سرزمین پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں کر سکے اور کوئی کیا کرے گا؟

یہ بات بھی پوری دنیا کے سامنے کھلی حقیقت کی طرح ہے کہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کرنے والوں کو تمام تر سپورٹ مغربی سرحدوں سے مل رہی ہے۔ ابھی پچھلے دنوں ایک شرمناک اور ڈھٹائی آمیز آفر میں افغان حکام نے حکومت پاکستان سے کہا تھا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن ان کے حوالے کر دیا جائے تو بدلے میں سانحہ اے پی ایس پشاور کا ماسٹر مائنڈ پاکستانی حکام کی تحویل میں دے دیا جائے گا۔ یہ اس بات کا کھلا اعتراف ہے کہ پاکستان کے اندر گھناﺅنی وارداتوں میں ملوث عناصر کو پناہ دینے والے کون ہیں؟ پاک فوج نے کئی قربانیاں دے کر قبائلی سرحدی علاقوں کو پاک کیا مگر سرحد پار موجود امن دشمن کسی طور باز نہیں آرہے۔ راجگال میں ریگولر فوجی ٹروپس پر حملے کر کے لڑائی کو بھڑکانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس پورے تناظر میں اگر پاکستانی حکام یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اب ڈومور امریکہ کو کرنا ہو گا تو یہ بات سوفیصد جائز ہے۔ پاک فوج کی اعلیٰ قیادت نے بردباری اور صبرو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسئلے کا حل نکالنے کی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آئی ایس آئی کے سربراہ اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ کابل جا کر افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی اور یہ طے پایا کہ دونوں ملک مل کر ایک ایسا میکانزم وضع کریں کہ جس کے ذریعے عملی شراکت داری سے اپنے اپنے علاقوں میں ٹھوس کارروائیاں کی جا سکیں۔ یہ پیش رفت تو بہت اچھی ہے مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ افغان صدر اشرف غنی امریکہ کی کٹھ پتلی کے طور پر صدارتی محل میں براجمان ہیں مگر اپنے ہی چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے کئی معاملات پر شدید اختلافات ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ لڑاﺅ اور حکومت کرو کی پالیسی کے تحت امریکی ہی اس معاملے کو ہوا دے رہے ہوں۔ ایک اور اہم بات ملک میں پوست کی کاشت میں اضافہ ہے۔ اس سے کون فائدہ اٹھارہا ہے۔ اس کے بارے میں جتنی تحقیق کی جائے اتنی ہی دلچسپ باتیں سامنے آتی جائیں گی۔ افغانستان میں نہ ختم ہونے والی لڑائی اور خطے میں بڑھتی ہوئی امریکی دلچسپی کے باعث سب سے زیادہ مسائل پاکستان کیلئے پیداہورہے ہیں۔

حکومت پاکستان اور مسلح افواج نے اپنے وسائل اور بساط سے بڑھ کر کارروائیاں کی ہیں مگر امریکی پھر بھی ڈومور کی رٹ لگائے ہوئے ہیں۔ دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ پاکستان کے شہروں میں موجود دہشتگردوں کے مبینہ ٹھکانوں پر حملے کیے جا سکتے ہیں۔ عملی طور پر پاکستان کو گھیراﺅ میں لینے کیلئے مغربی سرحدوں سے ٹی ٹی پی اور داعش کے عناصر کو متحرک کر کے دہشت گردی کرائی جارہی ہے۔ یہ محسوس ہورہا ہے کہ بھارت کو بھی اشارہ کیاگیا ہے کہ ورکنگ باﺅنڈری اور کنٹرول لائن کو مسلسل گرم رکھے۔ ایٹمی طاقت کے حامل پاکستان کو اس نوع کی لڑائی میں الجھانے کے مضمرات کو نظر انداز کرنا بے حد خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اب تو خود امریکی تھنک ٹینک اپنی حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ افغان مسئلے کا پرامن حل نکالنے کیلئے طالبان کو دشمن کے بجائے پارٹنر کی نظر سے دیکھنا ہو گا، فوجی حل ممکن نہیں۔ مذاکرات کی میز پر آنے کا سوچا جائے۔ قبائلی عمائدین کو بھی اس تمام عمل کا حصہ بنایا جائے۔ بار بار ڈائیلاگ کی بات کہہ کر مکرنیوں کا ریکارڈ قائم کرنے والے امریکی اور افغان حکام کے باعث مذاکرات کی حکمت عملی کا اعتبار اٹھتا جارہا ہے۔ پاکستان سے مطالبہ تو کیا جاتا ہے کہ وہ اس حوالے سے کوئی کردار ادا کرے۔ جب کردار ادا کرنے کی کوشش کی جائے تو گڑ بڑ کرا کے سارا معاملہ چوپٹ کر دیا جاتا ہے۔ اس تمام صورت حال کے باعث اب افغان طالبان پاکستانی حکام کی باتوں کو بھی سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ زیادہ واضح بات تو یہ ہے کہ افغان طالبان کی پاکستانی حکام سے ناراضگی بڑھتی جارہی ہے۔ ابھی دو روز قبل کور کمانڈروں کی 7 گھنٹے طویل کانفرنس سے اس امر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صورت حال کس حد تک گمبھیر ہو چکی ہے۔ امریکہ کے سکہ بند پٹھو سابق افغان صدر حامد کرزئی بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ خطے میں نئی امریکی پالیسی لڑائی اور خون ریزی کی نئی لہر لائے گی۔

افغانستان کے حوالے سے امریکی پالیسیوں میں تبدیلی نہ آئی تو ناکامی اس کا مقدر بن جائے گی۔ پاکستان پر ایک حد سے زیادہ دباﺅ ڈالنے کی کوشش کس حد تک خطرناک ہو سکتی ہے شاید اس کا درست ادراک نہیں کیا جارہا ہے۔ امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے روبرو چیئرمین جوائنٹ آف چیفس سٹاف نے آئی ایس آئی پر دہشتگردی کی معاونت کے حوالے سے الزامات عائد کر کے صورت حال کو مزید سنگین بنا دیا ہے ۔امریکہ جس طرح افغانستان میں غلط منصوبہ بندی کے باعث برسوں سے الجھا ہوا ہے بالکل اسی طرح پاکستان کے بارے میں احمقانہ پالیسیاں بنا کر اپنی ہی راہ کھوٹی کرے گا۔یہ الگ بات ہے کہ برکس اعلامیہ کے بعد ہمارے پاس زیادہ گنجائش باقی نہیں رہ گئی ۔لیکن یہ بھی طے ہے کہ امریکہ نے جلد سے جلد ہوش کے ناخن لیتے ہوئے اپنی پالیسی تبدیل نہ کی تو افغانستان کی دلدل میں مزید دھنستا چلا جائے گا۔پاکستان کو نشانہ بنانے کے مذموم ارادے رکھنے والے دشمن ممالک کو جان لینا چاہیے کہ پاکستان ،افغانستان نہیں ۔لیکن یہ معاملہ بھی کسی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ امریکہ بیک وقت افغانستان کے ساتھ ساتھ بھارت سے متعلق معاملات پر بھی پاکستان پر دباﺅ بڑھانے کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔اس تمام صورت حال کا مقابلہ کرنے کیلئے پاکستان کے پاس سب سے بڑا ہتھیار اندرونی سیاسی استحکام ہے۔نہایت ادب سے گزارش ہے کہ تمام سٹیک ہولڈر ایک بار پھر سے اپنے طرز عمل کا خود ہی جائزہ لے لیں۔امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کی تازہ ترین دھمکی کہ پاکستان کے خلاف کارروائی سے پہلے اسے آخری موقع ضرور دیں گے نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ بعض حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جارہا ہے کہ امریکہ پاکستان میں غیر جمہوری قوتوں کو شہ دے رہا ہے اگر وہ امریکی شرائط پر من و عن عمل کرنے کیلئے تیار ہیں تو اقتدار براہ راست اپنے ہاتھ میں بھی لے سکتے ہیں، عالمی برادری اعتراض نہیں کرے گی۔اگر واقعی ایسا ہے تو اس وقت اس سے زیادہ خطرناک چال کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔حرف آخر کچھ بھی کرنے سے پہلے یہ ذہن میں رکھا جائے ….”خبردار!آگے افغانستان ہے“۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔