ایک اشتہار اور قائد اعظم کے جلسے میں نعرے


zafar kakar

ایک بابا جی نیلسن منڈیلا ہوا کرتے تھے اور ایک بابا جی ڈبر خان تھے۔ بابا جی نیلسن منڈیلا سے تو ایک جہان واقف ہے کہ انہوں نے جنوبی افریقہ میں نسل پرست سفید فام حکمرانوں سے آزادی کی جدوجہد کے لیے اپنی عمر کے 27 سال جیل میں گزارے اور بالاخر جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہوئے۔ وہ نسل پرستی کے خلاف پوری دنیا کے لئے ایک علامت بن کر کھڑے ہوئے۔ بابا جی ڈبر خان کا اصل نام اصیل خان تھا۔ ڈبر خان مشہور ہونے کے پیچھے ایک پوری داستان ہے۔ اصیل خان پاکستان بننے سے پہلے کسی زمانے میں بمبئی سے آٹھ جماعت پاس تھے۔ پاکستان بننے کے کافی عرصہ بعد وطن لوٹے تھے۔ مشہور تھا کہ اصیل خان مدراس میں سود کا کاروبار کرتے تھے مگر بابا جی کے بقول ’خان ہم نے ساری زندگی بے پار (بیوپار) میں گزاری‘۔ چونکہ مدراس سے اچھے خاصے پیسے لے کر آئے تھے اس لئے وطن لوٹتے ساتھ ہی طاقت و عزت کے حصول کی خواہش جاگی۔ گاﺅں کے باہر آبائی زمین پر ایک پرشکوہ ڈیرہ بنایا۔ پینٹ پتلون چھوڑ کر سفید کاٹن کے گھیرے دار شلوار کے ساتھ بوسکی قمیض پہننے لگے۔ ایک ریشمی کلا پر کاغذی لنگی(پگڑی) باندھنا شروع کی۔ صبح سے شام تک اصیل خان اپنے حجرے کے باہر اخبار اور ریڈیو رکھ کر گاﺅں کے بوڑھوں کو سیاست کی گھتیاں سمجھاتے رہتے تھے۔ کم و بیش اٹھائیس سال اسی حجرے میں آٹھ جماعت اور بی بی سی اردو کے زور پر ملک (چوہدری) بننے کی جستجو کی۔ آس پڑوس میں کہیں آنا جانا نہیں تھا۔ کسی شادی غمی میں شرکت نہیں کرتے تھے۔ کوئی صاحب کسی شادی غمی میں شرکت نہ کرنے پر گلہ کرتے تو اصیل خان فرماتے، ’ ڈبرہ چی پرتہ وی نو درنہ وی‘۔ پتھر اپنی جگہ پر ہی بھاری ہوتا ہے۔ اس ضرب المثل کے طفیل اصیل خان ڈبر خان ہو گئے اور وقت کی رفتار نے جب بالوں کا رنگ بدلا تو اصیل خان بابا ڈبر خان کہلانے لگے۔

 پہلے مگر اصول کی کچھ باتیں کر لیں۔ یہ بات تو طے ہے کہ انسانوں کا رنگ، نسل اور ثقافت اختیاری نہیں ہوتے۔ طے یہ بھی ہے کہ ایک انسان کو دوسرے انسان پر رنگ ، نسل اور ثقافت کی بنیاد کوئی برتری حاصل نہیں ہے اور نہ ہی کوئی کسی سے کمتر ہے۔ اسی باب میں اگلے دن درویش نے لکھا تھا، ’ کسی قوم کی پایئدار تعمیر کے لئے ضروری ہے کہ زندگی کے ان زاویوں میں واضح تقسیم کی جائے جن پر مکالمہ ہو سکتا ہے اور وہ جن پر مکالمہ نہیں ہو سکتا۔ انسانوں کا عقیدہ ، رنگ ، نسل اور ثقافت دلیل سے تبدیل نہیں کیے جا سکتے۔ چنانچہ یہ مظاہر اجتماعی بحث مباحثے کا مناسب موضوع نہیں ہیں‘۔

 138617897795594071_nوطن عزیز کے بالائی گلیاروں میں شدت پسندی سے گلو خلاصی تانے بانے بنے جا رہے ہیں۔ یہ طے کیا جا رہا ہے کہ اب شدت پسندی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہشت گردی کے خلاف ملک کے ایک کونے میں سپاہ وطن دہشت گردوں سے بر سر پیکار ہیں۔ ایک شہری ہونے کے ناطے لازم ہے کہ اپنی سپاہ کی اس جنگ میں بھرپور حمایت کی جائے۔ ملک کے کسی کونے سے گاہے گاہے نئی سرحد بندی کی آواز بھی لگائی جاتی ہے۔ ایک محب وطن شہری کی حیثیت سے لازم ہے کہ کسی نئی سرحد بندی کی کسی ادنی درجے میں بھی حمایت نہ کی جائے اور حقوق کے حصول کے لئے سیاسی راستہ اپنایا جائے۔ دہشت گردوں کے خلاف ایک محاذ تو میدان جنگ کا ہے اور ایک محاذ عوام کی آگاہی کا ہے۔ آگاہی کے اسی مہم کے ضمن میں ایک نغمہ سرائی ہوئی کہ بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے۔ اسی مہم کی دوسری قسط میں دشمن کے بچوں کو پڑھانے کا عزم مصمم کیا گیا۔ اب اسی مہم کی تیسری قسط ایک اشتہار کی صورت میں سامنے آئی ہے جو فروری کے مہینے میں اس ملک کے چیدہ اخبارات کے پہلے صفحے پر شائع ہوئی۔ اسی اشتہار کی بازگشت پچھلے دنوں پاکستان کے ایوان بالا میںسنی گئی جب پی ٹی آئی کے اعظم سواتی اور جے یو آئی (ف) کے سینیٹر حمد اللہ نے اس اشتہار پر احتجاج کیا اور اس کو پشتون بلوچ ثقافت کر برخلاف قرار دیا۔ گو اس کے جواب میں پارلیمانی امور کے وزیر آفتاب شیخ نے کہا کہ حکومت کسی بھی قوم یا لسانی اکائی کے خلاف نہیں ہے اور نہ ہی کسی کی ثقافت کو مدنظر رکھ کر یہ اشتہار چھاپا گیا ہے۔

محترم وزیر کا حکومتی موقف اپنی جگہ درست ہو گا مگر اشتہار کو کچھ سوال البتہ درپیش ہیں۔ اشتہار کی ایک تصویر جس میں پاکستان کا نقشہ دیا گیا ہے اور کچھ بندوق بردار باہم مشورہ کرتے دکھائے گئے ہیں جنہوں نے یا تو سفید ٹوپیاںپہنی ہوئی ہیں یا پھر پگڑیاں باندھی ہوئی ہیں۔ اشتہار کے نیچے دیا گیا کیپشن (کیا آپ کو خبر ہے کہ آپ کے آس پاس دہشت گرد تیاری کر رہے ہیں) اگر ہٹا دیا جائے اور تصویر اس ملک کے کسی پرائمری سکول کے بچے کو دکھایا جائے جس نے دیگر صوبوں کی تصاویر مطالعہ پاکستان کی کتاب میںدیکھی ہوں تو وہ بلا تردد اس تصویر کے بارے میں کہہ دے گا کہ یہ یا صوبہ خیبر پختونخوا ہے یا صوبہ بلوچستان ہے۔ اچھا گمان رکھنا چاہیے۔ ممکن ہو ایسا غلطی سے ہو گیا ہو مگر یہی غلطی دوسری تصویر میں بھی دہرائی گئی ہے جس میں کرایہ دار کی داڑھی ہے اور سر پر خیبر پختونخوا کے لوگوں کی مرغوب ٹوپی’پکول‘ ہے۔ یہی صورت تیسری تصویر میں ہے جہاں ایک دہشت اسلحہ فروخت کر رہا ہے اور دو دہشت گرد خریدار ہیں۔ حسن اتفاق سے یہاں بھی تینوں نے پکول پہن رکھی ہے۔ اتفاق کا ایک اور مظہر دیکھیے کہ کرایے پر گاڑی لینے والے دہشت گرد نے بھی پکول پہن رکھی ہے اور چہرے پر داڑھی ہے۔ چلیں یہ اتفاقات تو ہو گئے ہوں گے لیکن یہ اتفاق عجیب ہے کہ سکول میں داخل ہونے والی خواتین دہشت گردوںنے بالکل وہ برقعہ پہن رکھا ہے جو پورے ملک میں صرف کوئٹہ اور اس کے مضافات میں نظر آنا ممکن ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا دہشت گردوں کا بھی کوئی مخصوص رنگ یا ثقافت ہوتی ہے؟ اگر نہیں ہے تو یہ اشتہار ایک مخصوص ثقافت کو کیوں عیاں کر رہی ہے؟ اور اگر ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ مہران ائیر بیس یا جی ایچ کیو پر حملہ کرنے والے کس حلیے میں تھے؟ سوال یہ بھی ہے کہ بارہ مئی کو کو جب کراچی میں ماﺅوں کے لخت جگر خون میںنہلائے گئے تو مکے لہرانے والے کس حلیے میں تھے؟ بابا جی نیلسن منڈیلا نے فرمایا تھا، ’ کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے اس کی رنگت، نسل اور عقیدے کی بنیاد پر نفرت لے کر پیدا نہیں ہوتا۔ لوگ نفرت کرنا سیکھتے ہیں۔ جو نفرت سیکھ سکتا ہے ان کو محبت بہت آسانی سے سکھائی جا سکتی ہے‘۔ خدارا نفرت نہ سکھائیے محبت سیکھایئے کہ وطن کی گلیاں اب مزید نفرتوں کی تاب نہیں رکھتیں۔

 ممکن ہے کچھ لوگوں کو یہ بات بہت چھوٹی لگتی ہو لیکن یادش بخیر! بابائے قوم کو کسی عوامی اجتماع میں ایک ہی بار مخالفت اور ہوٹنگ کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ 1948 کی بات ہے فروری ہی کا مہینہ تھا جب بابائے قوم نے ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبا سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وطن عزیز کی قومی زبان اردو ہو گی۔ بنگالی طلبا کا قائد کے سامنے احتجاج آغاز تھا۔ انجام سے دنیا واقف ہے۔ ملک کی ایک پٹی عرصہ چالیس سال خون میں ڈوبی ہوئی ہے۔ بندوق کی نال پر رقص سکھانے والے انجان لوگ نہیں ہیں۔ جن دہشت گردوں نے یہاں محفوظ ٹھکانے بنا رکھے تھے ان کے سامنے اسی زمین پر ایک ڈکیٹر کے جلو میں برطانوی وزیراعظم مارگیرٹ تھیچر نے فرمایا تھا ہم آپ کے ساتھ ہیں جس کے جواب میں مجاہدین نے نعرہ تکبیر بلند کیا تھا۔ وقت کی کروٹ دیکھیے کہ اسی زمین پر اب انہی لوگوں کے خلاف جنگ جاری ہے۔ جاری رہنی چاہیے کہ تشدد کو اب نہ برداشت کرنے کا عہد کیا جا چکا ہے مگر ایک نظر ان لوگوں لاکھوں لوگوں پر ڈال لیجیے جو اس جنگ کی وجہ سے اپنے علاقے سے ہجرت کرنے پر مجبور ہیں اور کیمپوں میں پناہ گزین ہیں۔ انہی لوگوں کو انصار کہہ کر مہاجرین کے ساتھ رشتہ داریاں بڑھانے کے وعظ سنائے گئے تھے۔ سنتے ہیں کہ ہیت مقتدرہ کی پالیسی بدل گئی ہے۔ بدل گئی ہو تو چشم ما روشن دل ما شاد۔ اسی آرزو پر تو زندگی کی راتیں صبح کرتے ہیں کہ ایک دن تازہ ہواﺅں میں سانس لے سکیں مگر جانے کیوں باباجی ڈبر خان یاد آتے ہیں یا غالب کا مصرعہ’ ہیں خواب مین ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں‘۔


Comments

FB Login Required - comments

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 83 posts and counting.See all posts by zafarullah

4 thoughts on “ایک اشتہار اور قائد اعظم کے جلسے میں نعرے

  • 11-03-2016 at 2:13 pm
    Permalink

    Khan Jee, Bohot Ala. Masla Ye Hey… Abhi Bhi “HULYE” Ko Dehshat Gard Samjha Ja Raha Hey… Soch Ko Nahi.

  • 11-03-2016 at 2:33 pm
    Permalink

    خوشی ہو رہی ہے کہ اپنی رائے کو بیلینس رکھتے ہوئے کسی نے تو سچ بولنے کی کوشش کی

  • 11-03-2016 at 2:35 pm
    Permalink

    in any scenario state is always supposed to be more responsible, watchful and cautious to avoid any idiocy

  • 24-03-2016 at 12:53 am
    Permalink

    دنیا پاکستان میں چھپنے والے ڈاکٹر صفدر محمود کے نام منیر احمد منیر کے کھلے خط سے اقتباس۔
    ید بیضا صاحب
    قائد کے غیر مسلم سیکورٹی آفیسر کے بیان سے آپ کے «جلسے میں ہنگامے» والے دعوے کی نفی ہوتی ہے۔
    ۔۔۔۔۔
    ایسے واقعات کا ثقہ ترین گواہ سیکورٹی سٹاف ہوتا ہے۔ میں نے گورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناح ؒ کے چیف سیکورٹی آفیسر ایف ڈی ہنسوٹیا سے جب اس سلسلے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا، کہیں بھی کوئی گڑبڑ نہیں ہوئی تھی ۔ تاہم ’’ہم کو پتہ پڑا کہ سلیم اﷲ ہال میں جب یہ تقریر کریں گے تو ادھر ایجی ٹیشن ہو گا، بنگلہ زبان کے لئے۔ لیکن جب قائداعظم ؒ نے لیکچر شروع کیا تو کچھ نہ ہوا۔ ذرا بھی ہلچل نہیں دیکھی۔ ایک چڑیاکے موافق بھی شور نہیں ہوا ۔ آخر تک کسی بھی آدمی نے ایک بھی آواز نہ نکالا۔ نہ کسی نے کچھ خلل ڈالا۔ کھانسی تک نہیں ہوئی کسی کو۔ اتنا silence(سناٹا) رہا ‘‘۔ (حوالہ: دی گریٹ لیڈر (اردو) جلد اول۔ ص:274۔ آتش فشاں لاہور) ۔
    صفدرمحمود صاحب ! اردو کو پاکستان کی قومی زبان کہنے پر مشرقی پاکستان میں قائداعظم کے جلسہ عام میں ہنگامہ ہوتا بھی کیوں؟ اس لئے کہ یہ قائداعظمؒ کا فیصلہ نہیں تھا۔ اس پر تو 25فروری1948ء کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی اپنی مہر ثبت کر چکی تھی۔ جب مشرقی پاکستان سے ہندو کانگریس کے معدودے چند ہندو ارکان اسمبلی نے بنگالی کو قومی زبان قرار دئیے جانے پر زور دیا تو اسمبلی کے باقی ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ خاص طور پر مشرقی پاکستان ، جو اس وقت مشرقی بنگال تھا، کے مسلمان ارکان اسمبلی اردو کے حق میں ڈٹ گئے تھے ۔ اور انہوں نے اس بارے ٹھوس دلائل دئیے۔ اردو کے حق میں ووٹ دینے والوں میں مشرقی پاکستان کے تمام مسلمان ارکان بھی شامل تھے۔۔ جن میں حسین شہید سہروردی ، مولوی فضل الحق، خواجہ ناظم الدین اور مولوی تمیز الدین خاں بھی تھے۔ میں اس کی تفصیل اپنی کتاب’’قائداعظمؒ ۔اعتراضات اور حقائق‘‘ میں دے چکا ہوں۔ اور اسے پہلی بار عیاں میں نے ہی کیا کہ اردو کو قومی زبان قرار دینے کا فیصلہ قائداعظمؒ کا نہیں پاکستان دستور ساز اسمبلی کا تھا۔
    ڈاکٹر صفدر محمود صاحب! جب پاکستان دستور ساز اسمبلی 25فروری1948ء کو قرار دے چکی تھی کہ اردو پاکستان کی قومی زبان ہو گی ، تو پھر 25روز بعد21مارچ1948ء کو قائداعظم ؒ کے جلسہ عام میں کسی کو ہنگامہ آرائی کی جرات کیسے ہو سکتی تھی۔ اور وہ بھی اس وقت کے ایک انتہائی غیرمعروف اور غیر موثر مسلم لیگی سیاسی کارکن شیخ مجیب الرحمن کو۔ جس کے بارے میں آپ اپنے کالم مذکور میں لکھتے ہیں: ’’حسین شہید سہروردی اس کے سیاسی گرو تھے اور اسے کنٹرول میں رکھتے تھے‘‘۔ حسین شہید سہروردی نے تو اردو کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ پھر ان کا چیلہ جس کی اس وقت کوئی حیثیت ہی نہ تھی ،ان کے ہوتے ہوئے کس طرح بے قابو ہو سکتا تھا۔ وہ بھی قائداعظمؒ کے دورہ ڈھاکہ کے دوران میں۔ جن کے بارے میں اس وقت بنگالی قیادت کی سوچ یہ تھی:’’لوگ قائداعظمؒ کے حکم پر ہر چیز قربان کرنے کو تیار ہیں‘‘۔

Comments are closed.