کینیڈا میں شاہراہ بہشت


آپ نے بہشتی دروازے کا ذکر سنا ہوگا۔ کسی بزرگ کی درگاہ میں قائم یہ دروازہ سال کے سال کھلتا ہے۔ ایک مجمع کوشش کرتا ہے کہ ایک بار اس دروازے سے گزر جائے۔ بس سمجھئے کہ جس نے یہ سعادت پالی، بہشت میں اس کا ٹھکانہ بن گیا۔ پچھلے دنوں اخبار پڑھتے پڑھتے میں نے ایک اور سعادت کا حال پڑھا۔

جی چاہا کہ دوسروں کو بھی اس کا حصہ دار بنایا جائے۔ یہ قصہ ہے ملک کینیڈا کے شہر رچمنڈ کا جہاں کو ئی سڑک ہے جس کا نمبر پانچ ہے۔ یہ کوئی عام سڑک نہیں۔ اس شاہراہ پر دو چار نہیں، پوری بیس عبادت گاہیں قائم ہیں۔ ان میں بودھ اور ہندو مندرہیں، ایک سنّی اور ایک شیعہ مسجد ہے اور کئی گرجا گھر ہیں جن میں انگریزی، چینی، عربی، ہندی اور پنجابی میں عبادت ہوتی ہے۔ یہ سڑک نمبر پانچ ہمیشہ سے مذاہب کی گزرگاہ نہیں تھی۔ بہت عرصے تک رچمنڈ سے ذرا باہر یہ ایک خاموش سا راستہ ہوا کرتا تھا۔

اس کی ایک طرف کھیتی باڑی ہوا کرتی تھی اور دوسری جانب چھوٹے موٹے مکان تھے۔ پھر یہ ہوا کہ سنہ اسّی کی دہائی میں اس علاقے میں تارکین وطن کی یلغار ہوئی۔ چین، فلپائن، تائیوان اور ہندوستان پاکستان سے ترک وطن کرکے کتنے ہی لوگ اس علاقے میں آکر آباد ہوئے۔ وہ سب کے سب اپنے ساتھ نہ صرف اپنی زبانیں، کھانے اور رسم و رواج لائے بلکہ اپنے مذہبی عقیدے بھی لیتے آئے۔ اس سڑک نمبر پانچ پر پہلے پہل ایک گوردوارہ نمودار ہوا۔ سکھ برادری نے یہاں کھیتی باڑی کے کام آنے والی گیارہ ایکڑ زمین خریدی اور سکھ تو ہوتے ہی ہیں سدا کے کاریگر۔ انہوں نے دیکھتے دیکھتے یہاں اپنی عبادت گاہ کھڑی کردی۔ پھر عجب واقعہ ہوا۔ اس ایک گوردوارے کے بعد دوسرے مذاہب اور عقیدوں کے لوگ بھی اس سڑک پر جا پہنچے۔

نتیجہ بہت دل چسپ ہوا۔ سرکار نے کہا کہ ٹھیک ہے، اس سڑک کو باضابطہ ثقافتی علاقہ قرار دیا جاتا ہے۔ سڑک کی رونق بڑھتی گئی۔تارکین وطن نے بڑے بڑے ثقافتی مرکز بنا لئے جن میں وہ نہ صرف عبادت کرسکیں گے بلکہ یہ بھی یاد رکھیں گے کہ وہ کہاں سے چل کر یہاں تک آئے ہیں۔ ان لوگوں میں پہلا قدم اٹھانے کی جرات کرنے والے بلونت سنگھیرا ہیںجو خود کو اپنے گوردوارے میں بند نہیں رکھتے بلکہ باہر نکلتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دوسرے عبادت گزار بھی باہر نکلیں اور آپس میں ملیں جلیں۔ وہ کامیاب رہے۔ یہ لوگ ہر دوسرے تیسرے مہینے اپنے اجلاس کرتے ہیں۔ یہودیوں کے اسکول کے سربراہ ابّا بروٹ کہتے ہیں کہ مل بیٹھنے سے ہر شخص محسوس کرتا ہے کہ کتنی بہت سے باتیں ہیں جو ہمارے درمیان مشترک ہیں، جو ہمیں متحد کرسکتی ہیں۔ ابّا بروٹ کی کوششوں سے ان کے اسکول اور پڑوس میں واقع الزہرہ اسلامک اکیڈمی کے طالب علموں نے مل کر تقریبات کیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بچوں کے والدین جان گئے ہیں کہ ہم سیاست نہیں کر رہے ہیں بلکہ اس دنیا میں کچھ اچھے کام کرجانے کی ٹھانے ہوئے ہیں۔ بلونت سنگھیرا مانتے ہیں کہ مذہبی ہم آہنگی خود بخود نہیں آتی۔ بعض لوگ اس بات پر اڑ جاتے ہیں کہ میرا مذہب تمہارے مذہب سے بہتر ہے۔مگر یہ بات غلط ہے۔ ہمیں سوچنے سمجھنے کے اس انداز پر قابو پانا ہوگا۔سنگھیرا نے اس کا ایک حل تلاش کرلیا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  میرے والد مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے۔ نصرت فتح علی خان

وہ آئے دن نئی نئی تجویزیں لے کر آتے ہیں۔ چلئے گوردوارے میں لنگر تقسیم کریں، ثقافتی رنگ میں سجا دھجا جلوس نکالیں، سالانہ یوم کینیڈا منائیں، پریڈ کریں۔مگر یہ مسئلے اتنی آسانی سے حل ہونے والے نہیں۔ پچھلے برس ایک بڑا سانحہ ہوا۔ شہر کیوبک کی مسجد میں شام کی عبادت کے دوران ایک مسلّح شخص نے چھ افراد کو مار ڈالا۔ اس پر پورے کینیڈا میں آباد مسلمان سہم کر رہ گئے۔ الزہرہ اسلامک سینٹر کے عظیم مولیدینا بتاتے ہیں کہ اس طر ح کے دیوانگی کے واقعات سے ایک بات ضرور واضح ہوئی کہ ہمیں سڑک نمبر پانچ کی کتنی ضرورت ہے۔

جس رو ز یہ واقعہ ہوا، شدید سردی تھی۔ برفانی ہوائیں چل رہی تھیں۔ درجہ حرارت صفر سے بھی نیچے تھا۔ سڑکوں پر پھسلن تھی۔لیکن کیا دیکھتا ہوں کہ علاقے کے ہر فرقے اور ہر مسلک کے لوگ ہمارے پاس چلے آرہے ہیں۔ ان سب نے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر ہمارے دکھ میں شرکت کی اور رنج و الم کی اس گھڑی میں سارے ہی کینیڈا کے مسلمانوں کو دلاسہ دیا۔ان میں ہندو بھی تھے، مسیحی اور یہودی بھی تھے اور بودھ بھی تھے۔

بودھوں نے یہاں لنگ ین ماؤنٹین مندر قائم کیا ہے۔ یہ بات سنہ انیس سو چھیانوے کی ہے۔ اس سڑک پر یہی سب سے شاندار عمارت ہے۔ اس کے سر سبز باغ اور چمکتی دمکتی شبیہیںعجب منظر پیش کرتی ہیں۔ درمیان میں ناشپاتی کا پرانا درخت رہ گیا ہے جو اس زمین کا ماضی یاد دلاتا ہے۔مندر کے جوناتھن وانگ کہتے ہیں کہ یہاں عبادت کرتے ہوئی مجھے خیال آتا ہے کہ میرے بزرگ کس طرح عبادت کرتے ہوں گے۔اس مندر کے سامنے ہی چرچ آف گاڈ ہے جہاں کے عبادت گزار دوسروں سے الگ تھلگ ہی رہا کرتے تھے۔ ان کے پادری فرینک کلاسن پہلے کبھی دوسرے عقیدوں کے لوگوں سے نہیں ملے تھے۔

اسی بارے میں: ۔  میر زبیر محمود

سڑک نمبر پانچ پر لوگوں سے ملتے ہوئے وہ سوچا کرتے تھے کہ کیا یہ لوگ ہاتھ ملانا پسند کرتے ہیں، کیا ایک نے روزہ رکھا ہو تو دوسرے کو اس کے سامنے چائے پینی چاہئے۔ ان میں کون سبزی خور ہے اور کون گوشت خور؟آج حال یہ ہے کہ پادری کلاسن اس برادری میں اٹھنے بیٹھنے لگے ہیں، ان کی سرگرمیوں میں شریک ہوتے ہیںاور اچھا پڑوسی بنناچاہتے ہیں۔

سنہ دو ہزار پندرہ میں جب کینیڈا کی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ کچھ شامی پناہ گزنیوں کو اپنے ہاں رکھنا چاہتی ہے توسڑک نمبر پانچ کی مسلم تنظیمیں اور دوسرے ثقافتی ادارے مل بیٹھے اور انہوں نے اعلان کیا کہ وہ شامی پناہ گزنیوں کو اپنے ہا ں بسانے کے لئے تیار ہیں۔ اس مہم میں اسلامی تنظیم کے شوکت حسین پیش پیش تھے۔وہ بچے تھے جب پہلی عرب اسرائیل جنگ ہوئی اور انہوں نے فلسطین کے شہر راملّہ سے بھاگ کر ایک کیمپ میں پنا ہ لی تھی۔ جن لوگوں کے گھر اجڑ جائیں ان پر کیا گزرتی ہے، شوکت حسین کو خوب اندازہ تھا۔ ان کی مہم کامیاب رہی۔آج ان کے شہر میں بہت سے شامی آباد ہیں۔ شوکت حسین خوش ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم سب انسان ہیں۔ ہم سب کو ایک ہی خالق نے بنایا ہے اور ہم سب کا آخرایک ہی ٹھکانا ہے۔ لوگ بلا سبب جھگڑ رہے ہیں اور ایک دوسرے کو مار رہے ہیں۔اس سے انسانی دکھوں میں اضافے کے سوا کچھ حاصل نہیں۔

آخرمیں یہ کہ بلونت سنگھیرا نے اپنی سڑک کا نام بدل دیا ہے۔ انہوں نے اس کا نام شاہراہ بہشت رکھ دیا ہے۔ سارے کے سارے مان گئے ہیں۔کہیں کوئی اختلاف نہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔