سعودی عرب میں گلوکارہ ام کلثوم کی واپسی


مشرق وسطیٰ میں ماضی کی معروف گلوکارہ امِ کلثوم کو لیجنڈ کا درجہ حاصل ہے

سعودی عرب میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت ملنے کے بعد روشن خیالی کی جانب ایک قدم اور بڑھاتے ہوئے سرکاری ٹی وی نے میوزک کنسرٹ نشر کیا ہے۔

سعودی عرب کے کلچر اور آرٹ کے چینل الثقافیہ پر کئی دہائیوں کے بعد معروف عرب گلوکارہ ام کلثوم کا کنسرٹ نشر کیا گیا۔
مشرق وسطیٰ میں ماضی کی معروف گلوکارہ امِ کلثوم کو لیجنڈ کا درجہ حاصل ہے۔

سعودی عرب کے ولیِ عہد محمد بن سلمان نے ملک میں کئی اصلاحات کی ہیں۔ اُن کے ویژن 2030 منصوبے کے تحت خواتین کو معاشرے میں اہم کردار دیے جانے کا امکان ہے۔

کنسرٹ نشر کرنے کے بارے میں ٹی وی چینل الثقافیہ کی ٹویٹ کو سو مرتبہ دوبارہ ٹویٹ کیا اور یہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کرتا رہا۔ ’اُمِ کلثوم کی سعودی چینل پر واپسی‘ کے ہیش ٹیگ سے 54 ہزار ٹویٹس ہوئیں۔

سعودی عرب میں مصری گلوکارہ کے مداحوں نے اس فیصلے پر خوب جشن منایا اور سوشل میڈیا پر اُن کے مقبول گانے اور کنسرٹ کی تصاویر شیئر کیں۔

دوسری جانب بعض افراد نے وہ قرانی آیات شیئر کی جن میں آخرت کے عذاب کا ذکر کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ بعض قدامت پرست مسلمانوں کے خیال میں موسیقی سننا گناہ کا باعث ہے اور اس سے توجہ عبادت کے بجائے دوسرے جانب مبذول ہوتی ہے۔

اس تبدیلی کے حمایتی اور مخالفین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ اُس نام نہاد ‘آگہی’ بیدار کرنے والی اسلامی فورسز کا خاتمہ ہے۔ جس کا گذشتہ چند دہائیوں سے ملک پر اپنا اثر و رسوخ ہے۔

اسی بارے میں: ۔  بھیا ڈھکن فسادی نے گاڑی خریدی

یاد رہے کہ 1979 میں جہیمان العتیبی اور اُن کے گروہ نے خانہ کعبہ محاصرہ کر لیا تھا اور جس کے بعد ملک میں مغربیت کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا تھا۔

ایک صارف انور الخلیل نے گلوکارہ اُمِ کلثوم کے کنسرٹ کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ‘آج رات کو کلچر چینل پر جہيمان اور اُن کے نظریات کی موت کا اعلان ہوا ہے۔’

سلمان الشمری نے لکھا کہ ‘الثقافیہ کے خیال میں اب تم کوئی مسئلہ پیدا نہیں کر سکتے۔ یہ پرانا مواد جہيمان کے دور کا ہے۔ ہم فیروز (مشہور لبنانی گلوکارہ) کو بھی سننا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب ایک اور صارف نے لکھا کہ جب 70 کی دہائی میں جہیمان اور اُس کے گروہ نے حرم پر قبضہ کر لیا تھا تو وہ سینیما اور موسیقی پر پابندی عائد کرنا چاہتے تھے۔ یہاں آپ اُن لوگوں کے لیے نیا جواز پیدا کر رہے ہیں جو سکیورٹی کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ خدا ہمیں بچائے۔‘

ایک اور صارف محمد الاحمد نے لکھا کہ ‘زندگی معمول کے مطابق آ رہی ہے اور ہم نارمل انسان بن رہے ہیں، باقی لوگوں جیسے۔’


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 931 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp