2017ء کا نوبل انعام برائے ادب جاپانی نژاد برطانوی ناول نگار کازواو اشیگورو کے نام


2017ء کا نوبل انعام برائے ادب جاپانی نژاد برطانوی ناول نگار کازواو اشیگورو Kazuo Ishiguro کو دیا گیا ہے۔ اشیگورو ناگاساکی، جاپان میں پیدا ہوئے اور پانچ سال کی عمر میں برطانیہ چلے گئے تھے۔ سویڈش اکیڈمی کا کہنا ہے کہ اشیگورو کے ناول انسان اور دنیا کے درمیان تعلق کی گہرائیوں سے پردے ہٹاتے ہیں۔ سویڈش اکیڈمی نے بطور مصنف ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کے ناولوں کی عظیم جذباتی قوت نے اس اتھاہ گہرائی کو دریافت کیا ہے جو اس دنیا کے ساتھ ہمارے خیالی تعلق کے نیچے چھپی ہے’۔

اشیگورو کا پہلا ناول A Pale View of the Hills تھا جو 1982 میں شائع ہوا۔ اشیگورو نے کئی ناول لکھے۔ ان کے دو ناول دی ریمینز آف دی ڈے The Remains of the Day اور نیور لیٹ می گو Never Let Me Go بہت مقبول ہوئے۔

اس سال ادب کے نوبل انعام کی فہرست میں جاپان کے ہاروکی موراکامی اور کینیا کے نگوگی وا تھیونگو کے نام بھی شامل تھے لیکن اشیگورو اسے حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ ایک غیر متوقع انتخاب تھا۔ اشیگورو لندن اپنے گھر میں کچن کی میز پہ برنچ کرنے کے لیے بیٹھے ہوئے تھے جب ان کے ایجنٹ نے انہیں نوبل انعام ملنے کی اطلاع دی۔ اشیگورو کا کہنا ہے کہ وہ بالکل اس کی توقع نہیں کر رہے تھے اور پہلے انہوں نے اس اطلاع کو یونہی ایک جھوٹی خبر سمجھا۔ انہیں تب یقین آیا جب صحافیوں کے فون آنا شروع ہوئے اور ان کے گھر کے باہر ان کی قطاریں لگ گئیں۔ اشیگورو 62 سال کے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں بہت کم عمر میں یہ انعام مل گیا ہے۔ 62 سالہ مصنف کا کہنا ہے کہ ایوارڈ ان کے لیے بےتحاشا خوشی کا باعث ہے۔

ان کے مشہور ناولوں ‘دا ریمینز آف دا ڈے’ اور ‘نیور لیٹ می گو’ پر فلمیں بنائی گئی ہیں، جن کو خاصی پذیرائی ملی۔ انھیں 1995 میں او بی ای سے بھی نوازا گیا تھا۔ انھوں نے آٹھ کتابیں لکھی ہیں جن کا 40 مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔

جب بی بی سی نے ان سے رابطہ کیا تو اس وقت تک تو اشیگورو کے مطابق ابھی نوبیل کمیٹی نے ان سے رابطہ نہیں کیا تھا، اور انھیں یقین نہیں تھا کہ یہ خبر سچی ہے یا نہیں۔

ان کے مطابق ‘یہ ایک شاندار اعزاز ہے، بنیادی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ میں اب تک کے سب سے بڑے مصنفین کے نقشِ قدم پر چل رہا ہوں، تو یہ بہت بڑی تعریف ہے‘۔

کازو اشیگورو 1954 میں جاپان کے شہر ناگاساکی میں پیدا ہوئے۔ جب ان کے والد کو برطانیہ میں بطور جغرافیہ دان ملازمت ملی تو تو وہ گھر والوں کے ساتھ برطانیہ چلے گئے۔ انھوں نے انگریزی اور فلسفے کی تعلیم یونیورسٹی آف کینٹ سے حاصل کی جس میں ایک سال کا وقفہ بھی شامل تھا جس کے دوران انھوں نے بلمورل میں کوئین مدر کے لیے بھی کام کیا۔ یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا سے تخلیقی تحریر میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی جہاں ان کے اساتذہ میں میلکم بریڈ بری اور اینگیلا کارٹر شامل تھے۔ ان کا مقالہ ان کا پہلا اہم ناول بن گیا جس کا نام ‘اے پیل ویو آف ہلز’ تھا اور وہ 1982 میں شائع ہوا۔ انھوں نے 1989 میں اپنے ناول ‘دا ریمینز آف دا ڈے’ پر بکرز پرائز بھی جیتا۔

(اس تحریر میں بی بی سی اردو سروس پر کازواو اشیگورو کے بارے میں دی گئی معلومات سے بھی استفادہ کیا گیا ہے)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔