غیر اسلامی جشنِ بہاراں اور پھولوں کا شرعی استعمال


razi uddin raziلیجئے صاحب اب معلوم ہوا کہ جشنِ بہاراں بھی غیر اسلامی ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کو طالبان کی جانب سے دھمکی ملی ہے کہ وہ مارچ کے مہینے میںجشنِ بہاراں کی تقریبات کا اہتمام کرنے کی جسارت نہ کرے کہ اسلام میں اس قسم کی تفریحات و مکروہات کی کوئی گنجائش نہیں۔ وہ تو اچھا ہوا کہ طالبان نے بر وقت متنبہ کر دیا وگرنہ تو پنجاب حکومت نے عوام کے لئے اس غیر اسلامی و غیر شرعی تفریح کا مکمل اہتمام کر رکھا تھا۔ مختلف شہروں میںکھلے عام پھولوں کی نمائشیں منعقد ہونے والی تھیں اور عوام کم کم باد و باراں میں چمن کا رخ کرنے کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ سنا ہے کہ اس غیر اسلامی سرگرمی کی سرکوبی کے لئے مجاہدین کے سر بکف دستے بھی مختلف شہروں کو روانہ ہو چکے ہیں۔ آپ کو تو معلوم ہی ہے کہ اس سے پہلے یومِ محبت اور سالِ نو کے استقبال کی تقریبات کو بھی غیر اسلامی قرار دیا جا چکا ہے۔ جبب سے یہ دھمکی موصول ہوئی ہے ہم اس سوچ میں گم ہیں کہ ہم اپنی کم علمی کی بنا پر ماضی میں کیسی کیسی غیر اسلامی سرگرمیوں میں شریک رہے اور اس دوران ہم نے یہ بھی نہ سوچا کہ کیسے اپنی عاقبت خراب کر رہے ہیں۔ ہم تو اپنے بچپن سے ہی نا دانستگی میں بہار کی آمدکو خوشی کا لمحہ سمجھتے آ رہے تھے۔ صرف ہم ہی نہیںا ور بہت سے نا سمجھ اور معصوم لوگ بھی بڑی تعداد میں پھولوں کی نمائشوں میں شرکت کے مسلسل مرتکب ہور ہے تھے۔ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ اس زمانے میں یعنی آج سے تیس چالیس برس پہلے تک اسلامی تعلیمات درست انداز میں ہم تک پہنچی ہی نہیں تھیں۔ پھر اس زمانے میں علما و مشائخ خود بھی اسلام کی اصل تعلیمات سے ٹھیک طرح سے آگاہ نہیں تھے ورنہ کم از کم وہی ہمیں اور ہم جیسے دوسرے گمراہوں کو متنبہ کر کے راہِ راست پر لے آتے اور ہمیں بتا دیتے کہ پھول دیکھنا ، خوشبوﺅں سے لطف حاصل کرنا، فطرت کے مناظر سے مسحور ہونا اور بہار کی آمد کا ستقبال کرنا کوئی اچھی بات نہیں۔

 

اس زمانے کے علما کی غفلت یا شاید اسلامی احکامات سے نا واقفیت کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم سال ہا سال تک بہار کو خوشی کا موسم سمجھتے اور اس سے لطف حاصل کرتے رہے۔ سچ پوچھیں تو ہمارا آج اُ ن علما کی دینی و علمی قابلیت پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ وہ تو اچھا ہوا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران طالبان کی ایسی کھیپ تیار ہو گئی جو لوگوں کو سیدھی راہ پر لانے کے لئے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ ہمیں تو اب معلوم ہوا کہ جشنِ بہاراں کے نام پر لوگوں کو گمراہ اور اسلامی اقدار سے دور کیا جا رہا تھا۔صد شکر کہ ملا عمر ، مولوی فضل اللہ اور صوفی محمد جیسی ہستیوں نے ہمیں پھولوں کی شرعی اور اسلامی حیثیت سے آ گاہ کیا۔ یہی وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے ہمیں بتایا کہ لڑکیوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنا گناہِ عظیم ہے ،یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے فٹ بال جیسے کھیل سے فحاشی تلاش کی ، مصوری اور مجسمہ سازی جیسے کافرانہ فنونِ لطیفہ کی بیخ کنی کی کوشش کی ، سینما گھروں ، تھیٹروں اور مزارات کو ایک ہی صف میں نشانہ بنایا اور اب انہی کی بدولت ہم جشنِ بہاراں جیسی غیر اسلامی حرکت سے تائب ہونے جا رہے ہیں۔ ہم بھی کیا سادہ ہیں پھولوں کو تفریح کا ذریعہ بنا لیا اور یہ بھی نہ سوچا کہ شرعی طور پر پھولوں کا استعمال تو صرف جنازوں میں جائز ہوتا ہے۔

 

 


Comments

FB Login Required - comments