فرزانہ علی: ایک بہادر صحافی اور خیبر پختونخوا کی پہلی خاتون بیورو چیف


پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں صحافت ہمیشہ سے ایک مشکل پیشہ رہا ہے تاہم خیبر پختونخوا میں بعض ایسی باہمت خواتین صحافی بھی موجود ہیں جنھوں نے تمام تر مشکلات اور قدامت پسند ماحول کے باوجود اس میدان میں اپنا لوہا منوایا۔ ان میں پشاور کی سینئیر خاتون صحافی فرزانہ علی کا نام قابل ذکر ہے۔ ڈیرہ اسمعیل خان کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے اپنی صحافتی زندگی شروع کرنے والی فرزانہ علی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ خیبر پختونخوا میں پہلی اور واحد خاتون صحافی ہیں جو ایک نجی ٹیلی ویژن چینل میں بیورو چیف کے عہدے پر فائز ہیں۔

1990 کی دہائی میں صحافتی دنیا میں آنے والی فرزانہ علی کا کہنا ہے کہ شاید روزمرہ زندگی میں سچ بولنا آسان ہوگا لیکن سچ لکھنا کتنا مشکل ہے اس بات کا اندازہ انھیں پہلی دفعہ اس وقت محسوس ہوا جب انھوں نے ایک مقامی اخبار کے ساتھ بحثیت فیچر رائٹر کام کا آغاز کیا۔ فرزانہ علی کے مطابق اپنے کرئیر کے ابتدائی مہینوں میں ہی انھیں معلوم ہوا تھا کہ ایک پشتون معاشرے میں بحثیت خاتون صحافت کرنا کتنا مشکل ہے۔

انھوں نے بتایا ‘ میں نے تہیہ کر لیا تھا کہ اب ہار کر یہاں سے نہیں جانا ہے جو بھی نتائج ہوں گے دیکھا جائے گا لیکن اس پیشے کو چھوڑنا نہیں کیونکہ اگر ایک طرف اس میں مشکلات ہیں تو دوسری طرف آپ ملک و قوم اور بالخصوص اپنے علاقے اور لوگوں کےلیے کام بھی کرسکتے ہیں۔’

فرزانہ علی نے کہا کہ جب وہ ٹی وی جرنلزم میں آئی تو ان کی ساس کو پڑوس اور محلے کی خواتین طعنے دیا کرتی تھیں کہ اپ کی بہو ٹی وی میں کام کرتی ہیں ان میں اور ‘ڈمہ ‘ یعنی ‘میراثیوں’ میں کوئی فرق نہیں۔

‘جب اپ ٹی وی پر کام کرتی ہیں تو پھر اپ کی کوئی چیز مخفی نہیں رہتی، آپ کی نجی زندگی وغیرہ بلکہ ایسا سمجھ لیں کہ آپ کا سب کچھ داؤ پر لگ جاتا ہے۔’

دفاتر کے اندر خواتین کے ساتھ پیش آنے والے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے فرزانہ علی نے بتایا کہ وہ کئی بار اپنے ساتھیوں کے منفی رویے سے دل برداشتہ ہوکر روتے ہوئے گھر گئیں لیکن اس کے باوجود کبھی حوصلہ نہیں ہارا اور ڈٹی رہیں۔

‘عورت کی عزت کیا ہے، اگر ان کو ہرانا ہے تو اس کی کردار کشی کرو جس سے وہ ٹوٹ پھوٹ کر رہ جاتی ہے اور یہ ہمارے معاشرے میں ان جگہوں پر زیادہ ہے جہاں خواتین مردوں کے ساتھ کام کرتی ہیں۔’

ان کے مطابق خواتین کو مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جاتا ہے، ان پر فقرے کسے جاتے ہیں، ان کے لباس اور طورطریقے سب کچھ لوگوں کی نظروں کی زد میں ہوتے ہیں۔

‘مجھے کئی دفعہ یہ طعنے سننے کو ملے کہ ڈیرہ اسماعیل خان سے سرائیکی بولنے والی ایک خاتون آئی ہے اور وہ پشتونوں کی روایات پر بات کرتی ہے، یہ ہوتی کون ہے ہمیں طورطریقے سمجھانے والی۔’

فرزانہ علی نے مزید کہا کہ پاکستانی معاشرے میں دو قسم کے لوگ ہیں، ایک وہ جو ہراساں کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو جنسی تشدد تو نہیں کرتے لیکن تشدد کرنے والوں کو مجبور کرتے ہیں کہ آپ بھی خواتین کو تنگ کیا کرو۔

ان کے بقول پشتون معاشرے میں کسی عورت کا دفتر کا سربراہ بننا اور مردوں کی سربراہی کرنا کتنا مشکل ہے اس بات کا اندازہ انھیں بیوروچیف بننے کے بعد ہوا۔ ‘دفتر میں یہ بات میرے کانوں تک کئی مرتبہ پہنچی کہ اس کو کیا پتہ کہ صحافت کیا ہے، یہ تو جرنلزم کی الف ب بھی نہیں جانتی اور ہم پر حکم چلاتی ہے۔’

مردوں کے مقابلے میں خواتین صحافیوں کو ملنے والی تنخواہوں کے ضمن میں بات کرتے ہوئے فرزانہ علی نے کہا کہ خواتین سے جتنا کام لیا جاتا ہے انھیں اتنا معاوضہ نہیں ملتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین زیادہ محنتی اور اپنے کام سے مخلص ہوتی ہیں لیکن مردوں کے مقابلے میں ان کی تنخواہوں میں کافی فرق پایا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ صحافت میں آپ کے جتنے ذرائع اور رابطے ہوں گے آپ اتنا ہی اچھا صحافی بن سکتے ہیں لیکن خواتین صحافیوں کے لیے رابطے بنانا انتہائی مشکل ہے کیونکہ آپ صحافت کی خاطر رابطے بنائیں گے اور دوسرا ان رابطوں سے کوئی اور مطلب لے گا۔

(ہم نے 2010ء میں فرزانہ علی کی تحریروں سے ان کے بارے میں جانا۔ وہ اس وقت سوات کے جنگ زدہ علاقے سے رپورٹنگ کر رہی تھیں۔ ان پر بے حد فخر ہوا۔ فرزانہ علی پاکستان کی خواتین ہی نہیں، سب صحافیوں کے لئے مشعل راہ ہیں۔ مدیر ہم سب)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 597 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp