اسٹیبلشمنٹ کے اہم افراد تناؤ ختم کرنا چاہتے ہیں


حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت نے اپنے بعض ساتھیوں کو بتایا ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے دو اہم ترین افراد ملک میں سیاسی تناؤ اور بحرانی کیفیت کو ختم کرنے اور ملک میں سیاسی استحکام پیدا کرنے کے خواہشمند ہیں۔ مسلم لیگی رہنماؤں کو یہ بھی باور کروایا گیا ہے کہ ملک میں جاری پیچیدہ سیاسی و قانونی بحرانی صورتحال کو حل کرنے کے لیے اعلیٰ ترین سطح پر بعض اشارے ملے ہیں جنھیں مضبوط بنیادیں فراہم کرنے کی کوشش بھی ہو رہی ہے۔

اس کے ساتھ ہی مسلم لیگی رہنماؤں کو گذشتہ ایک ہفتے کے دوران مختلف اجلاسوں کے دوران ایک سے زیادہ مواقع یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسٹیلشمنٹ کے ہی کچھ عناصر اس ’مصالحانہ‘ طرز عمل کی مخالفت بھی کر رہے ہیں جس کی وجہ سے صورتحال خاصی پیچیدہ بھی ہے۔ مسلم لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ممکنہ ’مصالحتی طرز عمل‘ کی اصل وجہ ملکی معاشی صورتحال ہے جس کے بارے میں سنگین خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران ملکی معیشت جس عدم توجہی کا شکار ہوئی ہے اس کی وجہ سے ملک آئندہ دو سے تین ماہ میں ایک بڑے معاشی بحران سے دوچار ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اس معاشی بحران سے ملک کو بچانے کے لیے کوشش تو کر رہے ہیں لیکن وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی اپنے خلاف مقدمات کے سلسلے میں مصروفیت کی وجہ سے دفتری معاملات پر ضروری توجہ نہ ہونے کے باعث ملکی معیشت کے بارے میں بعض اہم فیصلے التوا کا شکار ہو رہے ہیں۔ معاشی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آئندہ چند روز میں اگر یہ اہم فیصلے، جن میں سے ایک روپے کی قدر کے تعین اور ادائیگیوں میں توازن کے معاملات ہیں جو آئندہ چند ہفتوں میں تشویش ناک صورتحال اختیار کر سکتے ہیں۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا کہ چند روز قبل بری فوج کے سربراہ کی زیر سربراہی ہونے والی کور کمانڈرز کے خصوص اجلاس میں ملکی معاشی صورتحال پر بھی بات چیت کی گئی تھی۔ سیاسی معاملات کو مزید پیچیدگی اور کشیدگی سے بچانے کی تگ و دو میں مصروف مسلم لیگی رہنما اور وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ دونوں جانب کے پالیسی میکرز (یعنی سیاسی اور اسٹیبلشمنٹ) تناؤ کو کم کرنے کے خواہشمند ہیں۔

گذشتہ روز جمعرات کو ایک ٹیلی وژن پروگرام میں سول اور فوجی قیادت کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں خواجہ سعد رفیق نے کہا ’میں آپ کو سب باتیں تو نہیں بتا سکتا لیکن صرف یہ کہوں گا کہ جو پالیسی میکرز ہیں میرا خیال ہے وہ تناؤ نہیں چاہتے، کشمکش نہیں چاہتے۔ پاکستان کے حالات کی نزاکت کا سب کو ادراک ہے۔‘ تاہم خواجہ سعد رفیق کا یہ بھی کہنا تھا کہ دونوں جانب ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سیاسی معاملات پر کثرت سے تبصرہ کرنے اور فوجی حلقوں سے قریب سمجھے جانے والے سابق فوجی افسر، لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب مسلم لیگ کے اندر ہونے والی اس بحث کو حقیقت سے دور قرار دیتے ہیں۔ ’یہ اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔ فوج کا ان کے خلاف بد عنوانی کے مقدمات سے کیا تعلق ہے۔ فوج ان سے کیا مذاکرات کرے گی۔ اب جو کچھ ہونا ہے وہ تو عدالتوں میں ہونا ہے۔‘

مسلم لیگی حلقے البتہ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کی جمعرات کے روز ہونے والی پریس کانفرنس کو بھی بہت معنی خیز قرار دے رہے ہیں۔ اس پریس کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک اہم اور شریف خاندان کے قریب سمجھے جانے والے مسلم لیگی رہنما اور صوبہ پنجاب کے طاقتور وزیر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جنرل آصف غفور کی اس وقت کے وزیراعظم کے ڈان لیکس کے بارے میں جاری سرکاری تحریری بیان کو مسترد کرنے والی ٹویٹ اور جمعرات کے روز ہونے والی پریس کانفرنس میں ’زمین آسمان کا فرق ہے۔‘

’جنرل آصف غفور کی پریس کانفرنس میں ہونے والی گفتگو کی ہر طرف سے حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ یہ گفتگو بہت ہی حوصلہ افزا ہے۔ اگر یہی بہتری اسی طرح تمام اطراف میں ہو، سیاستدانوں میں بھی ہو، میڈیا میں بھی اور باقی طرف میں بھی ہو تو ہم اس طرح کی افواہوں، ابہام اور وہم سے نکل سکتے ہیں جو ہمیں سننے کو بھی ملتی ہیں اور درپیش بھی ہوتی ہیں۔‘

رانا ثنا اللہ نے یہ بھی کہا کہ جنرل آصف غفور کی گفتگو بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے وژن اور سوچ کی درست عکاس ہے۔’میں سمجھتا ہوں کہ اس میں ایک قدم اور آگے آنا چاہیے اور اس بارے میں کسی بھی قسم کی جو افواہیں ہیں چاہے وہ حلقہ 120 کا انتخاب ہو یا کوئی اور ایشو بنے، ہمیں ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے اس معاملے پر ڈائیلاگ کرنا چاہیے۔‘

اس سب مثبت گفتگو کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف لندن چلے گئے ہیں جہاں ان کی اہلیہ زیر علاج ہیں۔ مسلم لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ نواز شریف پیر کے روز اسلام آباد کی احتساب عدالت کے سامنے پیش ہو سکیں جہاں ان پر نیب کی جانب سے دائر کیے گئے ریفرنس پر فرد جرم عائد ہونی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی قوانین کے مطابق ملزم کی عدم موجودگی میں فرد جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔ ایسے میں عدالت نواز شریف کے خلاف کیا طرزِ عمل اختیار کرے گی اس بارے میں قانونی ماہرین بھی فی الحال خاموش ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 597 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp