غربت اور آئی فون


غربت بہت خوبصورت، رنگین، سریلی، رومانی اور روحانی ہے یہ ختم نہیں ہو سکتی، ختم ہونی بھی نہیں چاہیے، اس کے خاتمے سے بہت کچھ ختم ہو جا ئے گا۔ صاحب کے ڈرائنگ روم میں لگی جھونپڑی کی تصویر صاحب کے اعلیٰ زوق کی علامت ہے۔ غربت اور افلاس پر لکھا گیا مضمون صحافی یا ادیب کے احساسات اور عوامی مشاہدے کا خوبصورت اظہار ہے، یہ سوکھی سڑی عورت کے سینے سے خون نچوڑتے بچے کی حسین تصویر مصور کا شاہکار ہے۔ ملک میں پھیلی غربت اور اس کے خاتمے کے عزم کے پر جوش الفاظ نے سیاست دان کی تقریر کو چار چاند لگا دیے ہیں، مٹھی شاہ کے ایک لوک فنکار نے جب غربت کا نوحہ اپنی دردیلی آواز میں پڑھا تو وہ راتوں رات امیر ہو گیا۔ اور اس کی آواز میں غربت کے نوحے نے غریبوں کے دل اجال دیے۔

مسجد میں واعظ نے غریبوں کو جنّت کی نوید دی اور بتا یا کہ یہ بے بس بے کس لوگ جنّت میں نبی کے ساتھ ہوں گے، تو وعظ سننے والوں نے کنکھیوں سے دائیں بائیں دیکھا اور مطمعین ہو گئے کہ کو ئی غریب ان کے ساتھ نہیں ہے۔ غریب شاعر کی داخلی کیفیت کے اظہار پر لوگوں کی جھومتی داد پر شاعر کو اپنے حالات سے جڑے رہنے میں مزید ہمت ملتی ہے۔ یہ غربت اتنی ذائقے دار ہے کہ غریب کی سیری نہیں ہوتی، وہ اب اس سے نکلنا ہی نہیں چاہتا۔ وہ مست ہے غربت کا کاٹنا اب مشکل بھی نہیں رہا۔ ایک موبائل نے غریبی کے سارے دکھ بھلا دیے۔ پیٹ میں روٹی نہ ہو مگر فون میں پچاس روپے کا بیلنس مفت میں آجا تا ہے۔ ہماری قوم کے ہمدردوں کو ثنا نامی لڑکی کا میسیج موصول ہو تا ہے اس کی ماں اسپتال میں ہے۔ صرف پچاس روپے کا بیلنس بھیج دو جلد لوٹا دیا جا ئے گا۔ بے کس لوگوں کی مدد کرنے کا ثواب اور ثنا کے پیسے لوٹانے کی امید میں دوبارہ رابطے کی صورت الگ اب اور کیا چاہیے۔

برا بھلا اور کڑا وقت ہر ذی روح کی جان کے ساتھ لگا ہے ہر عہد اور دور میں خوشی غم کے ساتھ خوش حالی اور بد حالی انسان کے دم قدم رہی ہے۔ برّ صغیر میں تقسیم سے قبل سائنس اور ٹیکنا لوجی کی ان بولتی چیزوں کی ا تنی فراوانی نہ تھی تب گونگی اور بے جان اشیا کے استعمال سے دن بِتائے جا تے تھے اور دیے کی روشنی اپنی حیثیت کے مطابق رکھی جاتی تھی اور اس کے جلتے رہنے کے اوقات بھی انسان کی اوقات کے حساب سے ہوتے تھے۔ تب سردیوں کی راتیں اور گرمیوں کے دن واقعی طویل ہو کرتے تھے۔ اس وقت بھی ذرا سے کھا تے پیتے گھرا نے میں ملازم اور ملازمہ رکھنے کا روج عام ہوا کرتا تھا۔ یہ ملازمین کئی کئی پیڑھیاں اپنے مالکوں کے ہاں گزار دیتے تھے۔ ان کی حیثیت اور مرتبہ گھر کے فرد کا سا ہی ہوتا تھا۔ لیکن یہ پھر بھی اپنی حیثیت جانتے تھے کبھی خواب میں بھی مالک کو دھوکہ دینے یا انہیں قتل کر کے ان کے ملکیت یا دولت ہتھیانے کا خیال ان کے ذہن میں چھو کر بھی نہ گزرتا ہوگا۔ البتہ ڈپٹی نذیر احمد کی ماما عظمت جیسے مزاج اور کیفیات کے کردار اکبری ٹائپ پھوہڑ اور احمق عورتوں کو عبرت دینے کے واسطے آج بھی ایک سبق ہیں۔ اسی طرح کوئی شہزادہ کسی انار کلی ٹائپ کنیز پر عاشق ہو جائے تو الگ بات ہے ورنہ کسی کی کنیز کی یہ ہمت نہ ہو تی تھی کہ وہ ایسا خیال بھی دل میں لائے۔ ۔

کسی کے بھی دل میں کسی شئے کو کسی بھی طرح حاصل کرنے کی خواہش جنم نہ لیتی تھی۔ ہاں بھوک اور مفلسی کے باعث چند بے ضرر سے واقعات ضرور پیش آجا تے تھے۔ جس کا مقصد عارضی طور پر مسئلہ حل کرنا ہو تا تھا۔ اور یوں متاثر شخص بھی ایسے چور سے ہمد ردی محسوس کرتا۔ ہاتھ پھیلانا یا چوری کرنا دوصورتوں میں جائز ہے جب کوئی خود یا اس کا پیارا بھوک سے بے حال ہویا کسی مرض میں مبتلا ہو اور ڈاکٹر کی فیس کے پیسے نہ ہوں تب اگر اضطرابی کیفیت میں کوئی یہ قدم اٹھالے تو اس کی مجبوری سمجھ آتی ہے۔ لیکن مسئلے کے حل کے بعد اسے مسائل کے حل کا راستہ سمجھ کر اسی راہ پر چل پڑنا اچھی بات نہیں۔ ہمارے بچپن میں بہت کم لوگوں کے گھروں میں اے سی یا ٹیلی فون ہو تا تھا اور گاڑی رکھنے والا شخص بہت امیر تصور کیا جاتا تھا۔ لیکن گاڑی، اے سی یا ٹیلی فون خود کے پاس بھی ہو ایسی کوئی خواہش دل میں جنم نہیں لیتی تھی۔ ہاں تنخواہ چاہے کتنی بھی ہو اخبار، رسالے اور ڈئجسٹوں کا آنا بجٹ میں شامل ہوا کرتا تھا ہاکر کو ماہانا بل ادا کر دیا جا تا۔ ہمیں یا د ہے پاپا سب رنگ ڈائجسٹ کا بے چینی سے انتظار کیا کرتے، سسپنس اور جاسوسی ڈائجسٹ بھی شوق سے پڑھا کرتے پاکیزہ ڈائجسٹ اور اخبارِ جہاں امی پڑھا کرتیں گو وہ پاپا کے ڈائجسٹ بھی پڑھتیں اور ہم امی پاپا کے منع کرنے کے باوجود چھپ چھپ کے وہ سب پڑھا کرتے۔ شاید انہوں نے پابندی ہما رے شوق کو بڑھا وا دینے ہی کے لیے عائد کی تھی۔

وقت بدل چکا ہے۔ اب تحریر سے دماغ اور روح ترکرنے کے بجا ئے تصویر سے آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچائی جا تی ہے۔ اور نیکی کی باتیں اور مقامات مقدسہ شئیر کر کے نیکیوں میں اضافہ کیا جا تا ہے۔ یہودی اشیا کے بائکاٹ اور طاغوتی قوّتوں کے خلاف متحد ہونے کے دعوے بھی اس یہودی پروڈکٹ کے ذریعے یہودی پلیٹ فارم سے کیے جا تے ہیں۔

مگر اس منحوس ایپل والے موبائل نے دیو مالائی قصوں کے مناظر کی طرح ہر ایک کے ذہنوں کو جکڑ لیا ہے۔ خاص طور پر لوئر اور لوئرمڈل کلاس اس کے نئے نئے فیچرز کو دیکھ کر حواس باختہ ہے۔ غریب لڑکیاں اسے حاصل کرنے کے چکر میں نتائج کی پرواکیے بغیر لڑکوں سے دوستیاں کرتی ہیں، اور لڑکے چوری کرتے ہیں یا پھر رات دن محنت کر کے کیسے بھی اس کا حصول ممکن بنا تے ہیں۔ میری ماسی ایک دن مجھے بتا نے لگی کہ اس کے بیٹے نے پڑھا ئی چھوڑ کر نوکری شرع کر دی ہے۔ ایک ماہ بعد اس نے بتا یا کہ اس کے بیٹے نے پہلی تنخواہ سے موبائل خرید لیا۔ بعد میں اس نے بتا یا کہ اب وہ نہ نوکری پر جا تا ہے نہ اسکول، بس موبائل پر لگا رہتا ہے۔ میری ماسی نے جب بیماری کے باعث کام کرنا چھوڑا تب مجھے ماسیوں کے بدلتے ہوئے رنگ ڈھنگ دیکھنے کو ملے۔ ایک تو مجھے ماسیوں کے لباس ان کے بولنے کا سلیقہ اور درست تلفظ کے ساتھ انگریزی الفاظ کی ادائگی نے حیران کیا پھر ان کے ہاتھوں میں ٹچ موبائل۔

میں نے ایک لڑکی سے پوچھا کتنا پڑھی ہو ئی ہو۔ کہنے لگی کبھی اسکول نہیں گئی، میں نے کہا یہ فون کیسے استعمال کرتی ہو، کیسے نمبر ملاتی ہو اس نے مجھے کچھ نشانیاں بتا دیں کہ جیسے آپ کے نمبر کا پہلا اور آخری نمبر میں نے یاد کر لیا ہے ا س سے میں سمجھ جا ؤں گی کہ آپ کا فون ہے۔ باقی انسٹا گرام یا واٹس ایپ پر تصویریں دیکھنے کے لیے مجھے تو کوئی مشکل نہیں ہوتی کپڑوں پر استری کرتے ہوئے موبائل اس کے کان اورکندھے کے بیچ میں جڑا رہتا اور وہ شرمیلے انداز میں باتیں کرتی رہتی۔ اور مجھے یہ دیکھ کر کوفت ہو تی کہ آدھ گھنٹے سے وہ ایک جگہ پر استری پھیرے جارہی ہے مجھے بجلی کے بل کے ہول اٹھنے لگے اور میں نے اسے فارغ کر دیا۔ اب جب سے آئی فون آیا ہے۔ ہر قسم کے طبقے کا پاس اسی کے بڑھتے ہوئے نمبروں کی اپنی حیثیت سے زیادہ کے نمبر کی خواہش ہے۔

آج کل میرے پاس جو ماسی کام کر رہی ہے اس نے بتا یا کہ اس کا میاں رات رات بھر موبائل پر کسی سے باتیں کرتا رہتا ہے اور دن بھر سوتا رہتا تھا۔ اب وہ اپنی ماں کے گھر آگئی ہے کچھ دنوں بعد اس کے پاس بھی میں نے مہنگا والا فون دیکھا کہنے لگی اس کے کزن نے دلایا ہے وہ بس ڈرائیور ہے۔ اور اب وہ اپنے میاں سے طلاق لے کر اس سے ہی شادی کرے گی، میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ شادی شدہ بچوں والا ہے، تمہارے بھی بچے ہیں۔ کہنے لگی اپنا کما تی کھا تی ہوں۔ اس پر بوجھ تھوڑی بنوں گی۔ باجی آپ دیکھیں نا یہ ایپل والا فون دلایا ہے اس نے۔ آپ کو معلوم ہے نا کتنا مہنگا فون ہے۔ پر باجی یہ ایپل کسی کے منہ کا جھوٹا لگتا ہے۔ میں اسے کیا کہتی کہ کسی کی جھوٹن یا حرام کھانے سے ایما ن تومتاثر ہو تا ہی ہے لیکن دھوکہ کھانے سے زندگی حرام ہو جا تی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔