نوازشریف اینٹی اسٹبلشمنٹ کیوں ہو گئے؟


میاں نوازشریف اچانک اینٹی اسٹبلشمنٹ ہو چکے ہیں، وہ فوج کو للکارتے ہیں، ایجنسیوں کے کردار پر سوال اٹھاتے ہیں اور جمہوریت کی بقا کی بات کرتے ہیں۔

 جنرل ضیاالحق کے زیرسایہ سیاست شروع کرنے والے وہ میاں نواز شریف جنہوں نے آئی ایس آئی سے پیسے لے کر اسلامی جمہوری اتحاد کے پلیٹ فارم سے جمہوری قوتوں کو چیلنج کیا، یکایک کیسے جمہوری ہو گئے اور کیوں ہو گئے، کیا حالات نے نوازشریف کو سکھا دیا، یہ ایک دلچسپ صورت حال ہے۔

میاں نوازشریف بعینہ آج کے عمران خان ہیں، کل اسٹیشبلمنٹ اور اسٹیبشلمنٹ نواز میڈیا جس طرح نوازشریف کو پروموٹ کرتا تھا، آج اسی طرح عمران خان کو کیا جا رہا ہے، کل نوازشریف کے موچی گیٹ کے پانچ ہزار افراد کے جلسے کو پانچ لاکھ کا بتا کر ڈھنڈورا پیٹا جاتا تھا اور آج عمران خان کے لیے ایسا کیا جا رہا ہے، کہا جا سکتا ہے کہ ماضی کے نوازشریف کی جگہ عمران خان لے چکے ہیں تو کیا نواز شریف کل کے ذوالفقار علی بھٹو بن گئے ہیں

 میاں نوازشریف کا اینٹی اسٹبلشمنٹ پہلا بیان جنرل پرویزمشرف کے ملک پر قبضے کے بعد اس وقت سامنے آیا جب وہ ڈکٹیٹر سے معاہدہ کرکے ملک سے باہر تشریف لے گئے تھے، دوسری بار میاں نواز شریف 2013 کے دھرنوں کے دوران اینٹی اسٹؓبلشمنٹ نظر آئے مگر دھرنے ختم ہوتے ہی ان کی گاڑی کا اسٹیرنگ جنرل راحیل شریف کے ہاتھ میں تھا

تیسری بار میاں نوازشریف پانامہ اسکینڈؒل کے تناظر میں اچانک اینٹی اسٹؓبلشمنٹ ہو چکے ہیں اور یہ پاکی داماں کی حکایت کچھ ایسی بڑھی کہ فوج اور حکومت میں زبردست تناؤ کی صورت حال ہے، جی ٹی روڈ پر میاں صاحب نے کھل کر فوج کو للکارا، یہ کام کبھی ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری نے بھی نہیں کیا

میاں نوازشریف اور ان کے وزرا فوج کو کچا چبا دینے والے بیانات دے رہے ہیں، ایسے بیانات اگر ماضی میں کسی سندھی، سرائیکی یا بلوچ نے دیئے ہیں تو بیان کے بعد وہ چار قدم چلنے کے قابل نہیں رہتا مگر میاں نوازشریف بخیروعافیت ہیں

نوازشریف اینٹی اسٹبلشمنٹ کیوں ہو گئے، اگر کوئی پوچھے کہ بھٹو خاندان اینٹی اسٹبلشمنٹ کیوں ہے تو اس کا سادہ سا جواب ہے کہ وہ عوام کو طاقت کا سرچشمہ سمجھتے ہیں مگر میاں نوازشریف اسٹبلشمنٹ کی مخالفت کر کے آخر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں، یہ سوال ہنوز جواب طلب ہے

اسمبلی جو عوام کے نمائندوں کا ایوان ہے، میاں نوازشریف وہاں ناگزیر ضرورت کے علاوہ تشریف لے جانا شاید وقت کا ضیاع سمجھتے رہے ہیں، ان کے کریڈٹ میں اب تک بظاہر بھی کوئی ایسا کام نہیں کہ جو براہ راست عوام سے تعلق یا عوام سے محبت کو ظاہر کرے تو اسٹبلشمنٹ سے اتنی خطرناک جنگ کی سعی نوازشریف کیوں کر رہے ہیں، یہ آج کا سب سے بڑا سوال ہے۔

 اگر عوام کا حق حاکمیت نوازشریف کے پیش نظر نہیں تو دوسری چیز ان کا اقتدار اور تیسری چیز ان کی انا رہ جاتی ہے یعنی وہ اسٹبلشمنٹ کی مخالفت اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے کر رہے ہیں یا اس مخالفت کا مقصد اپنی انا کی تسکین ہے جس کو پانامہ فیصلے کے تناظر میں زبردست ٹھیس پہنچی ہے

 یہاں یہ بات اہم ہے کہ اسٹبلشمنٹ مخالف قوتوں کی اسٹبشلمنٹ سے مراد فوج نہیں ہوتی بلکہ اسٹبشلمنٹ مفاد پرست افراد کا ایک گروہ ہے کہ جس میں بیوروکریٹس، صحافی، سرمایہ دار، مذہبی اور قوم پرست سیاست دانوں کے علاوہ راہ راست سے ہٹے جرنیل ہوتے ہیں، ذوالفقارعلی بھٹو پھانسی پر لٹک گئے، فوج کے خلاف کچھ نہیں بولا، بے نظیر بھٹو 30 سال تک اسٹبلشمنٹ کے خلاف جنگ کرتی رہیں مگر مجال ہے کہ فوج کے خلاف ایک لفظ ادا کیا ہو، آصف زرداری ساڑھے گیارہ برس جیل میں رہے مگر کبھی فوج کے خلاف ایک لفظ نہیں کہا مگر پانامہ فیصلے کے بعد اب تک نوازشریف اور ان کے حامی شاید اتنا کچھ بول چکے ہیں کہ جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کی پاک فوج کی دشمنی پر مبنی جذبات کے حوالے سے نظرثانی کرنا ہو گی

یہاں ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ میاں نوازشریف کچھ بھی بول دیں مگر وہ آرام سے جی ٹی روڈ پر گھومتے ہیں، ان کا نام ای سی ایل میں بھی نہیں ڈالا جاتا، بلوچستان کا ایک صحافی ایف سی کے کردار پر سوال اٹھاتا ہے تو وہ لاپتہ ہو جاتا ہے مگر وزیرداخلہ رینجرز کمانڈر کو بھگوڑا تک کہہ دیتے ہیں اور ان کا بال بیکا نہیں ہوتا، کیا اس ملک میں دہرا قانون ہے اور مسلم لیگ نون کو یہ جرات اور آزادی آخر کس برتے پر ہے، اسٹبلشمنٹ کبھی بھی کسی اینٹی اسٹبلشمنٹ کو آزادی نہیں دے سکتی تو مسلم لیگ نون کو یہ آزادی کیوں ملی ہوئی ہے

میاں نوازشریف جب بھی اینٹی اسٹبلشمنٹ ہوتے ہیں، براہ راست محاذ آرائی کرتے ہیں اور ایسے میں ان کو کوئی خوف نہیں ہوتا کہ جیسے ڈر سندھی، بلوچ اور سرائیکی بیلٹ سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں کو ہوتے ہیں اور اب تک کی تاریخ میں ایسا ہوا ہے کہ میاں نوازشریف کی جیت ہوتی ہے اور اسٹبلشمنٹ کہلانے والی قوت یا فوج خود کو سمیٹ لیتی ہے اور اب بھی کچھ ایسا ہی ہونے جارہا ہے کہ فوج کی جانب سے دو اہم شخصیات موجودہ تناؤ کی فضا کو کم کرنا چاہتی ہیں

 اسٹبلشمنٹ کے منظور نظر فرد کو اپنی جگہ وزیراعظم بنانے والے میاں نوازشریف کا اگر اینٹی اسٹبشلمنٹ مشن کامیاب ہو جائے تو ان کے خلاف نیب کیسز ختم ہو جائیں گے، ان کی نااہلی بھی ختم ہو جائے گی مگر اس سے عوام کو کیا ملے گا، ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔