جنسی جرائم کے ذمہ دار صرف مرد ہیں


آپ سارے بڑے قابل لوگ ہیں اور اعلی عہدوں پر فائز ہیں۔ آپ کی زندگی میں یہ کتنی دفعہ ہوا کہ کوئی عورت آپ کے پاس آئی ہو اور اس نے آپ کو دعوت “گناہ” دی ہو۔ سب لوگ اپنے اندر سوچنے لگ گئے لیکن کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس خاموشی کا مطلب واضح تھا۔ اور بول کر بھی اس بات سے کے ساتھ تقریبا سبھی نے اتفاق کیا کہ ایسے واقعات کم ہی ہوتے ہیں کہ عورت کسی مرد پاس ائے اور جنسی عمل کی دعوت دے۔

پھر پوچھا گیا کہ آپ نے کتنی مرتبہ زندگی میں کسی عورت کے بارے میں ایسا سوچا اور کتنی دفعہ ایسا کر ہی ڈالا۔ یعنی ہمت کر کے “اظہار محبت” کر دیا۔ اس بات پر بھرے ہال میں ایک مسکراہٹ دوڑ گئی اور آہستہ آہستہ ہنسی میں بدل گئی۔ اس بات سے اتفاق کیا گیا کہ اس طرح کے واقعات تو بہت ہوتے ہیں کہ جب مرد نے عورت کو جنسی عمل یا جنسی تعلق قائم کرنے کی دعوت دی ہو۔ اور اس بات پر بھی کافی اتفاق تھا کہ ایسا سوچا تو اکثر ہی جاتا ہے کہ کاش میں اس خاتون سے یہ بات کہہ سکوں۔ لیکن بے عزتی کے ڈر سے بہت دفعہ مرد ایسا کر نہیں پاتے یعنی اپنے ارادوں یا خواہشوں کو عملی رنگ نہیں دے پاتے۔

انسانی تاریخ گواہ ہے کہ مرد ہی سیکس ورکرز (عورت، مرد یا خواجہ سرا) کو جنسی “فیور” کے بدلے باقاعدہ رقم کی ادائیگی کرتے ہیں۔ جب کہ دنیا کے تقریبا ہر ملک اور تہذیب میں اس کی سزا ہمیشہ سیکس ورکر عورت کو ہی ملتی رہی۔ اب بھی دنیا کے زیادہ تر ممالک میں یہی ہو رہا ہے۔ ہاں البتہ یورپ کے چند ممالک میں یہ قانون بن گیا ہے کہ مجرم جنسی عمل کے لیے ادائیگی کرنے والے کو قرار دیا گیا ہے نہ کہ رقم وصول کرنے والے کو۔ اس بات سے بھی اتفاق کیا گیا کہ جنسی عمل کے لیے ادائیگی بہرحال مرد ہی کرتے ہیں۔

بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی جیسا گھناؤنا جرم بھی مردوں ہی کے ہاتھوں ہوتا ہے۔ پاکستان میں “روزن” نام سے کام کرنے والی ایک این جی او ایسے بچوں اور بچیوں کی کونسلنگ کرتی ہے جن کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہو یا ہو رہی ہو۔ ایسے مسائل کا شکار بچے اور بچیاں انہیں خط بھی لکھتے ہیں اور رہنمائی مانگتے ہیں۔ بچوں اور بچیوں کی جانب سے موصول ہونے والے ایسے ایک سو خطوط کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے 96 فی صد مرد تھے اور چار فیصد عورتیں تھیں۔

صرف اور صرف مرد ہی عورتوں، بچوں اور بچیوں اور خواجہ سراؤں کو جنسی طور پر ہراساں کرتے ہیں۔ یہ جرم اتنا عام ہے کہ شاید ہی کوئی عورت یا خواجہ سرا ایسی ہو جس نے اپنی زندگی میں کئی کئی بار اسے برداشت نہ کیا ہو۔ اور جہاں تک جنسی ہراسانی کے خوف کا تعلق ہے تو اس جرم کے عام ہونے کی وجہ سے ہر عورت اور خواجہ سرا کو اس کا خوف تو رہتا ہی ہے۔

ایک اور مکروہ حقیقت یہ بھی ہے کہ صرف مرد اپنی جنسی بھوک مٹانے کے لیے انسانوں کے علاوہ جانوروں کو بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات آئے دن پیش آتے ہیں اور ایسے واقعات میں کبھی بھی عورت ملوث نہیں پائی گئی۔

یہ گفتگو عدلیہ کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ساٹھ کے لگ بھگ افسران کے ساتھ کی جا رہی تھی۔ ان کے سامنے یہ سلائیڈ چلائی گئی کہ “جنسی جرائم کا ذمہ دار مرد ہوتا ہے” تو انہوں نے یک زبان ہو کر پورے زور سے یہ کہا کہ وہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ لیکن اوپر دی گئی بحث کے بعد اس مزاکرے میں موجود افسران کی ایک بھاری اکثریت نے اس بات سے اتفاق کیا کہ جنسی جرائم کے ذمہ دار مرد ہی ہوتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ گفتگو ان کے لیے ایک سرپرائز سے کم نہ تھی۔

ہماری پولیس اور عدلیہ کے لیے یہ بات سمجھنا بہت اہم ہے کہ جنسی جرائم کا ارتکاب مرد ہی کرتے ہیں۔ بیچاری عورتیں، بچیاں، بچے اور خواجہ سرا تو اس ظلم کا شکار ہوتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 134 posts and counting.See all posts by salim-malik