گو کہ زیادہ مذہبی نہیں ہوں میں


baba-in-cartoonعزوہ حرم۔۔۔

والدہ کو کچھ دن سے شک پڑ رها تها کہ بچے انکی بات توجہ سے سنتے نہیں ہیں اور اگر سنتے ہیں تو عمل میں دیر کرتے ہیں ۔
پہلے تو بچوں کو سمجهایا کہ فرمانبردار اولاد یر وقت کان اور آنکهیں کهول کے رکهتی ہے کہ والدہ محترمہ کیا فرما رہی ہیں۔ مگر پهر انہوں نے محسوس کیا کہ بچوں پر تعویذ ہوگئے ہیں، کسی رشتے دار یا حاسدین نے ایسا تعویز کروایا ہے کہ اولاد نے فرمانبرداری چهوڑ دی ہے۔ کچھ ساتھ واک کرنے والی خواتین نے ایک پیر صاحب کا بتایا کہ ان کا تعویذ اولاد کو فرمانبردار بنانے کے لیے مشہور ہے۔ والدہ نے اس کا تذکرہ والد صاحب سے کیا کہ مجهے اس پیر صاحب کے پاس لے چلو انہوں نے پہلے ٹال مٹول سے کام لیا اور پهر والدہ کا وہم دور کرنے کے لیے رضامندی ظاہرکر دی۔

اگلے دن والد اور والدہ جو آستانہ شریف پہنچے تو لوگوں کا رش دیکھ کر گهبرا گئے کیونکہ قطاریں طویل و عریض تهیں، کام کی غرض سے آنے والے لوگوں کی- انتظار کے لیے جو بیٹهے تو شام کے چار بج گئے ۔ پیر صاحب نے باری آنے پر پوچها کیا مسئلہ یے؟ والدہ نے اپنا مسئلہ گوش گذار کیا ۔ابهی پیر صاحب اپنا قلم اٹهانے ہی والے تهے فرمانبرداری تعویز کے لیے، کہ اسی اثنا میں گھر کے اندر کی طرف کهلنے والے دروازے سے پیر صاحب کا چودہ سال پوتا برآمد ہوا اور نہائیت بدتمیزی سے پنجابی میں یوں مخاطب ہوا ’ بابا پیسے کڈ، امی کہیندی اے پینڈی پکانی اے‘۔

پیر صاحب نے نہایت شفیق اور کچھ مریدین کے سامنے ہلکے سے کنفیوز ہو کر کہا کہ کاکا بهنڈی بہت مہنگی ہے اپنی والدہ سے کہو کہ کچھ اور پکا لے۔ اس پر چودہ سالہ بچے نے برہم ہو کر کچھ یوں جواب دیا ’تیرے کول کیڑا پیسیاں دی کمی اے سارا دن پیسہ ای تے کمانا اے‘۔

سیانے سچ ہی کہتے ہیں کہ اپنے گهر کے پیر ہلکے ہوتے ہیں۔ دینے والا صرف خدا کی زات ہے اگر پیروں اور درگاہوں سے مسئلے حل ہو رہے ہوتے تو مزارات چرسیوں اور جرائم کی آماجگاہ نہ بن چکے ہوتے- خدا کے نیک اور برگزیدہ لوگ خدا کا دین اور احکامات لوگوں تک پہنچانے کے بعد دنیا سے جا چکے ہیں۔ ان کی پیروی کی جا سکتی ہے صرف انکے نقش قدم پر چلتے ہوئے نہ کہ مزارات پر عالیشان عمارتیں تعمیر کروا کر۔

مذہب صرف اور صرف خدا کے احکامات کی تعمیل سے مکمل ہوتا ہے ، اللہ سے کچھ بهی مانگنے کے لیے کسی بهی خاص جگہ پر جانا ضروری نہیں ہے اللہ تعالیٰ ہر جگہ اور ہر وقت انسان کے قریب ہی موجود ہیں۔ انسانوں میں ایک دوسرے کو معاف کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے نہ کہ وہ جانوروں والا طریقہ اختیار کر لیں جن کو یہ بهی سمجھ نہیں ہوتی کہ انہی کے ہم جنس کو دوسری شکل کے جانور چیر پهاڑ کر کها رہے ہوتے ہیں اور وہ پاس ہی گهاس چرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ اکثر بولتے ہوئے انسان لاعلمی یا کم علمی کے سببت مناسب متبادل الفاظ کا استعمال نہیں کرتا مگر اکثریت کا مطلب بعینہ وہ نہیں ہوتا ہے جو الفاظ وہ بول رہے ہوتے ہیں۔ کوئی بهی مذہب اندهی تقلید اور خون خرابے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔

اب اگر ایک نئے مزار کا اضافہ ہوتا ہے تو ایک سلسلہ نکل پڑے گا۔ نیت کے اچهے اور سچے لوگ ہمیشہ ہی مطلب پرستوں کے هاتهوں کهلونا بنتے رہے ہیں ۔ شرح منافع کے نام پر سود کهلایا اور کهایا جا سکتا ہے، بس ذرا دل کو تسلی دینے والی بات ہے، بس ذرا سا سوچ کا رخ بدلنے کی ضرورت ہے۔ ویسے پیر جی کے تعویذ سے کافی اچها اثر پڑا ہے۔ بچے سب فرمانبردار سے لگ رہے ہیں بات غور سے سننے اور سمجهنے لگے ہیں ۔ تو بس پهر کہنا ہی پڑا کہ :-

میری قضا نماز کے لیے !
ادا ہو، ایسی کوئی نیاز نہیں
بس تو ہی معاف کرسکتا ہے
تیری رحمتوں کا حساب نہیں
امتحان لے، نہ لے، مرضی ہے
بچ سکوں، ایسی میری مجال نہیں
جنت کے لالچ میں کیا ،کیا نہ کیا
بس اک تیرا ہی مجهے خیال نہیں
مان لیا ہم آئے نہیں مرضی سے
سوچا واپسی کا بهی سوال نہیں
عقل زیادہ ہے سمجھ تهوڑی ہے
اس سے بهی لیا مکمل کام نہیں
عزوہ حرم


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “گو کہ زیادہ مذہبی نہیں ہوں میں

  • 11-03-2016 at 3:00 pm
    Permalink

    بھت بھت عمدا

  • 11-03-2016 at 7:23 pm
    Permalink

    اچھی تحریر ھے لیکن کچھ الفاظ پڑھنے میں دشواری ھے شاید فاونٹ کا مسلہ ھے ؟

Comments are closed.