مریض، مسیحا، پیر اور تعویذ


mubashir

انتظار حسین صاحب نے ایک بار نصیحت کی تھی کہ کبھی کسی کہانی کا پس منظر مت بتانا۔ نہ کبھی کسی کہانی کی تشریح کرنا۔ میں نے ان سے وجہ نہیں پوچھی، بس سر ہلا دیا تھا۔ لیکن آج میں ایک کہانی کا پس منظر بتانا چاہتا ہوں۔

میرا سارا بچپن اور لڑکپن بلکہ بیشتر جوانی بسوں میں سفر کرتے گزری ہے۔ دفتر سے گاڑی ملی تو ڈرائیونگ کرنا سیکھی۔ آٹھ نو سال سے گھر میں گاڑی ہے لیکن میں ہفتے عشرے میں ایک بار بس میں بیٹھ جاتا ہوں۔ دماغ ٹھکانے پر رہتا ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ کار چلاتے ہوئے کہانی سوچنی پڑتی ہے۔ بس میں کہانیاں سفر کرتی مل جاتی ہیں۔

کل میں ڈبلیو گیارہ روٹ کی بس میں چڑھ گیا۔ رش کا وقت نہیں تھا اس لیے سیٹ مل گئی۔ میرے ساتھ بیٹھا ہوا نوجوان چونکا۔ اس نے مجھے پہچان لیا۔ جنگ میں تصویر چھپنے کی وجہ سے کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے۔ کوئی خاص بات نہیں۔ لیکن جب اس نے اپنی کہانی سنائی تو میں دم بخود رہ گیا۔

نوجوان نے بتایا کہ وہ کسی گارمنٹس فیکٹری میں کام کرتا ہے۔ انتہائی غریب خاندان سے تعلق ہے اور بوڑھے ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہے۔ کچھ عرصہ پہلے اس کے پیٹ میں تکلیف ہوئی۔ وہ سرکاری اسپتال چلا گیا۔ وہاں ڈاکٹر نے بتایا کہ اسے ہرنیا کی تکلیف ہے اور آپریشن کرانا پڑے گا۔ اتفاق سے سرجن دستیاب نہیں تھا۔ اسے دوسرے اسپتال کا راستہ دکھا دیا گیا۔

طبعیت زیادہ خراب ہوئی تو گھر والے اسے ایک پرائیویٹ اسپتال لے گئے۔ وہاں ڈاکٹر نے اس کا چیک اپ کرکے تصدیق کی کہ آپریشن ضروری ہے۔ نوجوان کے باپ نے بتایا کہ سرکاری اسپتال والوں نے انھیں ٹرخا دیا ہے اور ان کے پاس پرائیویٹ اسپتال میں آپریشن کرانے کے پیسے نہیں۔

ڈاکٹر سوچ میں پڑگیا۔ وہ سرجن نہیں تھا۔ اس نے سرجن سے بات کی اور اسے بغیر پیسوں کے آپریشن کرنے پر راضی کرلیا۔ ڈاکٹر نے باقی اخراجات خود برداشت کیے، دوائیں خریدیں اور بقول نوجوان کے، اس کے باپ کو کچھ پیسے بھی دیے۔

نوجوان صحت یاب ہونے کے بعد ایک دن ڈاکٹر کے پاس گیا اور پوچھا کہ اس نے کیوں آپریشن کا خرچہ برداشت کیا۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ جس دن نوجوان اس کے پاس اسپتال آیا تھا، اتفاق سے اس دن ڈاکٹر نے اخبار میں ایک کہانی پڑھی تھی۔ وہ کہانی یہ تھی۔

   … …

معجزہ!

برسوں پہلے ایک بچی گلک لے کر میرے میڈٰکل اسٹور پر آئی تھی۔

’’امی کو برین ٹیومر ہوگیا ہے۔‘‘ اُس نے بتایا،

’’ابو کے پاس آپریشن کے پیسے نہیں۔

وہ کہتے ہیں، کوئی معجزہ ہی امی کو ٹھیک کرسکتا ہے۔

آپ سب پیسے لے لیں، ایک معجزہ دے دیں۔‘‘

میں نے ایک نیوروسرجن کو یہ بات بتائی۔

انھوں نے بچی کی والدہ کا آپریشن کیا اور وہ بچ گئیں۔

برسوں بعد وہ لڑکی کل میرے میڈیکل اسٹور پر آئی۔

لیب کوٹ پہنا ہوا تھا۔

کہنے لگی،

’’اگر کبھی کوئی بچی اپنی گلک لے کر آئے تو مجھے کال کردجیے گا۔‘‘

 

ڈاکٹر نے کہا کہ اس کہانی نے اسے اتنا جذباتی کردیا کہ وہ ہر حال میں نوجوان کی مدد کرنے کو بے چین ہوگیا۔ یہ سب بتا کر میرے ساتھ ڈبلیو گیارہ میں بیٹھے ہوئے نوجوان نے اپنے گلے میں پڑا ہوا تعویذ اتارا اور کپڑے کا بخیہ ادھیڑ کر اس میں سے کاغذ نکالا۔ اس نے دکھایا، میں نے دیکھا، وہ میری وہی سو لفظوں کی کہانی تھی۔

نوجوان نے کہا، اس کہانی کی بدولت مجھے شفا ملی۔ میں نے اسے تعویذ بناکر گلے میں ڈال لیا۔

 

پھر اس نے میرے ہاتھ پکڑنے چاہے۔ میں گھبراکر اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ پتا نہیں کیا کہتا جا رہا تھا لیکن میں چلتی بس سے کود گیا۔ لالوکھیت کے رش میں پھنسی ہوئی بس کی رفتار کم تھی ورنہ شاید میں چوٹ کھا جاتا۔

میں سڑک کے دوسری جانب سے رکشا لے کر گھر واپس آگیا۔ رکشا زخمی سڑکوں اور نو گزے پیر کی قبروں جیسے اسپیڈ بریکروں پر اچھلتا رہا۔ اس اچھل کود کے دوران میرے گھبرائے ہوئے ہاتھوں نے لرزتے ہوئے قلم سے کانپتے ہوئے کاغذ پر ایک کہانی گھسیٹی۔ وہ کہانی آج جنگ میں چھپ گئی ہے۔

   … …

مربع!

محمد حنیف بھی اوکاڑے کا ہے، علی اکبر ناطق بھی۔

میں سمجھ گیا کہ وہاں کوئی پیر رہتا ہے۔

اِن دونوں نے اُسی سے تعویذ لیا ہوگا۔

ورنہ اتنی کہانیوں کے آئیڈیے کیسے آتے؟

میں خانیوال سے ویگن میں چڑھا اور اوکاڑہ پہنچ گیا۔

ناطق نے پیر سے ملوا دیا۔

بابے نے کہا، ’’ادھر بیٹھ!

میرے مریدوں کے لیے تعویذ لکھ۔

تعویذ کہانیوں سے بنتے ہیں۔

تعویذوں سے کہانیاں بنتی ہیں۔

تعویذ، پتا ہے، کیسے لکھتے ہیں؟

اوپر نیچے دائیں بائیں، سب ہندسے، سب الفاظ برابر،

سو کا مربع۔

سو لفظوں والے سو تعویذ لکھ لے،

بڑا آئیڈیا مل جائے گا۔‘‘

   … …

میں نے کبھی تعویذوں پر یقین نہیں کیا۔ میں کبھی کسی پیر کے پاس نہیں گیا۔ کبھی کوئی تعویذ نہیں پہنا۔ لیکن اس نوجوان کی کہانی نے مجھے جذباتی کردیا ہے۔ اب مجھے تعویذ اچھے لگنے لگے ہیں۔

شاید مجھے بس سے نہیں اترنا چاہیے تھا۔ اچھا ہوتا کہ میں اس نوجوان کا نام پتا پوچھ لیتا اور اس ڈاکٹر سے بھی جاکر ملتا۔ لیکن خیال آتا ہے کہ پھر اس نوجوان کو اور اس ڈاکٹر کو میری اصلیت معلوم ہوجاتی۔ وہ جان جاتے کہ میں فکشن رائٹر ہوں، جھوٹی کہانیاں لکھتا ہوں۔ ان کا دل ٹوٹ جاتا۔ آئندہ وہ ڈاکٹر کبھی کسی کی مدد نہ کرتا۔

قسم خدا کی، اس جھوٹے آدمی میں سچے لوگوں کا سامنا کرنے کی تاب نہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 51 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi

9 thoughts on “مریض، مسیحا، پیر اور تعویذ

  • 11-03-2016 at 2:51 pm
    Permalink

    کہانی جھوٹی نہیں یہ تو خیال ہے خیر کے بیج بوو گے خیر نکلے گا شر کے بیج بوو گے شر نکلے گا

  • 11-03-2016 at 2:58 pm
    Permalink

    دل کہتا ہے کہ بس کا واقعہ اصلی ہے۔ دماغ، آپ کا ہنر دیکھتے ہوءے سوچتا ہے کہیں یہ بھی کہانی تو نہیں؟

  • 11-03-2016 at 5:01 pm
    Permalink

    اس کہانی کو سوائے کچھ آنسوں کے اور کسی طور داد دینا ممکن نہیں۔

  • 11-03-2016 at 7:56 pm
    Permalink

    Stunned

  • 11-03-2016 at 9:13 pm
    Permalink

    تعریف کیلئے الفاظ نہیں ہیں ، بس پرنم آنکھوں والے جذبات ہیں۔

  • 12-03-2016 at 12:14 am
    Permalink

    سبحان اللہ!!!
    داد کے لئے اس سے برھ کر بندہ کیا کہے

  • 12-03-2016 at 11:24 am
    Permalink

    ایسی کہانیوں سے بہت سبق ملتا ہے جو سبق حاصل کرتے ہیں وہ اس ڈاکٹر کی طرح غریبوں کے مسیحا بن جاتے ہیں.

  • 12-03-2016 at 11:34 am
    Permalink

    ویسے جب نوجوان نے ڈاکٹر سے پوچھا کہ میرا آپریشن مفت کیوں کیا؟ تو میرے دماغ میں سب سے پہلے یہ خیال آیا کہ ڈاکٹر نے نوجوان کا گردہ نکال لیا ہو گا.. لیکن مکمل کہانی پڑھ کر اپنی سوچ پر شرمندگی اور ڈاکٹر پر رشک آیا… معاشرے کی برائیوں کے بیچ میں سے خوش کن خبر نے حیران کیا..

  • 15-03-2016 at 1:42 pm
    Permalink

    Delicately written. Simply brilliant..

Comments are closed.