پاکستان اور افغانستان۔ تبدیلی آرہی ہے؟


پاکستانیوں کو بھی مبارک ہو اور افغانوں کوبھی مبارک ہو۔ سردست دونوں ملک اس بڑی تباہی سے بچ گئے جس کا خدشہ 26ستمبر کو ’’جنگ‘‘ میں شائع ہونے والے کالم میں ظاہر کیا تھا۔ الحمدللہ افغان قیادت اور پاکستانی پالیسی سازوں نے جوش کی بجائے ہوش سے کام لینا شروع کردیاہے۔سردست ہندوستان کی آرزئوں پرپانی پھر گیااور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا دورہ کابل تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوا۔ یہ دورہ معمول کا دورہ نہیں تھا۔ یہ ان کا پہلا دورہ کابل تھااور ان کا وہاں ایسا استقبال کیا گیا جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے گا جو ماضی قریب میں پاکستان کے رہنمائوں کے دورہ کابل کے موقع پر ان کے ساتھ کیا جاتا رہالیکن اس کے برعکس جنرل باجوہ کو گارڈ آف آنردیا گیا۔ ان کے سامنے پوری کابینہ اور ملک میں موجود پوری کی پوری افغان قیادت کو بٹھایا گیا۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی برطانیہ میں ہونے کی وجہ سے ملاقات میں شریک نہ ہوسکے لیکن اگلے روز لندن میں بی بی سی کے عادل شاہ زیب کے ساتھ انٹرویو میں انہوں نے پاکستان اور افغانستان کو جڑوا ںبھائی قرار دے کر اس دورے کا خیرمقدم کیا اور امریکہ پر تبرا بھیج کر اس کی طرف سے پاکستان کو دی جانے والی دھمکیوں کی مذمت کی ۔ چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ بھی ہندوستان کے دورے کی وجہ سے ملاقات میں شریک نہیں تھے لیکن انہوں نے بھی وہاں سے بیان جاری کرکے دورے اور اس کے نتائج کو سراہا۔ جنرل قمر باجوہ کو کابل کے ایوان صدر کے اس تاریخی محل میں ضیافت دی گئی جہاں انتہائی خاص مہمانوں کو ہی دی جاتی ہے ۔ افغانستان کی خاتون اول نے آرمی چیف کی اہلیہ کو الگ سے ظہرانہ دیا جس میں تمام کابل کی نامور خواتین مدعو تھیں ۔جو کچھ ہوا اور طے پایا اس کے تناظر میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ الحمدللہ پاکستان اور افغانستان دوبارہ اس ڈگر پر گامزن ہوگئے ہیں جس پر ڈاکٹر اشرف غنی کے صدر بننے کے بعد ہوئے تھے ۔ جو تلخیاں جنم لے چکی تھیں، افغانستان میں جس قدر غصے کی لہر پھیل گئی تھی ، جس طرح کبھی سرحد ی جھڑپیں ہوتیں تو کبھی سرحد بند ہوتی رہی ، اس کے بعد اس فضا کو دوبارہ بحال کرنا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور تھا اور میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ اس کے لئے گزشتہ چند ماہ کے دوران خاموشی کے ساتھ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ، ان کی عسکری ٹیم ، پاکستان میں افغانستان کی سفیر ڈاکٹر عمر زاخیلوال اور تین دیگر افراد نے بڑی کوششیں کیں ۔ پردے کے پیچھے بہت کچھ ہوچکا ہے اور بہت کچھ ہورہا ہے ۔بہت کچھ ہونے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ جنرل قمر باجوہ کے دورہ کابل سے ایک روز قبل افغانستان میں افغان فورسز نے کارروائی کرکے پاکستان میں کارروائیاں کرنے والی جماعت الاحرار کے سات بندوں کو مار ڈالا۔

اسی بارے میں: ۔  نواز شریف کی تاریخی عدالتی فتح کے منظرنامے!

گزشتہ ایک سال کے دوران افغانستان کی طرف سے دھمکیوں اور تلخ بیانات کی بارش ہوتی رہی لیکن ایسے عالم میں جبکہ امریکی صدر ٹرمپ نے نئی پالیسی کا اعلان کرکے پاکستان کو دھمکیاں دیں ، افغان صدر اشرف غنی پاکستان کے بارے میں امریکہ کے ہمنوا نہیں بنے بلکہ الٹا پاکستان کے ساتھ جامع مذاکرات پر آمادگی ظاہر کردی ۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی نے تو دو قدم آگے بڑھ کر پاکستان سے بھی زیادہ سخت الفاظ کے ساتھ ٹرمپ پالیسی کو مسترد کردیا۔ امریکہ اس قدر برہم تھا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ٹرمپ تو پاکستانی وزیراعظم سے ملاقات کیا کرتے ، سیکرٹری خارجہ ٹیلرسن نے بھی مختصر ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں بیٹھنا گوارا نہیں کیا ۔ دوسری طرف امریکہ نے ڈاکٹر اشرف غنی کی ایسی آئوبھگت کی کہ صدر ٹرمپ نے ان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا تاہم اس کے باوجود افغان صدر نے پاکستان کے خلاف سخت لہجہ استعمال نہیں کیا ۔ گزشتہ دو سالوں کے دوران افغان صدر نے دورہ پاکستان کی ہر دعوت ٹھکرادی تھی ۔ حتیٰ کہ سارک کانفرنس میں شرکت پر بھی آمادہ نہ ہوئے لیکن اب کی بار جب جنرل قمر باجوہ نے انہیں دورہ پاکستان کی دعوت دی تو انہوں نے خوش دلی کے ساتھ قبول کیا۔ اسی تناظر میں مجھے یہ خوشخبری دینی پڑ رہی ہے کہ مثبت تبدیلی آ نہیں رہی بلکہ آگئی ہے ۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغان قیادت کو یقین دلایا ہے کہ وہاں امن لانے کے لئے پاکستان اپنا کردار بھرپور طریقے سے پورے خلوص کے ساتھ ادا کرے گا جبکہ افغان قیادت نے انہیں یقین دلا دیا ہے کہ افغانستان پاکستان کی تمام جائز شکایات کو دور کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس مقصد کے حصول کے لئے دونوں ملکوں نے تمام رابطوں کی بحالی اور ہر اہم معاملے کے لئے متعلقہ اداروں کے ورکنگ گروپس بنانے پر اتفاق کیا۔ اس سے بھی خوش آئند امر یہ ہے کہ چین اور امریکہ بھی آن بورڈ رہیں گے ۔

بہ ہر حا ل جو پیش رفت ہوئی اور جو کچھ طے پایا ہے وہ تازہ ہوا کا جھونکا ہے ۔ دونوں ملکوں کی قیادت کو دونوں طرف کے عوام اور پورے خطے کو تباہی سے بچانے کا ایک اور موقع ہاتھ آگیا ہے اور یہ شاید آخری موقع ہو۔ اس لئے توقع ہےکہ دونوں ملکوں کی قیادت اس آخری موقع کو ضائع نہ کرے ۔ اگر تو اس موقع سے فائدہ اٹھالیا اور جو کچھ طے پایا ہے اس پر عمل ہوسکا تو جنرل قمر باجوہ اور ڈاکٹر اشرف غنی کو آئندہ نسلیں اپنا عظیم محسن سمجھیں گی لیکن اگر یہ موقع بھی ضائع ہوا تو وہ نسلیں ان کو کبھی معاف نہیں کریں گی ۔ حقیقت یہ ہے کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد ڈاکٹر اشرف غنی نے اسی طرح کھلے دل کے ساتھ پاکستان کی طرف تعاون کا ہاتھ بڑھایا تھا۔ تب میاں نوازشریف اور جنرل راحیل شریف نے ان کے ساتھ اسی نوع کے وعدے وعید کئے تھے لیکن ان دونوں کی غلطی یہ تھی کہ کچھ وعدے ایسے بھی کئے تھے جن کو پورا کرنا ان کے بس میں نہیں تھا۔ دوسری طرف اشرف غنی کو انتظار میں بٹھا کر جنرل راحیل شریف کی ٹیم دھرنے دلوانے اور میاں نوازشریف ان سے اپنے آپ کو بچانے میں لگ گئے جبکہ اشرف غنی انتظارکرتے رہ گئے ۔ اسی لئے جب پاکستان کی طرف سے طالبان کے معاملہ میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہوئی تو وہ بہت دکھی ہوئے ۔ اپنے ملک کے اندر ان کو جو طعنے سننے کو ملے اس کی وجہ سے وہ مشتعل ہوگئے ۔ دوسری طرف افغان قیادت نے ردعمل ظاہر کرنے سے قبل پاکستان کی ان داخلی مجبوریوں کو مدنظر نہیںر کھا۔ جس تیزی کے ساتھ اور بے ڈھنگے طریقے سے افغان قیادت نے ہندوستان کے ساتھ قربت بڑھائی اورجس شدت کے ساتھ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوئی ، اس کی وجہ سے پاکستان میں بھی اشتعال آگیا۔ چنانچہ دوبارہ اس انجام سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ اب کی بار پاکستانی قیادت پہلے کی طرح وعدے کرکے بھول نہ جائے ۔ افغانستان کے ساتھ جو وعدے کئے گئے ہیں ، ان کو پورا کرنے کے لئے دن رات ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جائے ۔ اسی طرح افغان حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کئے گئے وعدوں کی تکمیل کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھے ۔ ماضی میں پاکستان افغانستان سے پہلے آپ ، پہلے آپ کہتا رہا جبکہ افغانستان پاکستان سے پہلے آپ ، پہلے آپ کہتا رہا۔ اب دونوں طرف سے رویہ یہ ہونا چاہئے کہ لو میں نے یہ کردیا ، اب آپ کی باری ہے ۔ اسی طرح ماضی میں پاکستان افغانستان کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتا رہا جبکہ افغانستان پاکستان کی مجبوریوں سے ۔ اب ہونا یہ چاہئے کہ پاکستان افغانستان کی مجبوریوں کا خیال رکھے اور افغانستان پاکستان کی مجبوریوں کا۔

اسی بارے میں: ۔  سابق صدر کی ڈائری

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔