محنت رائیگاں نہیں جاتی


یہ تحریر میری نہیں ہے،میں نے آپ کے افادہ کے لئے فیس بک سے اٹھائی ہے۔

اس وقت گوگل کے چیف ایگزیکٹو ’’سندرراجن پچائی،، ہیں، جن کا تعلق بھارت سے ہے۔ ان کی سالانہ تنخواہ پاکستانی روپے میں 2ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔ جو کہ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ تنخواہ لینے والے ملازم بھی ہیں۔ آئیے ان کے بارے میں دوستوں کو کچھ معلومات فراہم کرتے ہیں۔کہ ایک دو کمروں کے گھر میں چٹائی پر بیٹھ کر پڑھنے والا شخص کس طرح گوگل کا سی ای او بنا۔
سندر پچائی تامل ناڈو کے شہر مدورائی کا رہنے والا تھا جو کہ 12جولائی 1972کو پیدا ہوا۔اس نے غربت میں آنکھ کھولی، والد رگوناتھ پچائی الیکٹریکل انجینئر تھا لیکن خاندان کی آمدنی بہت محدود تھی، گھر دو کمروں کا فلیٹ تھا، اس فلیٹ میں اس کا ٹھکانہ ڈرائنگ روم کا فرش تھا، وہ فرش پر چٹائی بچھا کر بیٹھ جاتا تھا، وہ پڑھتے پڑھتے تھک جاتا تھا تو سرہانے سے ٹیک لگا کر فرش پر ہی سو جاتا تھا، ماں کے ساتھ مارکیٹ سے سودا لانا، گلی کے نلکے سے پانی بھرنا، تار سے سوکھے کپڑے اتارنا اور گلی میں کرکٹ کھیلنے والے بچوں کو بھگانا بھی اس کی ذمہ داری تھی، گھر کی مرغیوں اور ان کے انڈوں کو دشمن کی نظروں سے بچانا بھی اس کی ڈیوٹی تھی اور شہر بھر میں کون سی چیز کس جگہ سے سستی ملتی ہے، یہ تلاش بھی اس کا فرض تھا اور باپ اور ماں دونوں کی جھڑکیاں کھانا بھی اس کی ذمہ داری تھی۔ وہ بارہ سال کا تھا جب ان کے گھر ٹیلی فون لگا، اس فون نے اس کا کام بڑھا دیا، وہ فلیٹس کے اس پورے بلاک کا پیغامبر بن گیا، لوگ اس کے گھر فون کر کے بلاک کے دوسرے فلیٹس کیلئے پیغام چھوڑتے تھے اور وہ یہ پیغام پہنچانے کیلئے اٹھ کر دوڑ پڑتا تھا، وہ جوانی تک ٹیلی وژن اور گاڑی کی نعمت سے بھی محروم رہا، اس کا والد پوری زندگی کار نہیں خرید سکا لیکن آج وہ نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی آرگنائزیشن گوگل کا سی ای او ہے بلکہ وہ دنیا میں سب سے زیادہ تنخواہ لینے والا ملازم بھی ہے، اس کی سالانہ تنخواہ 20 کروڑ ڈالر طے ہو چکی ہے۔

بچپن میں وہ سال سال بھر دوسرے جوتے، تیسری شرٹ اور چوتھے پین کیلئے ترستا رہتا تھا۔ وہ بچپن، بچپن نہیں تھا، وہ محرومی کی ایک سیاہ داستان تھی۔ پچائی کو آج بھی یاد تھا جب اسٹینڈ فورڈ یونیورسٹی نے اسے ہوائی ٹکٹ بھجوایا تو اس کا والد ٹکٹ دیکھ کر حیران رہ گیا، وہ ٹکٹ اس کے والد کی سالانہ آمدنی سے بھی مہنگا تھا، اسے آج تک یہ بھی یاد تھا وہ کورس کی کتابیں مانگ کر پڑھتا تھا اور اپنے اسائنمنٹس ردی کے کاغذوں پر مکمل کرتا تھا، وہ بسوں کے ساتھ لٹک کر سفر کرتا تھا اور اسے صرف مذہبی تہواروں پر مٹھائی نصیب ہوتی تھی،اس نے گھسٹ گھسٹ کر چنائے سے بارہویں جماعت پاس کی، وہ اس کے بعد انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی خراگپور چلا گیا، اس نے وہاں ٹیوشنز پڑھا پڑھا کر میٹالرجیکل انجینئرنگ کی ڈگری لی، اس نے یہ ڈگری ٹاپ پوزیشن میں حاصل کی تھی چنانچہ دنیا میں ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی یونیورسٹی اسٹینڈفورڈ نے اسے وظیفہ دے دیا، وہ امریکہ چلا گیا، اس نے اسٹینڈفورڈ یونیورسٹی سے میٹالرجیکل انجینئرنگ میں ایم ایس کیا، وہ انجینئرنگ سے بڑا کام کرنا چاہتا تھا، 2004ء میں جب گوگل میں نوکریاں نکلیں تو اس نے اپلائی کر دیا، گوگل نے اسے پروجیکٹ مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ میں ملازمت دے دی، یہ ملازمت اس کیلئے نعمت ثابت ہوئی، سندر راجن پچائی اس یونٹ کا حصہ تھا جس نے ’’گوگل کروم،، کا منصوبہ شروع کیا، یہ منصوبہ 2008ء میں مکمل ہوا اور اس کے ساتھ ہی پچائی گوگل اور امریکہ دونوں میں مشہور ہو گیا، اس کا دماغ زرخیز تھا چنانچہ وہ گوگل کیلئے نئے نئے منصوبے بناتا رہا، گوگل کا ویب براؤزر ہو، اینڈروئڈ ہو یا گوگل ٹول بار، ڈیسک ٹاپ سرچ اور گوگل گیئرز یہ تمام پراجیکٹ سندر راجن پچائی نے مکمل کئے، ان منصوبوں سے گوگل کی آمدنی میں اضافہ ہوا، گوگل اس وقت دنیا کی امیر ترین کمپنی ہے، اس کی مالیت 554 ارب ڈالر ہو چکی ہے جبکہ اس کی سالانہ آمدنی 74 بلین ڈالر ہے، پاکستان کے کل غیرملکی قرضے 70 بلین ڈالر ہیں، گویا گوگل ایک سال میں دنیا کی واحد اسلامی جوہری طاقت کے کل قرضوں سے زیادہ رقم کماتا ہے، یہ کمپنی سٹینڈفورڈ یونیورسٹی کے دو طالب علموں لیری پیج اور سرجے برن نے 1996ء میں شروع کی، یہ دونوں اس وقت پی ایچ ڈی کے طالب علم تھے، گوگل کا مقصد انٹرنیٹ پر موجود مواد کو درجوں میں تقسیم کرنا اور اسے لوگوں کیلئے آسان بنانا تھا، گوگل 2000ء تک دنیا کا معتبر ترین سرچ انجن بن گیا، یہ کمپنی دنیا بھر سے نیا ٹیلنٹ تلاش کرتی رہتی ہے، سندر راجن پچائی بھی اس کی دریافت تھا، یہ نوجوان 1972ء میں تامل ناڈو میں پیدا ہوا، یہ 1993ء میں سٹینڈفورڈ یونیورسٹی پہنچا، 1995-96ء میں ایم ایس اور 2002ء میں ایم بی اے کیا، یہ زندگی میں بہت کچھ کرنا چاہتا تھا اور گوگل نے اسے یہ بہت کچھ کرنے کا موقع دے دیا، یہ اپنے دلچسپ آئیڈیاز کے ذریعے بہت جلد کمپنی میں اپنی جگہ بنا گیا، یہ تیزی سے ترقی کرتے ہوئے 10اگست 2015ء کو گوگل کا سی ای او اور لیری پیج کا نائب بن گیا، کمپنی نے اسے شیئر بھی دے دیئے، یہ اس وقت 60کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کے شیئرز کا مالک بھی ہے۔

گوگل نے پچائی کو فروری 2016ء کے دوسرے ہفتے 19 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تنخواہ کا چیک دیا، پچائی یہ چیک وصول کرتے ہی دنیا کا سب سے زیادہ معاوضہ لینے والا ’’سی ای او‘‘ بن گیا، ہم اگر انہیں پاکستانی روپوں میں تبدیل کریں تو یہ دوسو کروڑ روپے بنیں گے گویا تامل ناڈو کا 43برس کا ایک غریب جوان سالانہ دو سو کروڑ روپے تنخواہ لے رہا ہے اور غریب بھی ایسا جس نے 18 سال کی عمر تک فرش پر سو کر اور فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کی اور جو 12سال کی عمر تک ٹیلی فون اور امریکہ آنے تک ٹیلی وژن اور گاڑی سے محروم تھا اور جس کا پورا بچپن دوسرے جوتے، تیسری شرٹ اور چوتھے پین کو ترستے گزرا اور جو آج بھی ہندی لہجے میں انگریزی بولتا ہے اور اپنے گندمی رنگ کی وجہ سے دور سے پہچانا جاتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔