دنیا بھر کے گدھوں کو چین سے شدید خطرہ


گدھے کے جیلاٹین سے بننے والی یہ پڈنگ چینیوں میں بہت مقبول ہے

دنیا بھر میں گدھوں کی آبادی کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ اس کی وجہ چین میں ان کے چمڑے کی زبردست مانگ ہے جس کا وہ کھانے بنانے اور روایتی ادویات تیار کرنے میں استعمال کر رہے ہیں۔
گدھوں کا گوشت بھی چین میں مقبول ہیں لیکن چین میں ان کی تعداد کم ہو گئی ہے اور سپلائرز اس کی تلاش میں دوسری جگہوں کا رخ کر رہے ہیں۔ ان کی تعداد میں کمی کا ایک سبب ان کی افزائش نسل میں کمی بھی ہے۔

اس کے سبب بطور خاص غریب افریقی شہریوں کو شدید دقت کا سامنا ہے کیونکہ گدھے نقل و حمل اور کاشت کاری میں ان کی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔
گذشتہ چند سالوں میں بعض جگہ گدھوں کی قیمت دگنی ہو گئی ہے۔ جہاں چوروں کی چاندی ہے وہیں غریب کاشت کار نیا جانور خریدنے کے اہل نہیں ہیں۔

نیروبی کے باہر اونگاتا رونگائی کے 29 سالہ بھشتی اینتھونی ماپے وینیاما کے پاس چار سال تک ان کا گدھا کارلوس رہا۔
دو بچوں کے باپ اینتھونی نے کہا: ’میں نے گاؤں میں زمین خریدی، گھر خریدا، بچوں کی سکول فیس ادا کی اور اپنے کنبے کی دیکھ بھال کرتا رہا۔ ‘

اور یہ سب ان کے گدھے کے طفیل تھا۔ انھوں نے روتے ہوئے بتایا: ’ایک صبح میں جاگا تو کارلوس غائب تھا۔ میں نے اسے تلاش کیا تو اسے مردہ پایا اور اس کی کھال نکالی جا چکی تھی۔ ‘
اب اس نے کرایے پر ایک گدھا لے رکھا ہے اور تین یا چار ڈالر جو کچھ بھی وہ کماتا ہے اس میں سے اسے نصف اس گدھے کے مالک کو دینا پڑتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  ڈرامہ سیریل ”سنگ مر مر“ کا ریویو
گدھے کے جیلاٹین یا ایجیاؤ کی مصنوعات مختلف طرح کے محلول اور پیسٹ میں دستیاب ہے

گدھوں کی تجارت

برطانیہ کی ایک فلاحی تنظیم دا ڈنکی سینکچوئری کے مطابق ہر سال 18 لاکھ چمڑے کی تجارت ہوتی ہے لیکن اس کی مانگ ایک کروڑ ہے۔
حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق چین میں گدھوں کی تعداد سنہ 1990 میں ایک کروڑ دس لاکھ تھی جو کم ہو کر آج محض 30 لاکھ رہ گئی ہے۔
گدھے کے چمڑے کو ابال کر جو جیلاٹین ملتی ہے اس کی قیمت بازار میں 388 ڈالر فی کلو ہے اور اس کا چینی مصنوعات میں استعمال ہوتا ہے۔
یوگینڈا، تنزانیہ، نائجر، برکینا فاسو، مالی اور سینیگل نے گدھوں کی چیں برآمد پر پابندی لگا دی ہے۔

کینیا میں گوشت کے تین پلانٹس کی وجہ سے گدھوں کی مانگ اور قیمت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ایک پلانٹ میں روزانہ ڈیڑھ سو جانوروں کا گوشت تیار کیا جاتا تھا۔
ان کا گوشت اور چمڑہ حاصل کرنے سے قبل ان کے سر پر بولٹ گن ماری جاتی ہے۔
سٹار بریلیئنٹ ڈنکی ایکسپورٹ پلانٹ کے چیف ایگزیکٹو جان کاریوکی کہتے ہیں کہ ’کینیا ہی نہیں بلکہ افریقہ میں انھیں سب سے پہلے گدھوں کے گوشت کا پلانٹ کھولنے کا سرکاری پرمٹ ملا تھا۔ ‘
ان کے مطابق اب لوگ گائے سے زیادہ گدھے بیچ رہے ہیں۔

انھوں نے کہا: ’ہم چین سے خوش ہیں کیونکہ اس سے قبل گدھوں سے کوئی آمدنی نہیں ہوتی تھی اور اب لوگوں کو گدھوں سے بہت فائدہ ہو رہا ہے۔ ‘
چین کے خریدار ہر مرحلے پر نظر رکھتے ہیں تکہ اس مناسب طور پر تیار اور پیک کرنے کو یقینی بنایا جا سکے۔
لیکن جس طرح سے گدھوں کے ساتھ سلوک کیا جا رہا ہے اس پر تنقید ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں: ۔  حجاب کی تعلیمی پالیسی پر بدنیت دانشوروں کے چودہ سوال

برطانیہ میں گدھوں کے لیے کام کرنے والی تنظیم اور جنوبی افریقہ میں مبنی گروپ آکس پیکرز کے ماحولیاتی اور تحقیقاتی صحافیوں نے جانوروں کے ساتھ ناروا سلوک کی باتیں اٹھائی ہیں۔
دا ڈنکی سینکچوئری کے مائک بیکر نے کہا: ’گدھوں کو درپیش یہ سب سے بڑا بحران ہے۔ ہم لاکھوں گدھوں کو لے جاتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اور جس سطح پر ان کی تکالیف ہیں ایسا ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ ‘

گدھوں کو بھوکا رکھ کر مارا جا رہا ہے تاکہ ان کی جلد اتارنے میں آسانی ہو۔ لیکن مسٹر بیکر کا کہنا ہے کہ ’بین الاقوامی دباؤ کے اثرات اب دیکھے جا رہے ہیں‘ اور کئی ممالک نے چین کو گدھے اور اس سے تیار مصنوعات برآمد کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 959 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp