دلی وابستگی اورزمینی حقائق


آدم زاد بھی عجیب الفطرت مخلوق ہے ۔ اس کا بچپن چاہے کسی تاریک کٹیا میں بسر ہواہو مگر وہ اس دور کے سنگلاخ مناظر کو قلعی کر کے انہیں اپنے سنہرے ایام سے تعبیر کرتا ہے۔ گاہے ترقی کے بعد وہ اپنا ماضی چھپاتاہے۔ ایسے میں وہ اپنی شخصیت سے امارت یا عہدے کا ملمع اتار نا بھی نہیں چاہتا لیکن اپنی پسماندہ جنم بھومی میں جا کر جس جذباتی کیفیت سے دوچار ہوتا ہے ، اس کا اظہار کرنا بھی چاہے تو الفاظ کم پڑ جائیں۔ شایدیہ انسانی دائرہ خیال کے اسی کونے کا کوئی حصہ ہے ، جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ہر انسان اپنے خیال کی دنیا میں ایک کونہ ایسا چاہتا ہے جو صرف اسی کے لیے مخصوص ہو۔

سابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کا آبائی گائوں ”گاہ‘‘ ضلع چکوال میں ہمارے گائوں کے نزدیک واقع ہے۔ انہوں نے پون صدی قبل جس گائوں کے پرائمری سکول میں زمین پر بیٹھ کر ابتدائی کلاسیں پڑھیں اور جن کچی گلیوں اور کھلیانوں میں کھیلتے اپنا بچپن گزارا، وہ علاقہ آج بھی اتنا پسماندہ ہے کہ شام کے بعد ٹرانسپورٹ کا ملنا محال ہے۔ تقسیم ہند سے پہلے منموہن سنگھ کے بچپن میں جب یہاں سڑکوں، ٹرانسپورٹ اور بجلی جیسی سہولتوں کا تصور بھی نہیں تھا، اس دور میں اس علاقے کی پسماندگی کا اندازہ کرنا چنداں مشکل نہیں۔ منموہن سنگھ کی وزارتِ عظمیٰ کے دور میں گاہ سے ان کے ایک پرانے کلاس فیلو راجہ محمد علی ہندوستان جاکر ان سے ملے تھے۔ راجہ صاحب سکول کا پرانا رجسٹر حاضری ساتھ لے کر گئے تھے۔جب انہوں نے اس رجسٹر میں وزیراعظم کو ان کا نام اور حاضریاں دکھائیں تو ماضی کی یادوں کے چراغ جل اٹھے ۔ کسی حساس آدمی کے لیے منموہن سنگھ کی ان اندرونی کیفیات کو سمجھنا مشکل نہیں کہ اس وقت ان کے ذہن کے پردہ سکرین پر گاہ کی پرانی گلیوں، سکول اور کھیتوں کے مناظر چل رہے تھے ۔ تب انہوں نے وزارتِ عظمیٰ کا ملمع اتارے بغیر مسماۃ اللہ رکھی تک اپنے سارے کلاس فیلوز کے بارے میں پوچھا،جن کی اکثریت دارِ فانی سے کوچ کر چکی تھی۔ اگر منموہن سنگھ کے لیے اپنے منصب کا خول اتارنا ممکن ہوتا تو کچھ عجب نہیں کہ رفتگان کے اعزاز میں دل کے ساتھ ساتھ ان کی آنکھیں بھی بھر آتیں۔ انہوں نے بھارت سرکار کے خرچے پر گاہ میں سولر سسٹم اور پورے گائوں کے لیے روٹی پکانے کی مشین نصب کرائی، انسانوں اور جانوروں کے لیے ڈسپنسریاں، ہائی سکول اور سڑک تعمیر کرائی تو یہ بھی انہی دلی کیفیات کا شاخسانہ ہیں۔ سابق بھارتی وزیراعظم نے اپنے آبائی گائوں آنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا، حکومت پاکستان نے اس سلسلے میں ابتدائی انتظامات بھی کیے لیکن بوجہ ایساممکن نہ ہو سکا۔
تمہیدِ سنجیدہ ذرالمبی ہوگئی ۔اصل میں یہ عرض کرنا مقصود تھا کہ ہم ذاتی طور پر اپنے خیال کے اس کونے کی ”نقاب کشائی ‘‘ سے پرہیز کرنا چاہتے ہیں ۔ لیکن برا ہو اس سادگی کا کہ ہر دفعہ ہمارا عزم ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے۔ اس حرکت کے فوائد کم اور نقصانات زیادہ ہیں۔ تاریک ماضی آشکار کرنے سے ایک تو اپنی پسماندگی عیاںہوتی ہے اور دوسرے عمرِ عزیز کے بارے میں خواہ مخواہ شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔ گزشتہ برس بیٹھک کے صحن میں بیٹھے بیٹھے ہم شیطان کے بہکاوے میں آ گئے اور موضوع سخن کے اعتبار سے ڈینگ مار دی کہ جب ضیاء الحق نے بھٹو حکومت پر شب خون مارا تو ہم ساتویں جماعت میں پڑھتے تھے ۔ اس وقت فوراً ہی ہمیں اپنی غلطی کا احساس ہوا جب ہمارے ایک بھتیجے نے چونک کر کہا ”ہیں ! آپ اتنے پرانے ہیں؟ ‘‘ اس کے بعد ہم محتاط ہو گئے۔ ایک دن خاندان کے بچوں کی محفل میں ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ میں سے کسی نے چرخہ دیکھا ہے ؟ سب خاموش ہو گئے۔ ایک بچی نے دعویٰ کیا کہ اس نے یہ آلہ دیکھ رکھا ہے۔ ہم نے پوچھا ” کہاں ؟ ‘‘ اس نے جواب دیا ”ٹی وی پر ‘‘ … ہم نے ان سے ترینگل ، کرائی ، چکی ، بیلنا ، پینجا،گِرمالا، ڈھیرنا ، چھِکا، گھڑونجی اور کانس وغیرہ کا پوچھا مگر یہ سب الفاظ ان کے لیے اجنبی تھے ۔

ہم نے سوچا کہ وقت بھی کتنی ظالم شے ہے۔ کتنا پانی چپکے چپکے پلوں کے نیچے سے بہہ گیا اور ہمیں خبر بھی نہ ہوئی ۔ جو اشیاء دیہی وسیب کی جزو لاینفک تھیں، وہ یوں قصہ پارینہ ہوئیں کہ اگر ہمارے بچے انٹر نیٹ پر سرچ کریں تب بھی شاید ان میں سے زیادہ تر اشیاء کی زیارت سے محروم رہیں۔ ہماری محتاط طبیعت کا ملمع آڑے آیا ورنہ دل چاہا ، انہیں بتائیں کہ بچپن میں اسی حویلی میں ہر شب ہماری آنکھ دادی جان کے چرخے کی آواز سنتے لگی ہے اور ہر صبح گھر کی چکی کی آواز پر کھلی ہے۔ ہم انہیں یہ بھی بتانا چاہتے تھے کہ ہمارے بچپن میں بھی چرخہ ٹی وی پر آتا تھا مگرہم اسے سدا رو برو ہی دیکھ سکے کیونکہ گائوں میں بجلی نہیں تھی مگر ہم نے اپنے جذبات پر قابو پایا اور پرانا قرار پانے کے ڈر سے زیادہ سچ بولنے سے گریز کیا۔
تاہم جیسا کہ عرض کیا گیا،ہماری مایہ ناز سادگی کے طفیل اکثر یہ ملمع برقرار نہیں رہتا۔ ایک دن ہمارے بچوں نے اپنے تعلیمی معاملات پر بات کرتے ہوئے ہم سے ہماری ابتدائی تعلیم کی تاریخ کریدنا شروع کر دی ۔ ہم ایک دفعہ پھر شیطان کے بہکاوے میں آ گئے اور انہیں بتانا شروع کیا کہ جب ہم اس گائوں کے اکلوتے سرکاری پرائمری سکول میں داخل ہوئے تو ایک قاعدہ، تختی ، سلیٹ ، سلیٹی ، قلم دوات، ملیشیا کا سوٹ اور سینڈل کا جوڑا ہمارا کل اثاثہ تھا۔ اس سکول کی سرزمین کثیر المقاصد تھی جو درس و تدریس کے علاوہ بھیڑ بکریوں کے باڑے کے طور پر بھی استعمال ہوتی تھی۔ رات کو خدا کی ایک مخلوق جن کمروں میں آرام کرتی، دن کو تقریباً ویسی ہی ایک مخلوق وہاں زیورِ تعلیم سے آراستہ ہوتی۔ صبح جب ہم سکول پہنچتے تو مخلوق اول چرنے کے لیے روانگی کے مرحلے میں ہوتی۔ کیا عجب، ہمیں دیکھ کر ان کے جذبات اسد اللہ خان جیسے ہوتے ہوں کہ :
کہاں مے خانے کا دروازہ غالب ؔ اور کہاں واعظ
پر اتنا جانتے ہیں ، کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے

شعر تو خیر بچوں کے سر سے گزر گیا البتہ انکشافات ہذا سے ان کی نظروں میں ہمارا امیج خاصا کمزور ہوا۔ ہم نے اپنی شخصیت کے نمبر گھٹانے کی مشق جاری رکھتے ہوئے بچوں کو بتایا کہ ہمارا سکول تین چار بوسیدہ کمروں پر مشتمل تھا اورہماری کلاس کسب فیض کے لیے لہلہاتی فصلوں سے متصل سکول کے صحن میں بیری کے درخت کے نیچے بیٹھتی تھی۔ چونکہ سکول چار دیواری جیسے تکلفات سے پاک تھا ، لہٰذا اکثر گائوں کے کسان یا مسافر شارٹ کٹ استعمال کرتے ہوئے سکول کے مشرق سے طلوع ہوتے اور صحن پار کرتے مغرب میں غروب ہو جاتے۔ کبھی کبھار تو یوں بھی ہوتا کہ دو چار بکریاں یاکوئی گدھا چرتے چراتے سکول میں داخل ہوتے اور کلاسوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے ”سرِ عام‘‘ تعلیم حاصل کرتے بچوں پر ایک طائرانہ سی نگاہ ڈال کر دوسری طرف نکل جاتے۔ ایک اور انکشاف نے بھی ہمارا امیج خاصا خراب کیا کہ متوسط زمیندار برادری سے تعلق رکھنے کے باوجود ہمارے گھروں میں کسی کے پاس ریڈیو تھا اور نہ کبھی اس آلے کی ضرورت محسوس کی گئی ۔

اپنے تعلیمی دور سے جذباتی وابستگی اپنی جگہ مگر آج ہم آپ کو بتانا چاہتے ہیں کہ بدون چار دیواری اس سکول سے لے کر دو یونیورسٹیوں تک ، مسخ شدہ اور جعلی تاریخ تو ہم نے گھوٹ گھوٹ کر پی مگر تاریخ سے سبق حاصل کرنے کا کوئی قرینہ ہمیں نہ سکھایا گیا۔ ہمیں پیاسا کوا، لالچی کتا، چالاک لومڑی اور بے وقوف گدھا جیسی سبق آموز کہانیاں تو بہت رٹائی گئیں مگر انسانوں کے متعلق ہم نے ذرا کم ہی پڑھا ہے۔ سوال کرنے کی اجازت نہ تھی کہ تخریبی شور شرابہ نہیں بلکہ تعمیری خاموشی ہماری پہچان ہے۔ ہم نے ایسی نستعلیق اخلاقیات تو بہت سیکھیں مگر علم سے کوسوں دور رہے۔ البتہ اس تعلیمی تجربے کا اتنا فائدہ ضرور ہوا کہ ہم سرکاری صاحب بہادران کے نام بھیک مانگنے کے انداز میں نوکری کے لیے عرضیاں اور لغویات سے بھرپور محبوبہ کو خط لکھنے کے فن میں طاق ہو گئے۔ایک اور بات ہم نے یہ سیکھی کہ اپنے ماضی سے جذباتی وابستگی بجا مگر ہم ایسے طالبعلموں کی طرح کئی قوموں کا ماضی بھی خاصا شرمناک ہوتا ہے ۔ اس پر آئندہ کبھی بات کریں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔