ون وے ٹکٹ


عادل صاحب دوست ہیں اورکامیاب بزنس مین ہونے کے باوجود بے حد ذہین آدمی ہیں۔ باہم دوستی کی وجہ اُن کی تین ایسی باتیں جو مجھے بہت پسند ہیں۔ میوزک، ابن صفی اور خوش خوراکی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُن کی دولت اور وزن دونوں میں یکساں رفتار سے اضافہ ہوا ہے، حیرت کی بات مگر یہ ہے کہ وزن کم کرنے کے جتنے نسخے عادل صاحب کو پتہ ہیں اتنے پورے ہند سندھ میں کسی کو پتہ نہیں ہو سکتے۔ دوسروں کا وزن کم کروانے میں موصوف اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ کچھ عرصہ پہلے میں نے لگ بھگ آٹھ کلو وزن کم کیا اور یہ عادل صاحب کی ہی کاوش تھی کیونکہ جناب نے مسلسل ایک مہینہ کاؤنسلنگ کرکے میرا وزن کم کروایا۔ اس دوران جب بھی میرا کچھ کھانے کو دل کرتا تو میں موصوف کو فون کرتا اور ہر مرتبہ یہی پتہ چلتا کہ جناب یا تو وزیر آباد میں مچھلی کھا رہے ہیں یا پشاور میں چپلی کباب۔ ایسی بے لوث طبیعت کا آدمی اب خال خال ہی ملتا ہے۔ اگر موصوف کا کوئی کاروبار نہ بھی ہوتا تو مجھے یقین ہے کہ فقط سلمنگ سینٹر کھول کر ہی جناب کروڑ پتی بن جاتے۔ آج عادل صاحب کا تعارف کروانے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ پچھلے دنوں انہوں نے مجھے ایک انگریزی گانا بھیجا جس سے ایک پورا دور یاد آگیا، بول تھے ’’One way ticket to the blues‘‘۔

وہ لوگ جن کا لڑکپن اسّی کی دہائی میں گزرا ہے۔ انہیں یہ گانا نہیں بھول سکتا، اُس پورے دور کا والہانہ پن چھلکتا ہے اس گانے میں۔ 1983ہو یا2003 ، ون وے ٹکٹ ہو یا اٹس مائی لائف، کچھ خاص فرق نہیں ،ایک ہی بات ہے۔ دراصل ہر شخص اپنے زمانے میں لڑکپن اور جوانی کو تلاش کرتا ہے، اُن دوستوں کو اور اُن یادوں کو ڈھونڈتا ہے جب موج مستی کے دنوں میں کوئی فکر فاقہ نہیں ہوا کرتا تھا۔ سلطان راہی کی بکواس فلمیں محض اس لئے پسند آتی تھیں کہ اپنے یاروں کے ساتھ کالج کی کلاس چھوڑ کر رتن سنیما میں دیکھنے جایا کرتے تھے۔ اسّی کہ دہائی عجیب تھی یا شاید ہمیں عجیب لگتی تھی، بالکل اسی طرح جیسے ہم سے پچھلی نسل ستّر کی دہائی کو یاد کرکے آہیں بھرتی ہے اور اُس سے پہلے کے بزرگوں کو پچاس اور ساٹھ کا دور ہانٹ کرتا ہے۔ اسّی کی دہائی کی کچھ باتیں ایسی ہیں جو اُس زمانے کا ہی خاصہ ہیں، جیسے، جنرل ضیا، پی ٹی وی، ویڈیو گیمز، ٹیلی فون، ون ٹین کا کیمرہ، زرد اور سرخ تکون کے ڈیزائن کے شامیانے، شادی کی فلم بنانے والے، سلطان راہی ،وی سی آر، انٹینا، چترہار، ملی ترانے، نرالا کی مٹھائی اور ٹیلی فون پر عشق۔ لیکن ان تمام باتوں میں سے اگر کوئی ایک بات چننی ہو جو اِس پورے دور کی عکاسی کردے تو وہ جنرل ضیا کا مارشل لا ہے۔ یوں لگتا تھا جیسے یہ دور کبھی ختم نہیں ہوگا، ہم اسکول سے کالج اور کالج سے یونیورسٹی میں چلے جائیں گے مگر جنرل ضیا کہیں نہیں جائے گا، پی ٹی وی پر ڈرامہ 82، ڈرامہ 83، ڈرامہ 84شاید چل کے بند ہو جائے مگر جنرل ضیا کی تقریریں بند نہیں ہوں گی اور شامیانوں کا ڈیزائن شاید تبدیل ہو جائے مگر جنرل ضیا تبدیل نہیں ہوگا۔ جو لوگ ستّر کی دہائی میں پیدا ہوئے اور جن کا لڑکپن اسّی کی دہائی میں گزرا انہیں قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ جمہوریت کس چڑیا کا نام ہے، حکومتیں کیسے منتخب ہوتی ہیں، کیسے اپنی مدت پوری کرتی ہیں، کیسے انتخابات کے ذریعے نئی حکومت برسراقتدار آتی ہے، اپوزیشن کس بلا کا نام ہے، آزادی اظہار کیا چیز ہوتی ہے! ہم جب پیدا ہوئے تب بھی ملک میں ایمرجنسی نافذ تھی اور جب میٹرک کیا تب بھی ایمرجنسی ہی نافذ تھی اور ہمارا خیال تھا کہ یہی ’’نارمل‘‘ ہے۔ مجھے یاد ہے جب میں نے پہلی مرتبہ ایمرجنسی کے خاتمے کی خبر سنی تو سوچا کہ اس سے میری صحت پر کیا اثر پڑا، میں تو پہلے بھی وین پر اسکول جاتا تھا اب بھی ویسے ہی جاؤں گا۔ جس اسکول وین میں ہم آتے جاتے تھے وہ ’’انکل‘‘ کبھی کبھار جب موڈ میں ہوتے تو بھٹو صاحب کی تعریفیں کیا کرتے اور ہم حیران ہو کر اُن کی شکل دیکھتے کیونکہ ہم جس دور میں جی رہے تھے اُس میں یہ بات ہمیں بہت عجیب لگتی تھی، کبھی ہم نے یہ تصور ہی نہیں کیا تھا کہ کوئی دور ایسا بھی ہو سکتا ہے جس میں جنرل ضیا کے علاوہ کوئی حکمران ہو۔ جنرل ضیا کا دور ون وے ٹکٹ کی طرح تھا، اس سے واپسی کی کوئی صورت ممکن نظر نہیں آتی تھی۔ معاشرتی علوم کی کتابوں میں نظریہ پاکستان کا رٹا لگانے، افغان جہاد کے ثمرات یاد کرنے اور پھر تفریح کی غرض سے پی ٹی وی پر بنجمن سسٹرز کے گانے دیکھتے دیکھتے ایک دن ہمیں پتہ چلا کہ جنرل ضیا اب نہیں رہے۔ پہلے تو یقین ہی نہیں آیا اور جب یقین آیا تو یہ سمجھ نہیں آئی کہ اب ملک کیسے چلے گا۔ پھر کسی دانا نے وہ قول یاد دلایا کہ قبرستان ناگزیر لوگو ں سے بھرے پڑے ہیں ۔ باقی تاریخ ہے۔

جس طرح مجھ ایسے کچھ لوگ اسّی کی دہائی کو یاد کرکے خواہ مخواہ ناسٹلجک ہونے کی کوشش کرتے ہیں اسی طرح آج سے دس بیس برس بعد نوّے کی دہائی میں پیدا ہونے والے بھی ایسی ہی باتیں کیا کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو نوّے میں پیدا ہوئے اور جنرل مشرف کے مارشل لا کے دوران انہوں نے اپنا لڑکپن گزارا ۔ انہیں بھی اندازہ نہیں ہو پایا کہ جمہوریت کیا ہوتی ہے، آزادی کسے کہتے ہیں اور آئین کی بالادستی کس چڑیا کا نام ہے! انہوں نے وہی رننگ کمنٹری سنی جو ہم اپنے زمانے میں سنا کرتے تھے، فرق صرف اتنا ہے کہ ہم نے وہ پی ٹی وی پر اظہر لودھی کی زبانی سنی تھی جبکہ 1999کے بعد کی نسل یہ کمنٹری باجماعت اینکرز کی زبانی کورس کی شکل میں سنتی رہی۔ وہ دور بھی ون وے ٹکٹ کی طرح تھا جس سے واپسی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔ لیکن پھر اس چشم فلک نے وہ نظارہ بھی دیکھا جب خود کو ناگزیر سمجھنے والے آمر کو نہ صرف اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑا بلکہ ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔

1983ہو یا 2003،بدقسمتی سے ان تمام ادوار میں جو بات مشترک ہے وہ آمریت کی بدترین شکل ہے، ہمارے نوجوانوں کو یہ اندازہ ہی نہیں ہو پایا کہ جمہوریت، آئین اور قانون کی بالادستی کا تصور بھی کوئی معنی رکھتا ہے کیونکہ وہ ایک ایسی دنیا میں قید تھے جہاں انہیں یہی بتایا جاتا تھا کہ جمہوریت ہمیشہ جعلی ہوتی ہے اور آمریت ہمیشہ خالص ہوتی ہے۔ بتانے والے مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ آمریت ایک ون وے ٹکٹ ہے جس میں با عزت واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ کم از کم تاریخ تو یہی بتاتی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 140 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada