عابدہ پروین کی چند باتیں


عابدہ پروین سے ہماری ایک ملاقات ہے جو تقریباً بیس برس قبل ہوئی جب وہ ملتان گیریژن میں پرفارم کرنے آئی تھیں۔ یہ وہ دور تھا جب ان کے کریڈٹ میں بے شمار ایسے گیت تھے جو زبان زدِ عام ہو چکے تھے۔ اس ملاقات میں بھی سندھی لب و لہجے میں ہم سے باتیں کرتی رہیں۔ عاجزی، انکساری ان کی شخصیت کا خاصا ہے۔

رات گئے عسکری فیز 1 کے خوبصورت لان میں ان کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا گیا۔ مَیں نے اس محفل میں نظامت کے فرائض انجام دیے۔ ان کو سٹیج پر بلانے سے پہلے مَیں نے حاضرین کو بتایا کہ عابدہ پروین کے والد غلام حیدر کو موسیقی سے گہرا لگاؤ تھا۔ یہ لگاؤ آہستہ آہستہ عشق میں تبدیل ہو رہا تھا۔ گھر راگ رنگ کی محافل نے عابدہ پروین کو سُر کے قریب کر دیا تھا۔ والد محترم نے جب دیکھا کہ ان کی بیٹی موسیقی میں دلچسپی لے رہی ہے تو انہوں نے استاد سلامت علی خاں کی شاگردی میں دے دیا۔ 1972ءمیں پہلی مرتبہ ریڈیو پاکستان حیدرآباد کے ایک پروگرام میں شوقیہ گلوکارہ کے طور پر شرکت کی۔

پروگرام کے نوجوان پروڈیوسر غلام حسین نے جب عابدہ پروین کی آواز سنی تو اس نے عابدہ پروین کے گوہرِ یگانہ کو دیکھتے ہوئے یہ طے کر لیا اگر یہ لڑکی اس کی جیون ساتھی بن جائے تو اس کے شوق کو بامِ عروج تک لے جاؤں گا۔ غلام حسین نے اپنی اس خواہش کا اظہار عابدہ پروین کے والد غلام حیدر خان سے کیا تو انہوں نے سوچا کہ ایک ریڈیو پروڈیوسر ہی میری بیٹی کے اس شوق کو جِلا بخش سکتا ہے۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ آج سے تقریباً 20 برس قبل مجھے ریڈیو ملتان کے نامور براڈکاسٹر، افسانہ نگار اور نقاد علی تنہا کا فون آیا اور کہنے لگے مَیں آپ کے پاس ریڈیو پاکستان حیدرآباد کے سینئر اور موسیقی کے ماہر پروڈیوسر غلام حسین کو بھجوا رہا ہوں جو نامور گلوکارہ عابدہ پروین کے شریکِ حیات ہیں۔ ان کو اپنے خطے کے صوفی شعراءکرام کا کلام درکار ہے۔ کچھ لمحوں میں غلام حسین میرے پاس موجود تھے مَیں نے دستیاب کلام ان کے سامنے رکھا۔

 جیسے جیسے وہ کلام دیکھ رہے تھے۔ ان کے چہرے پر خوشی دیدنی تھی۔ زیرِ لب یہ بھی کہتے سنا کہ اس کلام کو جب عابدہ پروین کی آواز چھووے گی۔ فضا کا ماحول ہی تبدیل ہو جائے۔ مَیں دیر تک غلام حسین سے عابدہ پروین کے بارے میں باتیں کرتا رہا اور انہیں بتایا کہ عابدہ پروین نے جب ”ماہی یار دی گھڑولی بھردی“ گایا تو ان کی آواز کے حسن نے بتایا کہ گھڑولی بھرنا کسے کہتے ہیں۔ اسی طرح جب عابدہ پروین کی آواز میں شاہ عبداللطیف بھٹائی کا کلام سنتے ہیں تو سندھی کلام سمجھ نہ آنے کے باوجود ہمیں سمجھے آتا ہے۔ بھارت والے کہتے ہیں کہ مہدی حسن کے گلے میں بھگوان بولتا ہے جبکہ مَیں کہتا ہوں عابدہ پروین کی آواز میں برصغیر کے صوفیاءکے کلام کا وہ آفاقی پیغام بولتا ہے جو ہمیں سمجھ نہیں آتا لیکن یوں لگتا ہے جیسے وہ ہماری مادری زبان میں گا رہی ہیں۔

عابدہ پروین فن کے اُس مقام پر ہیں جہاں زبان چاہے کوئی بھی اور سُر کا آہنگ اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ وہ صرف پاکستان کا ہی نہیں بلکہ موسیقی کا ایک ایسا عہد ہیں جس کا کوئی ثانی نہیں۔ موسیقی سے عشق کا ثبوت ایک یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کا نام شاہ لطیف سے عقیدت کی وجہ سے ”سارنگ لطیف“ رکھا ہے۔ عابدہ پروین کو سندھی، سرائیکی، اُردو، پنجابی، بلوچی اور پشتو کلام گانے میں کوئی دقت نہیں ہوتی۔ وہ جس زبان میں بھی گائیکی کریں یوں لگتا ہے جیسے وہی زبان کی مادری زبان ہے۔ انہوں نے جب محمد ناصر کی یہ غزل گائی
جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے
سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے

تو ہر سننے والے نے یہی سمجھا کہ یہ کلام ناصر کاظمی کا ہے لیکن جب عابدہ پروین نے بتایا کہ یہ شاعر کراچی سے تعلق رکھتے ہیں تو محمد ناصر کی شہرت کو بھی چار چاند لگ گئے۔ عابدہ پروین کو صوبہ سندھ کے تمام ثقافتی اور حکومتِ پاکستان کی جانب سے تمام بڑے اعزازات مل چکے ہیں۔ بھٹائی کا پورا رسالہ انہیں ازبر ہے۔ اس لیے انہیں ”راگ کی رانی“ بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے شاہ لطیف اکیڈمی کے تحت ”شاہ جو رسالو“ کے تمام سُروں کی کیسٹ ریکارڈنگ بھی کرائی۔ شاہ لطیف کے کلام کے اُردو منظوم ترجمہ کو الگ سے ریکارڈ کرایا۔ ان کا شمار اب صرف ایک گلوکارہ کے طور پر نہیں ہوتا بلکہ وہ صاحب تصوف و صاحبِ کشف بزرگوں میں شمار ہوتی ہیں۔ نہ لباس کی پرواہ نہ چہرے پر خوبصورت ہونے کے لیے میک اپ کی تہہ۔ بالوں کا انداز بھی درویشوں جیسا۔ یہ عابدہ پروین کی وہ تصویر ہے جس کو ہم ایک عرصہ سے ٹی وی سکرین پر دیکھ رہے ہیں۔ ریڈیو پر مسحور کن آواز سن رہے ہیں اور حیران کن بات یہ ہے کہ جب ملک میں ڈسکو کا ڈنکا بج رہا تھا تب بھی عابدہ پروین اپنے صوفیانہ کلام کے ذریعے لاکھوں دلوں پر راج کر رہی تھیں۔ نعتیہ اور صوفیانہ کلام ان کے پسندیدہ کلام میں شمار ہوتے ہیں۔ اتنی شہرت ملنے کے باوجود ان کی روایتی سادگی میں کوئی فرق نہیں آیا۔ عابدہ پروین کو چند سال قبل جب دل کا دورہ پڑا تو ان کی صحت کے دُعائیں کرنے والوں میں لاکھوں شامل تھے کہ ان کی خوبصورت گائیکی لاکھوں دلوں پر راج کرتی ہے۔
(الف انعام، م بشر اور ع عابدہ پروین سے اقتباس۔ بشکریہ گردوپیش ڈاٹ کام)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔