کازو ایشی گورو۔ 2017 کا نوبل انعام یافتہ ادیب


ادب

5 اکتوبر 2017 کی صبح جب کرونیکل اوف وونڈ اپ کے خالق جاپانی ادیب ہیروکی مورا کامی کے چاہنے والے بے چینی سے ان کے نوبل انعام پانے کی خبر کا انتظار کر رہے تھے حیران رہ گئے جب یہ انعام ایک برطانوی ادیب کازو ایشی گورو کے حصے میں آگیا۔ میں نے اس کا نام گوگل سرچ میں ڈال کر کچھ معلومات اکھٹا کرنے کی کوشش کی تو مایوسی نے میرا دامن تھام لیا جہاں فارسی کی بے شمار سائٹس تو اس کے تذکرے سے بھری ہوئی تھیں لیکن اردو میں ذرہ بھر مواد ہاتھ نہ آیا، اپنی لاعلمی پر کف افسوس ملتے ہوئے بی بی سی اور گارجین کی ادبی سائٹس سے استفادہ کرنے پر اکتفا کیا۔

کازو ایشی گورو برطانوی ناول نگار ہے جو 8 نومبر انیس سو چون کو ناگا ساکی جاپان میں پیدا ہوا لیکن پانچ سال کی عمر میں ہی اس کے والد کو ماہر بحریات کی حیثیت سے برطانیہ میں نوکری مل گئی اور وہ اپنے خاندان سمیت 1960 میں برطانیہ منتقل ہو گیا ۔ برطانیہ کے تعلیمی اداروں سے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کازو ایشی گورو نے کینٹ یونیورسٹی سے فلسفہ اور انگریزی ادب میں ڈگری حاصل کی۔

ماسٹرز میں اس کا میدان تخلیقی تحاریر سے متعلق تھا جس میں پیش کیا جانے والا مقالہ ہی اس کے پہلے قابل ذکر ناول کی بنیاد بن گیا جو کہ دی پیل ویو اوف ہلز کے نام سے 1982 میں شائع ہوا اس ناول کو ونفرڈ میموریل ایوارڈ بھی ملا ۔ یہ ناول برطانیہ میں رہنے والی ایک ایسی جاپانی عورت کے بارے میں ہے جس کی جوان بیٹی دو ملکوں کے بیچ ایک خیالی زندگی گزارنے والے نوجوانوں کی طرح مایوسی سے دوچار ہو کر خود کشی کر لیتی ہے۔

1985 میں اس کا دوسرا ناول دی ریمینز اوف دی ڈے شائع ہوا اس ناول پر اسے بکر پرائز سے نوازا گیا اس ناول پر جو فلم بنائی گئی وہ بھی آسکر ایوارڈ کے لئے نامزد ہوئی اس مووی میں سر انتھونی ہاپکنز اور ایما تھامپس نے مرکزی کردار اداکیے ہیں یہ انیس سو تیس کے زمانے کی کہانی ہے جس کا مرکزی کردار ایک انگریز بٹلر اپنے مالک کے لئے اتنا وفادار ہوتا ہے کہ اپنے والد کے بستر مرگ پر ہونے کی خبر سن کر بھی ان سے ملنے کے بجائے اپنی مالک کی خدمت کو ترجیح دیتا ہے یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کا مالک ہٹلر اور نازیوں سے ہمدردی رکھتا ہے بٹلر اپنے مالک کے انتقال کے تیس سال بعد جب ایما تھامپسن یعنی گھریلو خادمہ سے ملتا ہے تو اپنی وفاداری پر پچھتاؤ ے کا اظہار کرتا ہے۔

نوبل انعام یافتہ ایشی گورو نے ناولوں کے علاوہ کئی فلموں اور ٹیلی ویژن کے لئے بھی اسکرپٹ لکھے ہیں ان سب کی کہانیوں کا مرکزی خیال وقت، پرانی یادیں اور خود فراموشی کی کیفیت کے گرد گھومتا ہے۔

نوبل انعام کا فیصلہ کرنے والی کمیٹی نے سب سے زیادہ اس کے تازہ ترین ناول دی بیریڈ جائنٹ کو سراہا جو 2015 میں سامنے آیا۔ یہ ایشی گورو کا ساتواں ناول ہے جس میں اس نے قصہ گوئی کی وہ تیکنیک استعمال کی ہے جس کے مطابق تھرڈ پرسن نیریٹر کہانی میں موجود تمام کرداروں کے جذبات اور محسوسات سے پوری طرح آگاہ ہوتا ہے اور انہیں اس طرح بیان کرتا ہے کہ قاری اپنے آپ کو اس انجان دنیا کا حصہ سمجھنے لگتا ہے جس کے بارے میں وہ کچھ بھی نہیں جانتا ہے۔

سویڈش اکیڈمی کی مستقل سکریٹری سارا ڈینیز اس کے اسلوب کے بارے میں کہتی ہے ایشی گورو کا انداز تحریر جین آسٹن، فرانسیسی مارسیل پراؤسٹ اور فرانز کافکا کا امتزاج ہے لیکن اس نے لطیف احساسات کی جو دنیا آباد کی ہے وہ اس کی اپنی ایجاد ہے۔ بی بی سی کا آرٹس ایڈیٹر ول گو مپرٹز کے مطابق کہنے کو تو سب ہی مصنف کہانیاں سناتے ہیں لیکن ایشی گورو کی کہانیاں ان سے ایک قدم آگے ہیں جو حقیقت تو ہوتی ہیں ان کا ماضی حال اور مستقبل بھی ہوتا ہے لیکن یہ قاری کو ایک اور ہی متوازی دنیا کی سیر کراتی ہیں جن کے بارے میں وہ نہیں جانتا کہ کہانی پڑھتے پڑھتے وہ کس جہاں میں چلا گیاہے ۔

میرے ذاتی خیال میں تو کازو ایشی گورو کا مختلف معاشرتی پس منظر اس کی کہانیوں میں ایک منفرد جہاں قائم کرنے میں مددگار ہے وہ مغربی معاشرے میں پروان چڑھنے کے باوجوداپنے آس پاس کی دنیا کو جس زاویہ سے دیکھتا ہے وہ کوئی چڑھتے سورج کی زمین سے طلوع ہونے والا تخلیقی ذہن ہی سوچ سکتا ہے اور یہ جاپانی نژاد برطانوی 2017 کا ادب کا نوبل انعام یافتہ تخلیق کار کازو ایشی گورو ہی ہو سکتا ہے جو عالمی ادب کو ایک نئی جہت سے روشناس کرانے میں کامیاب ہے۔
۔

Note:
Kazuo Ishiguro’s Prominent Novels:

1 The pale view of hills (1982)
2. An artist of the floating world (1986)
3. The remains of the day (1989)
4. The unconsoled (1995)
5. When we were orphans (2000)
6. Never let me go (2005)
7. The buried giant (2015)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔