انتخابی اصلاحات بل سے جمعیت علما اسلام (ف) کی لاعلمی حیرت انگیز ہے


روان ہفتے انتخابی اصلاحات بل کے مجوزہ ترامیم میں ختم نبوت کے حلف کو حذف کرنے کا موضوع زیر بحث رہا جس کی نشاندہی عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کی۔ انتخابی اصلاحات بل متعدد ترامیم کے ساتھ 22 اگست 2017 کو قومی اسمبلی سے ایسے وقت میں منظور کروایا گیا جب 342 ارکان کے ایوان میں 50 سے کم اراکین قومی اسمبلی حاضر تھے لیکن کسی رکن نے کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی تک نہیں کی۔ اپوزیشن جماعتوں اور جے یو آئی (ف) کی طرف سے مجوزہ 100 کے قریب ترامیم کو بھی مسترد کیا گیا تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے واک آوٹ کیا۔ اور اسی طرح اس مجوزہ انتخابی اصلاحات بل کو ایک ووٹ کی برتری سے سینیٹ سے پاس کروا دیا۔

انتخابی اصلاحات بل جسے 2014 کے اوائل میں قومی اسمبلی میں متعارف کروایا گیا اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں پارلیمانی پارٹیوں کے دونوں ایوانوں کے 33 ارکان پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے 90 دنوں کے اندر اپنی تجاویز اور سفارشات پیش کرنی تھیں اس کے علاوہ پارلیمانی جماعتوں کی متناسب نمائندگی میں ایک سب کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جو تجاویز، سفارشات اورمجوزہ ڈرافٹ پارلیمانی کمیٹی کو پیش کرے گی۔ لیکن مجوزہ انتخابی اصلاحات بل 90 دن کے بجائے 3 سال تک تعطل کا شکار رہا۔ بل پر 70 سے زائد اجلاس منعقد ہوئے اور بالآخر تقریبا 3 سال بعد نوازشریف کی نا اہلی کے سبب نظریہ ضرورت کے تحت ایمرجنسی بنیادوں پر حکومت نے مذکورہ بل کو ایوان زیرں اور ایوان بالا میں پیش اور پاس کروانے میں کامیاب ہوگئی۔

لیکن اصل کہانی تب شروع ہوئی جب عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے ختم نبوت سے متعلق حلف کو نامزدگی فارم سے حذف کرنے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ کہاں ہیں عطا اللہ شاہ بخاری کے وارث اور احرار کو ماننے والے آج کہ ان کی موجودگی میں ختم نبوت کا حلف فارم میں سے نکال لیا گیا ہے۔ اس کے بعد سوشل میڈیا الیکٹرانک میڈیا اور عوامی حلقوں میں ہل چل مچ گئی حکومتی وزراء اتحادی جماعتوں کے ارکان مذہبی سیاسی جماعتوں کے ارکان نے اس کی سختی سے تردید کی اور شیخ رشید کو کوستے رہے لیکن بلا آخر سب آٰئیں بائیں شائیں کرتے رہے کہ ہم نے یہ کیا وہ کیا لیکن ریکارڈ پر کچھ ثابت نہ کرسکے۔ حتی کہ جمعیت علما اسلام کے ایک رکن اور وفاقی وزیرنے تو شیخ رشید کے خلاف ایسی زبان استعمال کی جسے تحریر کرنا مناسب نہیں اور خود کوختم نبوت یا مذہب کا چوکیدار کہنے والے اس بے خبر وزیر موصوف نے اس حد تک کہہ دیا ہمارا ممبر اس کمیٹی کا رکن تھا ہمارے دستخط اس بل پر موجود ہیں شیخ رشید جھوٹ بول رہا ہے پتہ نہیں لوگ اس کے جھوٹ کو کیوں اعتبار دیتے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  گجراتی موسیقی اور مستی میں آئے نَجدی اونٹ

اس سارے عمل پر متعدد سوالا ت اٹھتے ہیں کہ تمام سیاسی جماعتوں کے وہ ارکین اسمبلی و سینیٹ اس کمیٹی کے اراکین تھے جو یا توپارٹی سربراہان ہیں یا طویل پارلیمانی تجربے کا پس منظر رکھنے والے ہیں آخر کیا وجہ تھی 70 سے زائد منعقدہ اجلاسوں میں بنیادی عقیدے کے متعلق کسی آئٹم سے متعلق انہیں خبر تک نہیں ہوئی اور انھوں نے من وعن فائینل ڈرافٹ پر دستخط کردئے؟ بالخصوص جمعیت علما اسلام ٖ(ف) کے ممبران پارلیمانی کمیٹی جو حکومتی اتحاد کا حصہ بھی ہے، مذہبی جماعتوں میں سب سے پاپولر مذہبی سیاسی جماعت بھی، ختم نبوت کو آئین اور حلف کو آئین کا حصہ بنانے میں کلیدی کرادار ادا کرنے والی پارٹی بھی اور اس کے ارکین پارلیمنٹ کی اسقدر لاتعلقی، بے خبر ی، قانون سازی کے عمل میں دلچسپی اور استعداد یا سودا بازی جیسے سوالات کی زد میں آتی ہے کیونکہ ان کے وزیر موصوف آخر دم تک فارم میں ختم نبوت سے متعلق حذف شدہ حصے یا ترامیم سے منکر تھے۔ مسلم لیگی وزرا اور وزیر قانون بھی اس کی تردید کرتے رہے اور بلآخر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اسے کلیریکل غلطی قرار دے کر پارلیمانی پارٹیوں سے صلاح و مشورے کے بعد حلف کو دوبارہ شامل کرنے اور الیکشن ریفارمز بل میں دوبارہ ترمیم کے ذریعے پارلیمنٹ سے پاس کروا دیا۔

لیکن مسئلہ یہاں ختم نہیں ہونا چاہیے اس کے محرکات اور اس کے پیچھے کارفرما ذمہ داروں کو ڈھونڈ نکالنے کی ضرورت ہے اس مسئلے کے محرکات کیا تھے اس کا محرک کون تھا الیکشن کمیشن سے پارلیمنٹ تک اس ترمیم میں الیکشن کمیشن سمیت کن لوگوں نے حصہ لیا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہوسکتی کہ ختم نبوت کا تعلق بنیادی عقیدے سے ہے تو یہ ذمہ داری صرف مذہبی سیاسی جماعتوں کی نہیں تمام اراکین اور سیاسی جماعتوں کی ہے۔ خصوصا مذہبی سیاسی جماعتوں جمعیت علما اسلام (ف) جو کہ حکومتی اتحاد کا حصہ ہے اوراسکے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان کرداروں کا کھوج لگائیں اور یہ بھی پتہ لگائیں کہ ان کے ارکین قومی اسمبلی اور سینیٹ اس اہم اور حساس نوعیت کے مسئلے سے کیوں بے خبر رہے اور انھوں کسی بھی فورم چاہے ہو میڈیا ہو پارلیمنٹ یا جماعتی فورم پر اس مسئلہ کو کیوں نہیں رکھا اوربل قومی اسمبلی سے پاس ہوکر سینٹ میں پیش ہوا تب بھی کسی رکن کو یہ خیال نہیں آیا اور آخر تک وہ اس کا دفا ع کرتے رہے۔

اسی بارے میں: ۔  کیا اداروں کی نجکاری بحرانوں کا حل ہے؟

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔